صدر کے دفتر کی جانب سے  امریکہ کی 2018 کی دہشت گردی کی رپورٹ پر شدید ردِ عمل

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو ایک بار پھر یہ یاد دلانا چاہیں گے کہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنے ہاں پناہ دینا دراصل  سانپ کو اپنے ہاں پناہ دینے  کی مانند ہے جو کسی وقت بھی ڈس سکتا ہے

صدر کے دفتر کی جانب سے  امریکہ کی 2018 کی دہشت گردی کی رپورٹ پر شدید ردِ عمل

 صدر کے دفتر کی جانب سے  امریکہ کی 2018 کی دہشت گردی کی رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

 صدر رجب طیب ایردوان کی زیر صدارت صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی '2018 کی دہشت گردی کی رپورٹ' کے بارے میں تحریری اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ   علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے ، وائی پی جی / پی وائی ڈی  اور فیتو   کو دہشت گرد تنظیموں  کے بارے میں رپورٹ میں کسی قسم کا ذکر نہ کرنا "دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ  امریکہ  جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر پوری دنیا میں سرگرم عمل ہے کی  اس رپورٹ کے بعد ، دہشت گردی کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔  

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ کو ایک بار پھر یہ یاد دلانا چاہیں گے کہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنے ہاں پناہ دینا دراصل  سانپ کو اپنے ہاں پناہ دینے  کی مانند ہے جو کسی وقت بھی ڈس سکتا ہے۔  

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ترکی سن  1984 سےبلا  تعطل   دہشت گرد  ی کے خلاف جدو جہد کرنے والے ملک  اور اس سے قبل  دنیا کی مختلف دہشت گرد تنظیموں جن میں دہشت گرد تنظیم اسالا بھی شامل ہے  کا  دنیا کے مختلف مقامات پر ہدف بنا ہے ۔

اعلامیے میں کہا اگیا ہے کہ "دنیا میں ترکی کی طرح  دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننے والے اور  ان حملوں  کو ناکام بنانے   اور دہشت گردی   کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے والے  چند ایک ممالک میں شامل ہے  ۔

اعلامیے کے مطابق ترکی دہشت گرد تنظیم پی کے کے اور  داعش کی طرح  پی وائی ڈی  اور فیتو  تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف  پورے  عزم کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گا۔

 

 

 



متعللقہ خبریں