برگزٹ کی ریگولیشن کا سمجھوتہ تقریباً تقریباً مکمل ہو گیا ہے: تھریسا مے

ہم، شمالی آئر لینڈ اور آئر لینڈ کے درمیان سرحد کی مستقبل کی حیثیت سے متعلق  اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: تھریسا مے

برگزٹ کی ریگولیشن کا سمجھوتہ تقریباً تقریباً مکمل ہو گیا ہے: تھریسا مے

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل 'برگزٹ'  کی ریگولیشن کا سمجھوتہ تقریباً تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔

ڈوچے ویلے کے ٹرکش  پیج کی خبر کے مطابق مے نے کہا ہے کہ ہم، شمالی آئر لینڈ اور آئر لینڈ کے درمیان سرحد کی مستقبل کی حیثیت سے متعلق  اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وزیر اعظم آج ہاوس آف کامنز سے خطاب کریں گی، خطاب وزارت اعظمیٰ آفس کی طرف سے پہلے سے نشر کر دیا گیا ہے  اور اس  کے متن میں  شامل عبارت کے مطابق برگزٹ سمجھوتے کی شقوں کے 95 فیصد  پروٹوکول نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

خطاب میں، مے جنرل اسمبلی میں ،حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی، رسل و رسائل اور خدمات کے شعبوں میں ہونے والی  اہم پیش رفتوں کا بھی ذکر کریں گی۔

تھریسا مے پارلیمنٹ کو گذشتہ ہفتے بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز  میں منعقدہ یورپی یونین سربراہی اجلاس کے نتائج کے بارے میں بھی بریفنگ دیں گی۔

مے نے آئیر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے بارے میں یورپی یونین کی طرف سے پیش کردہ تجویز کی بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ آئرلینڈ کے کھلے سمندر  میں کسٹم سرحد  کھینچنا ضروری ہو گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں برسلز کی طرف سے پیش کردہ التوا کی تجویز برطانیہ کی سالمیت  کو ختم کرنے کا مفہوم رکھنے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے۔

برسلز کی پیش کردہ تجویز شمالی آئرلینڈ کے برگزٹ کے دوران کسٹم یونین  میں موجود رہنے اور مشترکہ منڈیوں کے اصول و ضوابط کے ایک بڑے حصے کے اس علاقے میں بھی نافذ العمل ہونے کا مفہوم رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ  2019 کے ماہِ مارچ کے اواخر تک یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔



متعللقہ خبریں