آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ترکی کے لیے کوئی وقعت نہیں رکھتا

1995 میں بوسنیائی باشندوں کی نسل کشی کی اجازت دینے والے ہالینڈ کو اس قسم کے فیصلے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں

آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ترکی کے لیے کوئی وقعت نہیں رکھتا

ترکی نے  اعلان کیا ہے کہ ڈچ پارلیمنٹ کے سن 1915 کے نام نہاد آرمینی واقعات کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کوئی وقعت نہیں  رکھتا۔

یورپی یونین  امور کے وزیر اور مذاکرات کار عمر چیلک  نے اس  موضوع پر ایک اعلان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم  ڈچ  پارلیمنٹ کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں  اور نسل کشی کو تسلیم کرنے کے فیصلے  کی ترکی کے لیے کوئی وقعت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم  یہ چاہتے تھے کہ" سربنٹثا  کی طرح  کے نسل کشی کے واقع میں  حد درجے ذمہ دار ہونے والے ، انتہائی غلط اقدام اٹھانے والے    ہالینڈ  کو اس قسم کے  معاملات میں  کہیں زیادہ  توجہ سے کام  لینے کی  ضرورت تھی۔ لہذا  ترکی   پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ "

چیلک  نے  بتایا کہ  ہالینڈ کا 1915 کے واقعات کے حوالے سے آرمینی دعووں کو تسلیم   کرنا آرمینیا   کو تنہا  چھوڑ دے گا۔

سن  1995 کے ماہ جولائی میں سربی قوتوں نے با ضابطہ طور پر  قتل   عام کرتے ہوئے  صرف سربنٹثا میں 5 روز کے اندر 8 ہزار 372 بوسنیائی  باشندوں کو موت  کے گھاٹ اُتار دیا تھا،  انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں  کم سن بچیوں  اور خواتین  سے زیادتی کی اور ایک روز کے اندر 20 ہزار سے زائد   افراد کو جبراً سربنٹثا سے   نقل مکانی کرائی۔

سرب  حملوں سے  راہ ِ فرار اختیار کرنے والے  ہزاروں  بوسنیائی  باشندوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے "سیکورٹی زون" قرار دیے جانے والے    سربنٹثا   کہ جس کی حفاظت 400 ولندیزی  فوجی کر رہے تھے میں پناہ لی ۔ ان نہتے انسانوں کو  ولندیزی فوجیوں نے  11 جولائی سن 1995 کو راتکو میلادچ  یعنی 'سرب قصاب'  کی زیر کمان  کے سربی درندوں کے  حوالے کردیا۔  جنہوں نے  12 سال سے زائد عمر  کے تمام تر مردوں کو ایک  طرف اور خواتین کو  ایک طرف علیحدہ کرتے ہوئے  خواتین کی عصمت  دری کی اور مردوں کو  ٹرکوں  اور بسوں پر  سوار کرتے  ہوئے موت کے سفر پر لے گئے۔



متعللقہ خبریں