حفتر فوج کے مصراتہ شہر پر حملے،سرکاری ٹھکانے نشانے پر

لیبیا میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے مصراتہ شہر میں وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے 20 ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا

حفتر فوج کے مصراتہ شہر پر حملے،سرکاری ٹھکانے نشانے پر

لیبیا میں فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے مصراتہ شہر میں وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے 20 ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا۔

لیبیا کی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مصراتہ میں فضائی اکیڈمی پر بمباری کی جبکہ شہر کے جنوب میں بھی فضائی یلغار کے نتیجے میں فضائی دفاعی کیمپ متعدد دھماکوں سے گونج اٹھا۔

اس دوران ذرائع نے بتایا کہ لیبیا کی فوج اور وفاق کی ملیشیاؤں کے درمیان طرابلس کے جنوب میں واقع علاقے وادی الربیع میں گھمسان کی لڑائی ہوئی ہے ۔

لیبیا کی فوج کے ایک عسکری ذریعے نے بتایا کہ فوج دارالحکومت طرابلس کے سب سے بڑے محلے ابو سلیم میں داخل ہو چکی ہے۔

 واضح کیا  گیا ہے کہ لیبیا کی فوج نے مسلح ملیشیاؤں پر تابڑ توڑ حملوں کے بعد ہوائی اڈے کے راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا بعد ازاں فوج نے پیش قدمی جاری رکھی اور طرابلس کے قلب میں واقع علاقے میں داخل ہو گئی۔

 لیبیائی  فوجی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا کہ کاروائی میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے اور آبادی والے علاقوں میں بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے تا کہ شہریوں کی جانوں اور املاک عامہ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اسی عسکری ذریعے کے مطابق لیبیا کی فوج نے دارالحکومت طرابلس کے علاوہ دو شہروں مصراتہ اور سرت کے گرد سیکورٹی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

  علاقے میں سرکاری اور نجی  شعبے کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی سلسلہ روک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں