فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون نے یہودی قتل عام میں اپنی ذمہ داری قبول کر لی

میں وِشی کے فرانسیسی نہ ہونے کے بارے میں اختیار کردہ اتفاق رائے کو رد کرتا ہوں، وِشی یقیناً فرانسیسی عوام نہیں تھی لیکن فرانس کی انتظامیہ اور حکومت تھی: ماکرون

فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون نے یہودی قتل عام میں اپنی ذمہ داری قبول کر لی

فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون نے فرانس کے 75 سال قبل نازیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی قتل عام کا سبب بننے کے معاملے میں اپنی ذمہ داری کو قبول کر لیا ہے۔

ماکرون نے، فرانس کے سرکاری دورے پر  موجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کے ہمراہ فرانس سے ملک بدر کر کے نازیوں کے اجتماعی کیمپوں میں بھیجے جانے والے فرانسیسی یہودیوں  کے لئے منعقدہ یادگاری تقریب میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب میں ماکرون نے کہا کہ ان واقعات میں اس دور کی نازی اتحادی وِشی انتظامیہ کا بڑا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں وِشی کے فرانسیسی نہ ہونے کے بارے میں اختیار کردہ اتفاق رائے کو رد کرتا ہوں، وِشی یقیناً فرانسیسی عوام نہیں تھی لیکن فرانس کی انتظامیہ اور حکومت تھی۔

نیتان یاہو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں، صرف یہودی ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ قتل کئے جانے والے اپنے بھائیوں کی یاد گار کے سامنے جھکنے  کے لئے آیا ہوں، قتل کئے جانے والوں کا سوگ منانے کے لئے نہیں۔



متعللقہ خبریں