پاکستان اورترکی کا بحری جہازوں، طیاروں،ہیلی کاپٹروں،توپوں، ٹینکوں کی تیاری میں اشتراک جاری: وزیردفاع

پاکستان اورترکی کے درمیان خاص طورپردفاعی صنعت میں بڑا گہرا تعاون اوراشتراک جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے سےاستفادہ کررہے ہیں۔ مجھے امید ہےاورپختہ یقین ہے دونوں ممالک   کے درمیان  ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ تفصیلی انٹرویو کے لیے کلک کیجیے

پاکستان اورترکی کا بحری جہازوں، طیاروں،ہیلی کاپٹروں،توپوں، ٹینکوں کی تیاری میں اشتراک جاری: وزیردفاع

ترکی کے  وزیر قومی دفاع   ریٹایرڈ  جنرل    حلوصی آقار  نے ٹی آر ٹی کی اردو سروس   کو چھ ستمبر  یومِ دفاع اور شہدا کے موقع پر  خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی اور پاکستان   جنگی  بحری جہازوں ،  طیاروں، ہیلی کاپٹروں  کے علاوہ    توپوں  ، ٹینکوں  اور اسلحے کی تیاری   میں ایک دوسرے سے گہرا تعاون  اور اشتراک جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ اشتراک   اور تعاون  دونوں ہی ممالک کے  مفاد میں ہے۔ مستقبل میں یہ اشتراک اور تعاون  مزید فروغ پاتا رہے گا۔ 

انہوں نے  کہا کہ " مجھے   پاکستان  کے یومِ دفاع  اور شہدا پر مدعو  کیے جانے پر  سفیر پاکستان کا    مشکور ہوں،  مجھے اس تقریب میں شرکت کرکے بڑی خوشی محسوس   ہوئی ہے۔

پاکستان کا  چھ ستمبر یومِ دفاع اور شہدا کا دن بڑی اہمیت  کا حامل اور یادگاری دن ہے ۔

پاکستان اور ترکی  کے فوجی افسران ، جنرل ،  ایڈمرلز اور ائیر مارشل  ایک دوسرے   سے مختلف  فرائض  کی سرانجام دہی کے دوران  ملتے رہتے ہیں  جس کی وجہ سے پاک فوج   کی قیادت کے ساتھ   ہمارے خصوصی روابط قائم ہوچکے ہیں  اور اہم ایک دوسرے سے بڑی محبت اور چاہت سے پیش آتے ہیں۔

ترکی اور پاکستان  کے درمیان یہ تعلقات ماضی ہی سے بڑے گہرے اور دیرنہ چلے آرہے ہیں اور یہ تعلقات کئی پہلووں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔  پاکستان  اور ترکی  نے  مختلف امور  کی انجام دہی کے دوران  ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔

پاکستان کے عوام نے  ترکی کی جنگ آزادی  ،  1974 میں قبرص کی جنگ   اور پھر   دہشت گردی کے خلاف جنگ    کے موقع پر جس طرح ترکی کی حمایت اور مدد کی  اس کو ہم کبھی  بھی فراموش نہیں کر سکتے ہیں۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان خاص طور پر   دفاعی صنعت  میں    بڑا گہرا تعاون اور اشتراک جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے  سے استفادہ کررہے ہیں۔

مجھے امید  ہے اور پختہ یقین ہے  دونوں ممالک   کے درمیان  ماضی کی طرح مستقبل میں بھی   یہ اشتراک اور تعاون  مزید فروغ پاتے ہوئے جاری رہے گا۔

دفاعی صنعت   کے شعبے میں    خاص طور پر  ترکی اور پاکستان نے   تعاون کا ایک الگ ہی   پہلو  اجاگر کیا ہے۔  دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون اور اشتراک  صرف دونوں ممالک تک ہی محدود نہیں ہے   بلکہ خطے اور  دنیا کے امن  میں بھی یہ اشتراک اور تعاون ممد  معاون ثابت ہوگا۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ   میں ایک دوسرے کے  تجربات  سے استفادہ  کرنے کے ساتھ ساتھ  مختلف اداروں ، اور ٹریننگ سینٹرز میں بھی  دونوں ممالک کے فوجی  افسران ٹریننگ حاصل کررہے ہیں ۔

 ہم جنگی  بحری جہازوں ،  طیاروں، ہیلی کاپٹروں  کے علاوہ    توپوں  ، ٹینکوں  اور اسلحے کی تیاری   میں بھی ایک دوسرے سے گہرا تعاون  اور اشتراک جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ اشتراک   اور تعاون  دونوں ہی ممالک کے  مفاد میں ہے۔ مستقبل میں یہ اشتراک اور تعاون  مزید فروغ پاتا رہے گا  کیونکہ دونوں ممالک اس اشتراک اور تعاون  کو جاری رکھنے کی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔

یہ اشتراک اور تعاون  دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ  خطے اور عالمی امن کے قیام کے لیے  بھی مفید ثابت ہوگا۔

میں اس موقع پر ایک بار پھر   یومِ دفاع اور شہدا کے موقع پر  پاکستان اور پاک فوج  کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ شکریہ۔" 

 



متعللقہ خبریں