حوجہ لی قتل عام کی یاد میں

25 اور 26 فروری 1992 کی رات کو روس –آرمینی مسلح افواج نے حوجہ لی پر حملہ کرتے ہوئے نسل کشی کی۔ فروری کی سرد رات کو 63 بچوں ، 106 خواتین ، 70 عمر رسیدہ کل 613 افراد کو قتل کردیا گیا

440690
حوجہ لی قتل عام کی یاد میں

انسانی تاریخ پر جب ایک نگاہ ڈالی جاتی ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور موجود ہے جب کوئی جنگ ، ہلاکت خیزی اور اضطراب نہ دیکھا ہو۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تمام تہذیبوں پر مشتمل پانچ ہزار سالہ دور میں 150 ملین سے زائد افراد جنگوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں 73 فیصد افراد بیسویں صدی میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ موجودہ تین ہزارویں سال کے اس دور میں کوئی دن ایسا نہیں ہے جس دن کوئی جنگ نہ ہوئی ہو۔

ان ہونے والی جنگوں میں بڑے پیمانے پر انسانی جرائم بھی دیکھنے کو ملے ہیں جن پر کسی صورت بھی آنکھیں نہیں موندیں جاسکتی ہیں۔26 فروری 1992ء میں آذربائیجان کے شہر قارا باغ کے علاقے حوجہ لی میں بڑے پیمانے پر ہونے والا قتلِ عام انسانی تاریخ میں نسل کشی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حوجہ لی قتلِ عام یا نسل کشی قارا باغ جنگ میں سیاہ ترین باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ٹریجڈی صرف قارا باغ کے گردو نواح ہونے والے واقعے ہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ کاکاکیشیا کے علاقے کو بڑی طرح متاثر کرنے والے واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔

25 اور 26 فروری 1992 کی رات کو روس –آرمینی مسلح افواج نے حوجہ لی پر حملہ کرتے ہوئے نسل کشی کی۔ فروری کی سرد رات کو 63 بچوں ، 106 خواتین ، 70 عمر رسیدہ کل 613 افراد کو قتل کردیا گیا ۔ اس نسل کشی میں آٹھ خاندان کا مکمل صفایا کردیا گیا جبکہ 1275 افراد کو حراست میں لے لیا گیا اور 150 افراد لاپتہ ہوگئے۔ قیدی بنائے جانے والے اور لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں آج تک کوئی خبر نہیں ہے۔ ہلاک کیے جانے والے عمر رسیدہ افراد، خواتین کی نعشوں کی شناخت ناممکن ہو چکی تھی۔ نسل کشی کا یہ واقعہ صرف آذربائیجان کے خلاف نہیں بلکہ پوری انسانیت، بین الاقوامی امن کے خلاف ایک جرم ہے۔

حوجہ لی کے واقعے تک قارا باغ میں رونما ہونے والا یہ واقعہ دراصل آرمینیا کی آذر بائیجان کے خلاف نسل کشی کی پالیسی کی واضح دلیل ہے ۔ آرمینیا نے حوجہ لی کا محاصرہ کرتے ہوئے سویلین کو شہر ترک کرنے کا موقع ہی فراہم نہ کیا جس سے آرمینیا کی نسل کشی کی پالیسی کی وضاحت ہوتی ہے۔ نسل کشی کے اس واقعے کے دو دن بعد ہی اس علاقے تک رسائی حاصل ہوئی اور جب لوگوں نے اس منظر کو دیکھا تو دیکحںے والون کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔

اس وقت بھی آرمینی دہشت گردی روس کے تعاون سے علاقے میں جاری ہے اور علاقے میں نسلی صفایا کیا جا رہا ہے جو کہ دنیا مین امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس سے بین الاقوامی ہیومن ازم کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ آرمینیا کے تمام ہی شعبوں میں روس کا محتاج ہونے کی وجہ سے روس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکا ہے۔

موجودہ دور میں آذربائیجان، حوجہ لی نسل کشی کو دنیا بھر سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی بھر پور کوششیں صرف کررہا ہے۔ اس نسل کشی کو دنیا بحڑ سے اگاہ کرنے کے لیے حید ر علی فاونڈیشن کی ڈپٹی چئیر پرسن لیلیٰ علی ایوہ کی کوششوں سے 2008 سے دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں حوجہ لی قتلی عام کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔ موجودہ دور میں حوجہ لی قتلِ عام کے بارے میں پاکستان، میکسیکو، پیرو، جمہوریہ چیک، کولمبیا، بوسنیا ہر ز گوینا کے ممالک کی پارلیمینٹوں اور متحدہ امریکہ کی 20 ریاستوں کی جانب سے حوجہ لی نسل کشی کو تسلیم کیا جانا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ حوجہ لی قتلِ عام کے بارے میں دنیا بھر کو متعارف کروانے کے لیے پیش کی جانے والی دستخطی مہم پر لاکھوں افراد نے دستخط کیے ہیں۔

آذر بائیجان دنیا بھر کی نظروں کے سامنے کیے جانے والے اس قتلِ عام پر کبھی بھی کاموشی اختیار نہیں کرے گا بلکہ اس نے دنیا بھر کو اس قتلِ عام سے اگاہ کرنے کے لیے اپنی اس مہم کو تیز تر کردیا ہے اور آرمینیا کے اصلی چہرے کو دنیا کو دکھانے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

تحریر: جوان شیر فیضی ایف

جمہوریہ آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ



متعللقہ خبریں