صدر ایردوان کا نیٹو کے سیکرٹری جنرل کو واضح جواب

نیٹو سیکرٹری  جنرل  نے اس جانب اشارہ دیا ہے کہ ترکی کو   دہشت گرد حملوں  سے  بچنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا فطری  حق حاصل ہے

صدر ایردوان کا نیٹو کے سیکرٹری جنرل  کو واضح جواب

صدر  رجب طیب ایردوان  نے  نیٹو  کے سیکرٹری جنرل  یانز اسٹولٹن  برگ سے ٹیلی فون پر  بات  چیت کی۔

جناب  ایردوان نے سیکرٹری  جنرل سے کہا ہے  کہ 'ہم قومی سلامتی کے  تحفظ کے لیے ہر طرح کے اقدامات اٹھائیں گے۔'

ایوان صدر سے  حاصل کردہ معلومات کے مطابق  اس بات چیت میں داعش  مخالف   جنگ عالمی اتحاد کے   ترجمان  کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں  علیحدگی پسند تنظیم PKK/PYD  کے عناصر  کے ساتھ نام نہاد 'شامی  سرحدی  سلامتی قوتوں' کی تشکیل کے اعلانات پر  غور کیا گیا۔

صدر ِ ترکی نے   اس بات پر زور دیا ہے کہ  ہم اس قسم کی نام نہاد   قوتوں کی تشکیل کو ہر گز قبول نہیں کریں گے، یہ  چیز  شام  میں  اتحادو استحکام  کے قیام میں معاون ثابت نہیں ہو گی،  ہمارے بعض اتحادیوں کا دہشتر گرد تنظیموں کے ساتھ  ایکا کرنا ہماری سمجھ سے  بالا تر ہے۔

انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ شام کی موجودہ  پیش رفت کے خلاف  ترکی، بین  الاقوامی قوانین   کے مطابق  اپنے حقوق  کا تحفظ کرنے کے   لیے ہر ممکنہ  تدابیر اختیار کرے گی۔

اس ضمن میں خدشات کو حق جانب   ٹہرانے  والے  نیٹو سیکرٹری  جنرل  نے اس جانب اشارہ کیا کہ ترکی کو   دہشت گرد حملوں  سے  بچنے کے لیے اقدامات اٹھانے کا فطری  حق حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی ، نیٹو کا ایک اہم رکن ہے،  شمالی شام میں زیر بحث  فوج کے  قیام کے  حوالے سے   ان  سے صلاح مشورہ نہیں کی گیا۔

سیکرٹری جنرل نے  اس جانب توجہ بھی مبذول کرائی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے  اتحادی ملکوں کے درمیان  ڈائیلاگ کا قیام    انتہائی اہم ہے۔



متعللقہ خبریں