برطانوی پارلیمنٹ میں 13 مسلمان اسمبلی ممبر

برطانیہ میں 7 مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں برطانوی پارلیمنٹ کے لئے 8 خواتین سمیت 13 مسلمان اسمبلی ممبر منتخب ہوئے ہیں

269838
برطانوی پارلیمنٹ میں 13 مسلمان اسمبلی ممبر

برطانیہ میں 7 مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں برطانوی پارلیمنٹ کے لئے 8 خواتین سمیت 13 مسلمان اسمبلی ممبر منتخب ہوئے ہیں۔
لیبر پارٹی سے 9، کنزرویٹو پارٹی سے 3 اور اسکاچ نیشنل پارٹی سے 1 مسلمان امیدوار اسمبلی ممبر منتخب ہوا ہے۔
اسکاچ نیشنل پارٹی سے اور کنزرویٹیو پارٹی سے پہلی دفعہ مسلمان خواتین ممبران پارلیمنٹ میں داخل ہوئی ہیں اور سب سے زیادہ مرکز توجہ بننے والی کامیابی مغربی بریڈ فورڈ میں لیبر پارٹی سے ناز شاہ کی رسپیکٹیو پارٹی لیڈر جارج گالوے کے خلاف حاصل کردہ کامیابی ہے۔
ناز شاہ فلسطین حامی نظریات کی حامل ہیں اور علاقے میں اس سے قبل بھاری حمایت والے گالووے کے مقابلے میں 11 ہزار 420 زائد ووٹوں کے ساتھ اسمبلی ممبر منتخب ہوئی ہیں۔
برطانوی مسلمانوں سے متعلق قدیم ترین ماہانہ اخبار مسلم نیوز کے ایڈیٹر احمد ورثی نے کہا ہے کہ ووٹوں کی یہ تعداد اب تک کی بلند ترین تعداد ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 13 مسلمان اسمبلی ممبران کا پارلیمنٹ میں داخل ہونا ایک بہت اچھی خبر ہے لیکن آبادی کی مختلف اقسام پر غور کیا جائے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہاوس آف کامنز میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہو گئی ہے۔
چھ سو پچاس ممبران پر مشتمل برطانوی پارلیمنٹ کی زیریں شاخ ہاوس آف کامنز میں سال 2010 کے عام انتخابات میں 8 مسلمان منتخب ہوئے تھے۔
ملک میں تقریباً 2 ملین 8 لاکھ مسلمان مقیم ہیں اور یہ تعداد کل آبادی کا 4.4 فیصد ہے۔
سات مئی بروز جمعرات کو منعقدہ انتخابات میں 331 اسمبلی ممبران کے ساتھ ڈیوڈ کیمرون کی زیر قیادت کنزرویٹو پارٹی نے تنہا اقتدار بنانے کا صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
انتخابات میں ناکامی کے بعد لیبر پارٹی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور یونائٹڈ کنگڈم آزاد پارٹی کے چئیر مین مستعفی ہو گئے ہیں۔


ٹیگز:

متعللقہ خبریں