عالمی مسلمان علماء کا عرب ممالک سے احتجاج

مذکورہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے عرب حکام نے  اسرائیل کی تمام تر کرتوتوں  القدس  اوردریائے  اردن کے مغربی کنارے سمیت  متعدد علاقوں کا محاصرہ کرنے کو فراموش کیا ہے

عالمی مسلمان علماء کا عرب ممالک سے احتجاج

عالمی مسلمان علماء کی یونین نے ممالک کےمتعدد  حکام کی فلسطینی سرزمین پر قبضہ جمانے والے  اسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کی مذمت ہے۔

 یونین کی جانب سے جاری کردہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ  پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں  تیرہ تا چودہ فروری منعقدہ " مشرق وسطیٰ میں امن اور اس کا تحفظ" نامی  کانفرنس میں عرب ممالک سے بھاری تعداد میں  حکام نے  فلسطینی سرزمین اور القدس  پر قبضہ،  معصوم شہریوں کا قتل،  فلسطینی شہروں کا محاصرہ اور امریکہ کے تعاون سے اپنے ملک اور القدس  کو ایک یہودی علاقہ بنانے  والے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔

 اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے،ہمیں اس حرکت پر سخت افسوس ہوا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، مذکورہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے عرب حکام نے  اسرائیل کی تمام تر کرتوتوں  اور القدس  اوردریائے  اردن کے مغربی کنارے سمیت  متعدد علاقوں کا محاصرہ کرنے کو فراموش کیا ہے۔

اعلامیہ میں اس طرف بھی  اشارہ کیا گیا ہے کے بعض عرب حکام نے سفارتی بیانات کے ذریعےقابض اسرائیل فلسطین اور شام میں غیر انسانی فعل  کی منظوری دی ہے اور مقبوضہ علاقوں میں مزاحمت کاروں کی کاروائیوں کی مذمت کی ہے۔

اعلان  میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ حرکات امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے پر آمادہ کرنے کا مقصد رکھتی ہیں،  یونین نے فلسطین  اور القدس کے دعوے سے پیچھے نہ ہٹنے کی اپیل کی ہے ۔



متعللقہ خبریں