ترکی، کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ سیاسی حل میں فریق نہیں بنے گا، صدارتی ترجمان

شامی عوام  کے سر پر پڑنے والے مصائب کو جیو پولیٹک  رقابت کے   نام پر فراموش نہیں کیا جا سکتا

ترکی، کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ سیاسی حل میں فریق نہیں بنے گا، صدارتی ترجمان

ایوان صدر کے ترجمان  ابراہیم قالن  کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی سیاسی حل   میں  شامل نہیں کیا جا سکتا۔

ابراہیم قالن نے روزنامہ ڈیلی صباح  میں  قلم بند کردہ مقالے میں  شام میں دہشت گرد تنظیم  داعش اور PKK کی شاخ پی وائے ڈی  کے درمیان  ایک معاہدے کے حوالے سے سنسنی خیز  معلومات  کو پیش کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں داعش کے دہشت گردوں کے  راقہ سے  انخلاء کے لیے طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات نے ایک بار پھر  کسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کو استعمال کرنے کی پالیسیوں کی خامی کو منظر عام پر لایا ہے۔ واشنگٹن میں کسی کی بھی طرف سے   دریافت نہ کیے جانے والے اس بے چینی پیدا کرنے والے مسئلے کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آزاد کیے جانے والے دہشت گرد   آیا کہ دنیا کے کس دارالحکومت میں  خود کش حملہ آور کے طور پر   ہمارے سامنے  آئیں گے؟

قالن نے  بھی واضح کیا کہ شامی عوام  کے سر پر پڑنے والے مصائب کو جیو پولیٹک  رقابت کے   نام پر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ"پی وائے ڈی، وائے پی جی  کا معاملہ ترکی  کے لیے سرخ پٹی کی حیثیت کو برقرار رکھے  گا۔ یہ تنظیمیں  ترکی ، یورپی یونین اور دیگر  فریقین کی جانب سے دہشت گرد قبول کردہ PKK  کی شام میں شاخیں ہونے کی بنا پر کسی بھی سیاسی حل میں ہماری فریق نہیں بن سکتیں۔

 



متعللقہ خبریں