میں شام میں کسی فریق کی طرفداری نہیں کرتا اور میرے صدر ایردوان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ شام میں داعش کے کارندوں اور ان کے خاندانوں کو طویل مدت تک اپنے کنٹرول میں نہیں رکھ سکتا

trump-erdogan.jpg

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے اطلاع دی ہے کہ شمالی شام میں ترکی کے ممکنہ آپریشن ہونے والے علاقے میں تعینات 50 امریکی فوجی  علاقے سے پیچھے ہٹ گئے  ہیں۔

ٹرمپ  نے اعلی سطحی حکام کے ساتھ وائٹ ہاوس میں  مذاکرات کے پریس کی موجودگی والے حصے میں اخباری نمائندوں کو شام  فیصلے پر اپنے  جائزات پیش کیے۔

امریکہ کے  شام میں ضرورت سے زیادہ طویل عرصے  تک رہنے کی وضاحت کرنے والے ٹرمپ  نے بتایا کہ "مذکورہ علاقے میں 50 امریکی فوجی متعین تھے  جنہوں نے اب اس علاقے سے انخلاء کر دیا ہے۔"

انہوں نے  امریکہ کے شام میں داعش کے کارندوں اور ان کے خاندانوں کو طویل مدت تک اپنے کنٹرول میں نہ رکھ سکنے پر زور دیتے ہوئے کہا  کہ لیکن ہمیں بیک وقت یورپی ممالک پر  اعتماد کرنا چاہیے۔ داعش  کے جنگجووں کی حرکات و سکنات کو کنٹرول میں لینے  کے لیے ایران، عراق، ترکی،شام ، روس اور دیگر بعض ممالک پر اعتماد  کرنا لازمی ہے۔

شام فیصلے کے حوالے سے فوجی حکام   سے منظوری لینے یا نہ لینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ  نے  کہا کہ "ہمیں  اپنے فوجیوں کو واپس گھر بلا لینا چاہیے، ہم وہاں پر جنگ نہیں کر رہے صرف پولیس کا کام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے علاوہ ازیں اتوار کی شام صدر رجب طیب ایردوان سے ٹیلی فون پر بات چیت    کرنے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا  کہ  انہوں نے صدر ایردوان  سے کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ شام  میں ہر کس با احترام  موقف کا مظاہرہ کرے گا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں منعقدہ امریکہ اور جاپان  کے مابین تجارتی معاہدے پر دستخظ تقریب  کے بعد بھی  بیان میں  کہا ہے کہ شام  کے بارے میں ہمارا فیصلہ درست ہے۔  میں شام میں کسی فریق کی طرفداری نہیں کرتا   اور میرے صدر ایردوان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔



متعللقہ خبریں