امریکہ اور چین کا فوری طور پر نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ

چین نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے یکم جنوری سنہ 2019 سے کسی نئے محصول کے نہ لگانے پر رضامندی ظاہر کی ہے

امریکہ اور چین  کا فوری طور پر نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ

امریکہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے نئے تجارتی محصول پر 90 دنوں کے لیے روک لگانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اس بابت گفتگو ہو سکے۔

 یہ اتفاق رائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چین کے ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں طے پایا ، دونوں رہنماوں نے بیونس آئرس میں گروپ بیس کے سربراہ اجلاس کے بعد ملاقات کی جو رواں سال شروع ہونے والی تجارتی جنگ کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

 چین نے کہا کہ ہم اگلے ماہ کی یکم تاریخ کے بعد کوئی نئے تجارتی ٹیکس نہیں لگائیں گے۔

امریکہ نے جولائی کے بعد سے چین کی مصنوعات پر 250ارب ڈالر کے محصولات عائد کئے جبکہ اس کے جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر 110 ارب ڈالر مالیت تک ٹیکس لگایا۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

چین نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے یکم جنوری سنہ 2019 سے کسی نئے محصول کے نہ لگانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس سے قبل س ہفتے کے روز کو جی 20 کے اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں تجارت میں جاری تفرقے پر روشنی ڈالی گئی لیکن اس میں پروٹیکشنزم یعنی ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام پر کوئی تنقید نہیں کی گئی۔

اس سے قبل چین کے سرکاری ٹی وی نے کہا: 'یکم جنوری کے بعد سے کوئی اضافی محصول نہیں لگے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔'

گذشتہ مہینوں کے درمیان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اربوں ڈالر کے ساز و سامان پر محصول لگایا ہے۔ امریکہ نے جولائی سے چین سے درآمد ہونے والے ڈھائی ارب ڈالر کے سامان پر محصول لگایا جس کے جواب میں چین نے 110 ارب ڈالر کے امریکی ساز و سامان پر محصول عائد کیا۔



متعللقہ خبریں