وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی سے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کے نئے دور کے آغاز کی توقع

گزشتہ دس سالوں کے دوران ترکی اور پاکستان کے درمیان برآمدات میں قابل ستائش حد تک اضافہ دیکھنے میں ملا ہے۔ سن 2008 میں پاکستان کو برآمدات صرف 175ملین  تک ہی  محدود تھی جبکہ 2017 میں اس میں 127 فیصد اضافہ ہوتے ہوئے یہ برآمدات 352 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے

وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی سے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کے نئے دور کے آغاز کی توقع

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان صدر رجب طیب ایردوان  کی دعوت پرترکی کے  پہلے سرکاری دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔

عمران خان کے اس  دورے کے دوران اقتصادیات اور تجارتی تعلقات میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ نئے شعبوں  میں بھی تعلقات کو فروغ دینے پر غور کیاجائیگا۔

گزشتہ دس سالوں کے دوران ترکی اور پاکستان کے درمیان برآمدات میں قابل ستائش حد تک اضافہ دیکھنے میں ملا ہے۔ سن 2008 میں پاکستان کو برآمدات صرف 175ملین  تک ہی  محدود تھی جبکہ 2017 میں اس میں 127 فیصد اضافہ ہوتے ہوئے یہ برآمدات 352 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ترکی کی پاکستان سے درآمدات اس دور میں 586 ملین ڈالر تھی جس میں  پینتالیس  فیصد کمی ہوتے ہوئے 323 ملین ڈالر تک گر گئی ہے۔

سن   2011  میں پاکستان کی  ترکی کو برآمدات آٹھ سو تہتر ملین ڈالر تھی جو کہ پاکستان کی ترکی کے ساتھ برآمدات کی سب سے بلند شرح ہے لیکن اب اس شرح میں  مسلسل  کمی  ہوتی جا رہی ہے۔

اس سال کے پہلے 11 ماہ میں پاکستان نے  چار سو پندرہ ملین ڈالر کی برآمدات کی ہیں جبکہ ترکی نے  پاکستان سے تین سو پانچ  ملین ڈالر  کی درآمدات کی ہیں۔

ترکی پاکستان سے جو  سازوسامان  او پیداوار حاصل کرتا ہے ان میں  مشینری،  کھیلوں کا سامان، جراحی آلات،  کاٹن، پلاسٹک کے اشیاء،  قالین، المونیم اور کیمیاوی مادے کے علاوہ ریڈی میڈ گارمنٹس شامل ہیں۔

ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی صنعتی شعبے میں تعاون میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان نے  ترکی سے اتاک ہیلی کاپٹر اورMILGEM جنگی بحری جہازوں  کو خریدتے ہوئے تعاون کے نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔سن  2018  کا سال ترکی  اور پاکستان کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کے لحاظ سے سنہری دور سمجھا جا رہا ہے۔

عمران خان کے اس  دورے کے دوران اقتصادیات اور تجارتی تعلقات میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ نئے شعبوں  میں بھی تعلقات کو فروغ دینے پر غور کیاجائیگا۔

سن  2018 میں پاکستان  نے ترکی سے تیس عدد ٹی 129 اتاک  ہیلی کاپٹروں کے سمجھوتے پر دستخط کئے ۔  اس سمجھوتے کے علاوہ لاجسٹک،  سپیر پارٹس،  ٹریننگ کے بارے میں مفاہمت کے سمجھوتے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔  یہ سمجھوتہ  ترکی کی دفاعی  صنعتی تاریخ میں  سب سے بڑا دفاعی  سمجھوتہ  سمجھا جا رہا ہے۔

ترکی نے پاکستان کے لیے نیول کارگو شپ کو بھی کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے ماہ اکتوبر میں پاک  نیوی کے حوالے کیا تھا۔



متعللقہ خبریں