بیمار شخص ترکی نہیں، یورپی یونین ہے، ایڈورڈ فراند

فرانس کے شہر اسٹرازبرگ میں جاری یورپی   پارلیمان  جنرل    اسمبلی  میں ترکی  اور یورپی یونین  تعلقات  پر غور کرتے ہوئے  رکنیت مذاکرات اور دو طرفہ تعلقات  کے  مستقبل کے معاملات   پر بحث کی گئی

بیمار شخص ترکی نہیں، یورپی یونین ہے، ایڈورڈ فراند

 

یورپی کمیشن کے وسعت   مذاکرات   کے کمشنر جوہانز ہاہن نے   ترکی کے ایک سٹریٹیجک علاقے میں یورپی یونین کے   ایک  کلیدی شراکت دار ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری  حصہ داری گو کہ  کافی مشکل  ہے تا ہم ، ایک بڑی تعداد میں  بنیادی معاملات پر ہمارا تعاون قائم ہے۔"

فرانس کے شہر اسٹرازبرگ میں جاری یورپی   پارلیمان  جنرل    اسمبلی  میں ترکی  اور یورپی یونین  تعلقات  پر غور کرتے ہوئے  رکنیت مذاکرات اور دو طرفہ تعلقات  کے  مستقبل کے معاملات   پر بحث کی گئی۔

اجلاس کے افتتاحی  خطاب میں جوہانز  ہاہن نے   دونوں فریقین کے موجودہ پیش  رفت سے خوش نہ ہونے  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ" ہم نے  ترک   حکام  کے ساتھ ہماری  آخری ملاقات میں  باہمی تعلقات  کو مزید آگے بڑھانے کے لیے  موجودہ   ڈگر  کا رخ  فوری طور  پر بدلے جانے    کو زیر لب  لایا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ ترکی ایک سٹریٹیجک  علاقے میں  واقع  ہے  اور یہ یورپی یونین کا ایک کلیدی ساجھے دار ہے۔ ہمیں  دو طرفہ طور پر  کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے ۔ ہم ایک دوسرے کے سامنے درست بیانی اور نکتہ چینی سمیت  بعض اوقات تعمیری اور واضح  ڈائیلاگ  کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

یورپی پارلیمان کی  رپورٹر   برائے  ترکی کیتھی  پیری کا کہنا ہے کہ ترک عوام کے  سامنے  سے یورپی یونین کے ہدف کو ہٹایا جانا  ایک فاش غلطی ہو گا،  عوامیت پسندی و غیر ملکی دشمنی  کو اس بحث  میں شامل  نہیں کیا جا نا چاہیے۔

اقوام وآزادی  یورپ گروپ  کے فرانسیسی رکن  ایڈورڈ  فراند  نے بھی یورپی یونین  حکام کے مؤقف پر نکتہ  چینی کرتے ہوئے کہا کہ  ایک صدی قبل ہم   ترکی کو یورپ  کے ایک بیمار شخص کے طور پر بیان کرتے تھے تا ہم  آج میرے خیال  میں  اصل بیمار شخص یورپی یونین  ہے۔

انہوں نے حکام بالا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "ترکی ایک بڑا ملک   اور ترک ایک عظیم قوم ہیں، یہ آپ کی پیشکشوں سے کہیں بڑھ کر  مراعات کے مستحق  ہیں،   نتیجہ  واضح ہونے والے ایک سلسلے میں آپ نے  ترکی اور  یورپی یونین کا وقت  برباد کیا ہے۔"

 



متعللقہ خبریں