چلی میں حکومت مخالف مظاہرے پر تشدد واقعات کی ماہیت اختیار کر گئے

اٹلی چوک میں تقریباً 75 ہزار مظاہرین نے پر امن مظاہرہ کیا ہے اور نا معلوم نقاب پوشوں نے  پر تشدد  کاروائیاں کرتے ہوئے افراتفری  پیدا کی

چلی میں حکومت مخالف مظاہرے پر تشدد واقعات کی ماہیت اختیار کر گئے

چلی میں میڑو کے کرائے  میں اضافے کے خلاف 6 اکتوبر کو چھڑنے والے حکومت مخالف مظاہرے پر تشدد مظاہروں کی ماہیت کے ساتھ جاری ہیں۔

ملک کے مختلف علاقوں میں عوام صدرِ مملکت سباستیان پنیرا  حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے زیر مقصد گلی کوچوں میں نکل آئے ہیں۔ دارالحکومت سان تیاگو میں ہزاروں افراد  اٹلی چوک پر مجمع لگایا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان مڈ بھیڑ ہو رہی ہے، مظاہرین آگ لگاتے ہوئے سیکورٹی قوتوں پر ٹھوس مادوں کی بارش کر رہے ہیں۔

چلی پریس نے لکھا ہے کہ اٹلی چوک میں تقریباً 75 ہزار مظاہرین نے پر امن مظاہرہ کیا ہے اور نا معلوم نقاب پوشوں نے  پر تشدد  کاروائیاں کرتے ہوئے افراتفری  پیدا کی ہے۔

 بعض مظاہرین نے لا اسنکیون کلیسہ میں لوٹ مار کرتے ہوئے کلیسہ کے فرنیچر کو پولیس کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے بیچ سڑک نذرِ آتش کر دیا ۔

کنسپسیون شہر میں ہونے والے مظاہرے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی ہونے کی اطلاع ہے۔



متعللقہ خبریں