ادلب ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر گیا ہے: یان اِیف لی ڈریان

ادلب میں کسی قتل عام کے سدباب کے لئے فرانس آستانہ گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، ادلب کے مسئلے کا واحد حل سیاسی حل ہے: یان اِیف لی ڈریان

ادلب ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر گیا ہے: یان اِیف لی ڈریان

فرانس کے وزیر خارجہ یان اِیف لی ڈریان نے کہا ہے کہ ہم شام کے علاقے ادلب کے موضوع پر روس اور ترکی کے ساتھ مل کر حل کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لی ڈریان نے فرانس انٹر ریڈیو، روزنامہ لی موندے اور فرانس 2 ٹیلی ویژن چینل  کے مشترکہ پروگرام میں جاری کردہ بیانات میں کہا ہے کہ اسد انتظامیہ نے اس سے قبل بھی کیمیائی اسلحے کا استعمال کیا ہے اور ادلب میں  اس کے دوبارہ کیمیائی اسلحہ استعمال کرنے کا خطرہ موجود ہے۔ یہ چیز ثابت نہیں ہوئی لیکن بعض افراد کے بیانات کو دیکھنے کے بعد میرے خیال میں ایسا کوئی خطرہ موجود ہے۔ ہلاکتوں کا سبب بننے والے  کیمیائی اسلحے کا استعمال کئے جانے کی صورت میں فرانس کا جواب وہی ہو گا کہ جو اس سے قبل تھا۔

لی ڈریان نے کہا کہ ادلب کی صورتحال تشویشناک ہے۔ بشار الاسد نے جنگ جیت لی ہے لیکن امن نہیں جیت سکے۔ یہ چیز ہم اسد انتظامیہ کے حامیوں کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہاں خاص طور پر میں روس کی بات کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ادلب میں کسی قتل عام کے سدباب کے لئے فرانس آستانہ گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور ادلب کے مسئلے  کا واحد حل سیاسی حل ہے۔

لی ڈریان نے کہا کہ ہم نے شام میں آئینی اصلاحات اور انتخابی ریگولیشن کے لئے کام کیا ہے۔ ادلب میں سکیورٹی کی صورتحال نہایت خراب ہے اور علاقہ ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ادلب میں جنگ ہوتی ہے تو یہاں جو حالات ہوں گے وہ حلب کے قتل عام سے کہیں زیادہ  تکلیف دہ ہوں گے لہٰذا اس ٹائم بم کو پھٹنے سے روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کا متحرک ہونا ضروری ہے کہ جو اس معاملے میں کچھ کر سکتا ہے ۔ ہم یہ بات صدر ماکرون، روسیوں اور ترکوں سے کہہ رہے ہیں کیوں کہ ادلب ترکی کی سرحد پر ہے اور جنگ چھڑنے کی صورت میں مہاجرین ترکی کا رُخ کریں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کی صورتحال سے دلچسپی نہ لینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے یان اِیف لی ڈریان نے کہا کہ امریکہ شام سے نکلا نہیں ہے بلکہ شمال مشرق میں اپنی موجودگی کو جاری رکھے ہوئے ۔



متعللقہ خبریں