ادلیب پر حملے سیاسی سلسلے کو نقصان پہنچائیں گے، ترجمانِ صدر

شامی  عوام سے تعاون  محض باتوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے،  اصل اداکاروں نے جنگ کا سد باب کرنے  میں  بہت کم سطح پر یا پھر بالکل کوششیں صرف نہیں کیں

ادلیب پر حملے سیاسی سلسلے کو نقصان پہنچائیں گے، ترجمانِ صدر

ایوانِ صدر کے ترجمان  ابراہیم قالن    کا کہنا ہے کہ شامی شہر ادلیب پر کسی بھی قسم کا حملہ جنیوا اور آستانہ سلسلوں  میں جاری  تمام تر سیاسی کوششوں پر کاری ضرب لگائے  گا۔

قالن نے روزنامہ ڈیلی صباح میں "ادلیب  کا معمہ: عالمی برادری کے لیے ایک نیا امتحان" کے زیر عنوان  ایک کالم  میں  لکھا ہے  کہ مضبوط اور قابل دوام  کسی سیاسی حل  کے بغیر  جاری  سیاسی و فوجی  تصادم محض  بحران کو مزید طول دینے کا موجب بنے گا اور علاقے کی موجودہ صورتحال  بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہو جائیگی۔

دنیا بھر کے شامی عوام  سے منہ پھیر لینے کی وضاحت کرنے والے جناب قالن نے لکھا ہے کہ شامی  عوام سے تعاون  محض باتوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے،  اصل اداکاروں نے جنگ کا سد باب کرنے  میں  بہت کم سطح پر یا پھر بالکل کوششیں صرف نہیں کیں۔

شام میں  رونما ہونے والے وحشیانہ واقعات میں اسد سمیت   دہشت گردی کا بھی بڑا ہاتھ ہونے پر توجہ مبذول کراتے ہوئے ابراہیم قالن نے   پی وائےڈی سے تعاون کرنے والے متحدہ امریکہ کو ایک بار پھر منتبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں  انسانوں کا قتل کرنے والی سفاک اسد انتظامیہ اور داعش  سمیت  پی کے کے  سے منسلک  پی وائے ڈی  کی طرح کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں  بھی  شامی سرزمین پر  تباہ کاریوں اور خون کی نہریں بہانے کی ذمہ دار ہیں۔

شامی مخالفین  کے آخری قلعے کے طور پر اب ادلیب کے باقی بچنے پر توجہ دلانے والے قالن نے کہا ہے کہ

35 لاکھ آبادی کے حامل اس صوبے  پر کسی قسم کا  بھی حملہ وسیع پیمانے کی تباہ کاریوں کا موجب بنے گا، اس سے   ترکی اور یورپ سمیت دیگر ملکوں کو لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کی نقل مکانی ہو گی۔ یہاں پر حملوں سے  کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔  شام میں مسئلے کا حل چارہ حملے نہیں ہیں۔

ادلیب میں ترکی کی 12 نگران چوکیاں موجود ہونے کی یاد دہانی  کراتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ترکی  کی علاقے میں موجودگی کسی ممکنہ حملے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔ کیونکہ ترک فوجیوں کے وہاں پر موجود ہونے کے  وقت روسی  جنگی طیارے اور اسد انتظامیہ کی بری افواج حملے کرنے سے اجتناب برتیں گے۔

 



متعللقہ خبریں