جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی کا الرٹ جاری کردیا

عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کشمیر میں ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا ہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت پر اکسایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں

جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی کا الرٹ جاری کردیا

امریکا کی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کشمیر میں ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا ہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت پر اکسایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، وادی میں کئی لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور مسلمان اکثریتی ریاست پر اقلیتی ہندو فوج کی حکمرانی ہے، ایسے میں مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہوسکتا ہے۔

جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کی وارننگ دیں، بی جے پی رہنما کشمیر کے ’آخری حل‘ کی باتیں کررہے ہیں جو قتل عام کی تیاری کا اشارہ ہے۔

ینوسائڈ واچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جنسی زیادتی، تشدد اور جبری قید کا سلسلہ جاری ہے، مسلمان رہنماؤں کو جلا وطن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مواصلاتی نظام معطل ہے جبکہ لوگوں کی نقل و حرکت اور میڈیا پر پابندی لگادی گئی ہے۔

عالمی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے 10 مراحل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمان شہریوں کے مقابلے میں جدید اسلحے سے لیس 6 لاکھ ہندو اور سکھوں پر مشتمل بھارتی فوج ہے، بھارتی فوج نے 2016 سے اب تک 70 ہزار سے زائد کشمیری شہید کیے، مقبوضہ جموں کشمیر میں 1990 تک ہندو پنڈت معاشی طورپر حاوی تھے، بی جے پی نے 5 سال پہلے اقتدار میں آ کر ہندوؤں کو دوبارہ مضبوط کیا، جبکہ مسلمانوں کو دہشتگرد، شرپسند، علیحدگی پسند اور جرائم پیشہ بنا دیا گیا۔

سن 2019کی رپورٹ میں قابض بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں روز بروز اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی دوسری سالانہ رپورٹ میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پچاس سال قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی جس پر اقوام متحدہ نے بھارت کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کی ہدایت کی تھی جسے بھارت کی طرف سے وقتی طور پر تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر بھارت کا یہ اقرار محض دکھاوا تھا اور درپردہ اس نے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ہی بدلنے کی کوشش شروع کر دی تا کہ اس مسلم اکثریتی ریاست کو آئینی طور پر بھارت میں ضم کیا جا سکے۔

دریں اثنا امریکی کانگریس وومن Yvette Clarke نے کشمیر کی صورتحال کو تشیویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور مذہبی تعصب کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ مسئلہ کشمیر آنیوالے دنوں میں امریکی کانگریس کے لئے اہم ترین ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں۔

امریکی جریدے فوربز نے اپنے مضمون میں لکھا کہ کشمیر کی خودمختاری سے متعلق فیصلے پر بھارتی حکومت نے کشمیر کی اسمبلی سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ غیر آئینی طریقے سے کشمیریوں کی سیاسی آزادی صلب کی گئی۔

فوربز میگزین نے لکھا کہ خود مختار ریاست سے اس کا درجہ کم کرکے وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا۔



متعللقہ خبریں