شام میں طرفین کو مذاکرات میں کامیابی کے لیے ترکی اور روس کی معاونت لازمی ہے، دے مستورا

دستور ساز کمیٹی کا گزشتہ ہفتے جنیوا میں اجلاس اور طرفین کا ایک بار پھر یکجا ہونا "انتہائی اہم"  ہے

شام میں طرفین کو مذاکرات میں کامیابی کے لیے ترکی اور روس کی معاونت لازمی ہے، دے مستورا

اقوامِ متحدہ کے  سابق نمائندہ خصوصی برائے  شام  اسٹیفن دی مستورا   کا کہنا ہے کہ شام میں کسی مسئلے کے حل مذاکرات   کو  کامیابی سے ہمکنار  کرنے کے لیے طرفین  کو آمادہ کرنے کے معاملے میں   روس اور ترکی   کی ضرورت  پڑے گی۔

شام میں 8 برسوں سے زائد عرصے سے  جاری خانہ جنگی  کا سدِ باب کرنے کے زیر مقصد اقوام متحدہ  کے تیسرے  خصوصی نمائندے کے فرائض ادا کرنے والے اسٹیفن مستورا نے سی این این ٹیلی ویژن چینل  کو انٹرویو دیا۔

مستورا نے  زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دستور ساز کمیٹی کا گزشتہ ہفتے جنیوا میں اجلاس اور طرفین کا ایک بار پھر یکجا ہونا "انتہائی اہم"  ہے۔

روس کے شام میں اثرِرسوخ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دستور ساز کمیٹی  کے در حقیقت شامی  عوام کی نمائندگی کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مستورا نے بتایا کہ " شام میں 8 برسوں میں  15 ممالک جنگ میں شامل ہوئے   جن کا طرفین پر اثر رسوخ قائم ہے۔ خاصکر روس اور ایران ملکی انتظامیہ  سے قریب ہیں تو ترکی اور دیگر ممالک مخالفین  کے زیادہ قریب ہیں۔  لہذا کسی مسئلے کے حل مذاکرات کو کامیاب طریقے سے نتیجہ خیز بنانے کے لیے  ہمیں روس اور ترکی پر اعتماد کرنا لازم و ملزوم ہے۔

شام میں روس  کے کردار کے حد درجے اہم ہونے کی توضیح کرنے والے مستورا نے بتایا کہ روس  کی شام میں فوجی مداخلت نے  توازن اور 'کھیل کے اصولوں' کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔



متعللقہ خبریں