صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادیں ویٹو کردیں

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مئی میں سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا کہا تھا اور ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیا تھا

1243023
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادیں ویٹو کردیں

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قراردادیں ویٹو کردیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مئی میں سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا کہا تھا اور ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران کی دھمکیوں کے باعث امریکا اپنے دو اتحادیوں کو 8 ارب 10 کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ممبر ایلیٹ اینجل نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کی قرارداد کو ویٹو کرنے کا واضح مطلب ہے کہ امریکی اقدار بالخصوص حقوق انسانی اب ہماری خارجہ پالیسی میں شامل نہیں ہے۔

امریکی صدر کی طرف سے ویٹو کئے جانے کے بعد اربوں ڈالر کا اسلحہ سعودی عرب اور عرب امارات کو فروخت کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

امریکی کانگریس نے عرب ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے خلاف تین قراردادیں پاس کی تھیں، اراکین کانگریس عرب ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے سخت مخالف ہوچکے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مئی میں سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا کہا تھا اور ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ویٹو پاور استعمال کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں پہلی بار اپنی ویٹو پاور کا استعمال  اس وقت کیا جب انہوں نے  کانگریس کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف منظور کردہ قرار داد کو ویٹو کیا تھا۔

دوسری مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی جنگ میں امریکا کی شرکت کے خلاف کانگریس کی طرف سے  منظور کردہ مسودۂ قانون کو ویٹو کردیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ویٹو پاور استعمال کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔



متعللقہ خبریں