اسرائیل ایک قابض اور دہشت گرد مملکت ہے، صدر ایردوان

القدس   میں  اس  قدیم   شہر کے گلی کوچوں میں   چند منٹ تک   گھومنے پھرنے والا کوئی بھی شخص     اس مقام کے اسرائیل  کے زیر قبضہ ہونے کا اندازہ کر لے گا

اسرائیل ایک قابض اور دہشت گرد مملکت ہے، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان  نے  انصاف کے ترازو پر یقین   رکھنے والے تمام تر ملکوں سے القدس   کو فلسطین کا دارالحکومت  تسلیم کرنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ تنظیم اسلامی کانفرس  کا ہنگامی   اجلاس   6 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  القدس کو اسرائیل  کے  دارالحکومت  تسلیم کرنے  اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی منصوبہ  بندی کے اعلان  کے بعد    تنظیم کے موجودہ صدر ترکی نے  طلب  کیا تھا۔

سربراہی اجلاس سے   اسلامی تعاون تنظیم کے عبوری صدر کی حیثیت سے  خطاب کرنے والے   رجب طیب ایردوان نے  کہا کہ آج ہم یہاں پر   دین اسلام  کے قبلہ اول اور القصیٰ   مسجد کے شہر  بیت المقدس   کی تاریخی حیثیت  کی بے حرمتی    کے خلاف صدا بند کرنے کے لیے    یکجا ہوئے ہیں۔

اپنے خطاب میں سن 1947 سے ابتک  اسرائیل کے قبضے کے آہستہ آہستہ  پورے فلسطین   میں پھیلنے کو نقشوں کی مدد سے  بیان کرنے والے صدر ایردوان نے کہا کہ"یہ  اس چیز کا عکاس ہے کہ اسرائیل ایک قابض   مملکت ہے، یہ  اس کے ساتھ ساتھ ایک دہشت گرد ملک بھی ہے۔ القدس   میں  اس  قدیم   شہر کے گلی کوچوں میں   چند منٹ تک   گھومنے پھرنے والا کوئی بھی شخص     اس مقام کے اسرائیل  کے زیر قبضہ ہونے کا اندازہ کر لے گا۔"

جناب ایردوان کا کہنا تھا کہ " ایک 10 سالہ بچے کو دہشت گرد  اسرائیلی فوجی  حراست میں  لے  لیتے ہیں اور ان کم سن بچوں  کو آہنی سلاخوں  پیچھے  بند کر دیتے ہیں۔  ان کی آنکھیں  بند  کرتے ہوئے ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب  ایک  کم سن بچی  کو اپنے سینے سے لگانے والی ماں  پر  بندوق   کے دستے سے  وار کیا جاتا ہے  اور بچی کو  اس سے چھین لیا جاتا ہے۔ کیا  یہ سب کچھ  قابض اور دہشت گردوں کی  گھناؤنی حرکتوں کے مترادف نہیں ہے؟  کیا کوئی اس غیر انسانی سلوک کو حق بجانب ٹہرا سکتا ہے؟"

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے مذکورہ فیصلے کی کوئی وقعت نہیں پائی جاتی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سن 1980 کی قرار داد کے مطابق کوئی بھی ملک القدس میں اپنا سفارتخانہ    قائم نہیں کر سکتا ۔

ٹرمپ  کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کرنے والے ایردوان نے بتایا کہ "میں نے کیا ، بس ہو گیا کہتے ہوئے اس دنیا میں   کوئی بھی اپنی اجارہ داری قائم نہیں کر سکتا۔  کیونکہ  دنیا محض   امریکہ یا پھر  اسرائیل  پر  ہی محیط نہیں ہے۔"

فلسطین  کو بین الاقوامی معاہدوں میں شامل کیے جانے کےعمل کو اسراع دینے   کی ضرورت  پر زور دینے والے  صدر ترکی کا کہنا تھا کہ " ہمیں اسلامی مملکتوں   کی حیثیت سے   ریاست ِ فلسطین  کی مستقل نمائندگی کے معاملے  پر کہیں زیادہ طاقتور ارادے اور  نظریے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔  آج  اس پلیٹ فارم پر  ہمیں اس چیز کا عندیہ دینا ہو گا، ہم امریکہ کو اس غیر قانونی اقدام سے  فی الفور پس قدمی کرنے کی   اپیل کرتے  ہیں۔  ثالث کے اوصاف کو  مکمل طور پر کھونے والے امریکہ کے بجائے  ہم مسلم اُمہ سے  اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توقع  کرتے ہیں۔  میں  آپ سب کو   بیت المقدس کو  مملکت ِ فلسطین کا  مقبوضہ دارالحکومت  تسلیم کرنے کی  اپیل  کرتا ہوں"۔



متعللقہ خبریں