امریکی سینیٹروں کا مطالبہ: مقبوضہ جمّوں و کشمیر پر بھارت کی قبضہ پالیسی کی تحقیق کی جائے

امریکی سینیٹروں کی طرف سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام مراسلہ، مقبوضہ جمّوں و کشمیر پر بھارت کی قبضہ پالیسی اور ملک کے مسلمان مہاجرین کو شہریت قانون سے باہر رکھنے کے موضوعات پر تحقیق کی جائے

امریکی سینیٹروں کا مطالبہ: مقبوضہ جمّوں و کشمیر پر بھارت کی قبضہ پالیسی کی تحقیق کی جائے

امریکی سینیٹروں کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام ارسال کردہ مراسلے میں مقبوضہ جمّوں و کشمیر پر بھارت کی قبضہ پالیسی اور ملک کے مسلمان مہاجرین کو  شہریت قانون سے باہر رکھنے کے موضوعات پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر  لنڈسی گراہم اور ٹوڈ ینگ کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹ سینیٹر کرِس وان ہولن اور ڈِک ڈربن  کی طرف سے ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ بھارت کا مسلمان مخالف روّیہ تشویشناک ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مودی   حکومت کی طرف سے مقبوضہ جمّوں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے  کے بعد 6 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود علاقے میں انٹر نیٹ  کی ترسیل وسیع پیمانے پر بند ہے۔ بھارت  جمہوریت کی تاریخ میں اس وقت تک کا  پہلا ملک ہے جو 7 ملین  انسانوں کی، صحت کی سہولیات، روزگار اور تعلیم  تک رسائی کو بند رکھے  ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات سمیت سینکڑوں کشمیریوں کو   جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

مراسلے میں بھارت میں شہریت قانون کے رُو سے دیگر ممالک سے ہجرت کرنے والے  مہاجرین کو شہریت کا حق دینے لیکن مسلمان مہاجرین پر  اس قانون کا اطلاق نہ کرنے  کے موضوع کی تحقیق کا اور قانون سے باہر رکھی جانے والی اقلیتوں کی صورتحال سے متعلق رپورٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر بھارتی سکیورٹی فورسز  کی طرف سے انتہائی طاقت کے استعمال کی تحقیق کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

اس مراسلے کا، 24 تا 25 فروری  کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ملانیا ٹرمپ کے دورہ بھارت کا اعلان کئے جانے سے فوراً بعد تحریر کیا جانا مرکز توجہ بن رہا ہے۔



متعللقہ خبریں