وائے پی جی، PKK کی ہی شاخ ہے، امریکی سینیٹر کا اعتراف

امریکہ کا اپنے مقاصد کے حصول کے بغیر انخلاء کرنا خطے میں وسیع پیمانے کی جنگ چھڑنے کا موجب بن سکتا ہے

وائے پی جی، PKK کی ہی شاخ ہے، امریکی سینیٹر کا اعتراف

امریکی سینیٹرلنڈسی گراہم  کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کے ساتھ روابط  کا مشاہدہ ہوا۔

لنڈسی گراہم   نے صدر رجب طیب ایردوان، وزیر خارجہ میولود چاوش اولو اور وزیر دفاع خلوصی آقار سے ملاقات  کے بعد پریس کانفرس کا اہتمام کیا۔

مذاکرات میں شام کے معاملے کے پیش پیش رہنے کا ذکر کرنے والے گراہم نے  اس سے قبل کے امریکی صدر براک اوباما کے دور میں امریکی حکمت ِ عملی غلط ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب مجھے  "پی وائے ڈی /وائے پی جی  کو مسلح کرنے کے منصوبے کا علم ہوا  تو اسوقت میں  یہ جانتا تھا کہ یہ عمل ترکی کے  لیے کیا مفہوم رکھتا ہے۔  وائے پی جی کا پی کے کے سے تعلق ہے،  دلائل انتہائی واضح ہیں۔ "

گراہم نے امریکہ کے شام کے شمال مشرقی علاقوں سے انخلاء کی خواہش کا جائزہ  لیتے ہوئے کہا کہ "میں ملکی انتظامیہ کے انخلاء کی خواہش  کو سمجحتا ہوں،  تا ہم  عدم منصوبہ بندی کا حامل انخلاء خطے میں افراتفری کا ماحول پیدا کرے گا، میں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو  اوباما  کی غلطی کو نہ دہرانے اور بلا کسی تدبیر کے انخلاء نہ کرنے کے معاملے پر خبردار کیا ہے۔ "

انہوں نے بتایا کہ " ہمیں ترکی  کا تحفظ اور شام میں ترکی کے  لیے منظر عام  پر آنے والے  وائے پی جی کے مسئلے کو حل  کرنا ہوگا۔ میں نے صدر  کو بتایا ہے کہ اگر انخلاء کے عمل کو سوجھ بوجھ کے ساتھ عمل پذیر نہ کیا گیا تو پھر یہ  ترکی کے لیے خطرات کا موجب  بنے گا۔ اوباما نے وائے پی جی کو مسلح بناتے ہوئے ترکی کو  ایک ڈراؤنے خواب کی جانب دھکیلا تھا، لہذاہمیں  انخلاء کے عمل میں بڑی احتیاط برتنی ہو گی اور یہ مسئلہ ترکی کے سر پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔"

گراہم کا کہنا تھا کہ امریکہ کا اپنے مقاصد کے حصول کے بغیر انخلاء کرنا خطے میں وسیع پیمانے کی جنگ چھڑنے کا موجب بن سکتا ہے، یہ عمل دہشت گرد تنظیم داعش  کے خلاف جنگ کا خاتمہ نہیں  بلکہ ایک نئی جنگ چھڑنے کی راہ ہموار کرے گا۔

ترکی کے اس صورت میں شام  میں مسلح دہشت گرد  عناصر کی صفائی  کرنے پر مجبور ہونے کا ذکر کرنے والے گراہم کا کہنا تھا کہ "ان میں سے بعض ہماری جانب سے مسلح کردہ گروہ بھی شامل  ہیں۔ "

انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی زون کا قیام ترکی کی حفاظت کے لیے عمل میں لایا جائیگا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ منبج روڈ میپ کو بالائے طاق رکھے بغیر اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ کو اولین طور پر منبج روڈ میپ کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔  اگر ہم اس چیز پر صحیح طریقے سے  عمل کر سکے تو پھر سیکورٹی زون ہر  کس کے لیے وِن ۔وِن  کے ماحول کو فراہم کرے گا۔

 



متعللقہ خبریں