یورپی ملکوں کے انسداد دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر کڑی نکتہ چینی

سن   2016 میں فرانس اور  جرمنی میں  دہشت گرد کاروائیوں کے بعد    ہنگامی طور پر اٹھائے گئے   اقدامات   اس غلط عمل درآمد کی  عکاسی کرتے ہیں

653847
یورپی ملکوں کے انسداد دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر کڑی نکتہ چینی

 

بین الاقوامی  معافی تنظیم  نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ    یورپی یونین  ممالک  میں  انسداد  دہشت گردی کے حوالے سے  اقدامات  غیر متوازن  اور تفریق  بازی  پر مبنی   ہیں۔

تنظیم کی جانب سے  جاری کردہ ایک رپورٹ میں     یورپی یونین    میں  دہشت گردی کے خلاف جدوجہد   کے حوالے سے اقدامات پر عمومی طور پر  نکتہ چینی کی گئی ہے۔

یورپی یونین  کے ملکوں  میں سیکورٹی پالیسیوں  کے  خطرناک اور   غیرمتوازن ہونے   پر زور  دینے والی رپورٹ میں  واضح کیا گیا ہے کہ   سن   2016 میں فرانس اور  جرمنی میں  دہشت گرد کاروائیوں کے بعد    ہنگامی طور پر اٹھائے گئے   اقدامات   اس غلط عمل درآمد کی  عکاسی کرتے ہیں، جو کہ    بنیادی انسانی آزادی کے    ماحول  کو زد پہنچا رہے ہیں۔

فرانس  میں ہنگامی  حالت کے  نفاذ   میں توسیع پر   بھی  تنقید کرنے والی رپورٹ میں    اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ  عدالت  فیصلے کے بغیر ہی اس ملک میں  مکانات  پر  چھاپے مارے جا رہے ہیں اور   جلسے  جلوسوں پر  پابندی عائد کی گئی ہے۔

فرانسیسی عدالتوں کی جانب سے سن  2015 میں 385 افراد کو "دہشت گردی کی پذیرائی کرنے" کے الزام میں  سزائے قید  سنائے جانے کو  بھی  رپورٹ میں  غیر متوازن   عمل درآمد   کے تحت پیش کیا گیا ہے۔

اس تنظیم نے ماہ  نومبر کی رپورٹ میں یورپی یونین کی مہاجر پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔

 

 



متعللقہ خبریں