یورپی یونین بھی ترکی کی طرح گرمیوں اور سردیوں کے اوقات میں تبدیلی نہیں کرے گی

یورپی یونین کے رکن ممالک سال 2019 سے موسمی عمل  اوقات عمل درآمد سے   کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے  مستقل وقت   کے نفاذ پر  عمل کریں گے

یورپی یونین  بھی ترکی کی طرح گرمیوں اور سردیوں کے اوقات میں تبدیلی نہیں کرے گی

یورپی یونین کمیشن نے رکن  ممالک میں موسم گرما اور سرما  میں اوقات میں  تبدیلی کے عمل کو نکتہ پذیر کیے   جانے کے حوالے سے ایک ترامیمی سفارش کی ہے۔

یورپی کمیشن  کے صدر جین کلا ڈ ینکر نے  یورپی یونین کی  صورتحال اجلاس میں موجودہ  اوقات کے نظام میں تبدیلی  کے حوالے سے ایک سفارشی بل پیش کیا۔

جس کی روسے یورپی یونین کے رکن ممالک سال 2019 سے موسمی عمل  اوقات عمل درآمد سے   کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے  مستقل وقت   کے نفاذ پر  عمل کریں گے۔

رکن ممالک  اپریل 2019 تک  گرمیوں یا پھر سردیوں کے اوقات  پر  کار بند رہنے کا فیصلہ کریں گے۔

اس سفارشی بل کو قانونی ماہیت دلانے کے لیے یورپی یونین کونسل اور یورپی پارلیمنٹ کی سرکاری طور پر منظوری لازمی ہے۔

خیال رہے کہ 28 رکنی یورپی یونین سن 1981 سے ابتک  ہر سال مارچ اور اکتوبر میں  موسم گرما و سرما کے اوقا ت  پر عمل درآمد کرتی چلی آرہی ہے۔

اس حوالے سے پبلک سروے کرایا گیا جس میںشامل 84 فیصد عوام نے  گرمیوں اور سردیوں میں مختلف اوقات پر عمل درآمد کی مخالفت کی تھی۔



متعللقہ خبریں