آذربائیجان: آرمینی، علاقے سے انخلاء کے دوران عمارتوں اور جنگلات کو نذرِ آتش کر رہے ہیں

ستائیس سالہ قبضے کے بعد کیل بیجیر سے نکلتے ہوئے آرمینیوں نے مکانات، سرکاری عمارتوں اور جگلاتی اراضی کو نذرِ آتش کر دیا

1527912
آذربائیجان: آرمینی، علاقے سے انخلاء کے دوران عمارتوں اور جنگلات کو نذرِ آتش کر رہے ہیں

روس کی ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی رُو سے 27 سالہ قبضے کے بعد کیل بیجیر سے نکلتے ہوئے آرمینیوں نے مکانات، سرکاری عمارات  اور جگلاتی اراضی کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا اور روسی نیوز سائٹ سے نشر ہونے والے ویڈیو مناظر میں کیل بیجیر کے مختلف علاقوں میں مقیم آرمینی علاقے سے نکلنے سے پہلے بعض عمارتوں کو نذرِ آتش کرتے اور بعض کی توڑ پھوڑ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ویڈیو میں آرمینی، 27 سال قبل آذریوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے گھروں کے کھڑکیاں دروازے توڑ کر انہیں آگ لگاتے نظر آ رہے ہیں۔ صرف گھروں کو نہیں اسکولوں اور درختوں تک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ آذربائیجان کے مغرب میں آرمینی سرحد پر واقع پہاڑی قارا باغ  کے شمال مغربی علاقے کیل بیجیر پر 1993 کو قبضہ کیا گیا۔

کیل بیجیر کے مرکز اور 128 دیہات میں مقیم تقریباً 60 ہزار آذری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

آرمینیا نے قبضے سے پہلے علاقے کے مختلف حصوں میں غیر قانونی   شکل میں آرمینی شہریوں کو آباد کیا اور 1993 میں علاقے پر  قبضہ کر لیا تھا۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 10 نومبر کو طے پانے والے سمجھوتے کی رُو سے آرمینی فوج کا آج بروز 15 نومبر  کو کیل بیجیر سے انخلاء ضروری ہے۔



متعللقہ خبریں