حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن ترکی اورپاکستان کےعوام کی دوستی کوکبھی ختم نہیں کیاجاسکتا:چاوش اولو

دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے شاہ محمود قریشی جبکہ ترکی کی جانب سے ترک وزیر خارجہ نے اپنے اپنے وفد کی قیادت کی۔ دونوں ممالک میں باہمی تعلقات، تجارتی اور اقتصادی تعاون پر بات چیت کی گئی

حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن ترکی اورپاکستان کےعوام کی دوستی کوکبھی ختم نہیں کیاجاسکتا:چاوش اولو

پاکستان کے دورے پر موجود   وزیر خارجہ   میولوت  چاوش اولو نے  وزارتِ خارجہ میں   پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔

دونوں ممالک میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے شاہ محمود قریشی جبکہ ترکی کی جانب سے ترک وزیر خارجہ نے اپنے اپنے وفد کی قیادت کی۔ دونوں ممالک میں باہمی تعلقات، تجارتی اور اقتصادی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

بعد میں دونوں رہنماوں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر ترک وزیر خارجہ میولو ت چاوش اولو  نے کہا ہےکہ پاکستان آکر بے حد خوشی ہوئی اور ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، میرے بہترین استقبال پر اپنے ہم منصب اور دیگر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے قیام کے سلسلے میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں ان کا بھی شکریہ ادا کیا جائے گا۔

اپنی گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہماری بات چیت کا اہم موضوع اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک تعلقات سے متعلق تھا اور انشاء اللہ ہم دونوں ممالک کے درمیان طےپانے والے معاہدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ آج کے مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پربھی بات ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں اوردہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ تعاون برقرار رہے گا۔

پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ترکی ہر دکھ درد میں پاکستان کا دوست رہا ہے، پاک ترک عوام کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہیں، پاکستان اور ترکی کے تعلقات حکومتوں تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا ہماری محبت کے پیچھے ثقافت، مذہب، عوام کی محبت ہے، دونوں ممالک نے دفاعی تعاون، باہمی تعلقات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، مذاکرات میں مختلف معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ترکی نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ترکی نے ہمارا ساتھ دیا، نوجوان سفارتکاروں کے تربیتی پروگرام پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بھی ترکی نے ہمارا ساتھ دیا، مختلف فورمز پر ساتھ دینے کے لیے ترکی کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ  ترکی اور پاکستان کا تعلق حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی تعلق قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ترک وزیر خارجہ کو دعوت دی کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کی سائڈ لائن پر ہمارا کشمیر سے متعلق اجلاس ہوگا، جس میں آپ کی شرکت باعث ممنون ہوگی۔



متعللقہ خبریں