نیٹو مشقوں میں ترکی کی ہتکل کرنے کے اسکینڈل پر سیکرٹری جنرل نے معذرت کر لی

صدارتی ترجمان: ہم اس نازیبا حرکت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، کیونکہ اس حرکت کی وضاحت نہیں ہو سکتی

نیٹو مشقوں میں ترکی کی ہتکل کرنے کے اسکینڈل پر سیکرٹری جنرل نے معذرت کر لی

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے  نیٹو کی  مشقوں میں ترک سربراہان کی بے عزتی  کیے جانے پر شدید مذمت کی ہے۔

ابراہیم قالن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے  اعلان میں کہا ہے کہ "ہم اس نازیبا حرکت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، کیونکہ اس حرکت کی وضاحت نہیں ہو سکتی۔"

انہوں نے کہا کہ اس واقع کے خلاف لازمی اقدامات اٹھائے جانے  کا قریبی طور پر  جائزہ لیا جائیگا۔

نائب وزیر اعظم اور حکومتی ترجمان  بیکر بوزداع  نے بھی نیٹو  اسکینڈل کے حوالے سے ایک اعلان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ "نیٹو  کی یہ حرکت ایک سنگین سطح کا اسکینڈل ہے۔ ابتک دنیا میں اور نیٹو کےا ندر اس قسم کی  نازیبا حرکت  کا مشاہدہ  نہیں ہوا تھا۔ اس  گھناؤنے فعل کے مرتکبوں کو ضرور ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔"

دریں اثناء مسلح افواج کے سربراہ  جنرل خلوصی آقار نے   کینیڈا میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل  ینز اسٹولٹن برگ سے  ملاقات  کی۔

مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں   واضح کیا گیا ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل  کی خواہش پر ہونے والی اس ملاقات میں  اسٹولٹن برگ نے نیٹو  مشقوں میں  پیش آنے والے اس واقع  کی بنا پر معذرت   مانگی ہے۔انہوں نے ناروے میں اس حوالے سے تفتیش شروع کرنے کا کہتے ہوئے  صدر رجب طیب ایردوان  تک اس  معذرت   کو پہنچانے کی درخواست بھی کی۔

اعلامیہ کے مطابق  جنرل  خلوصی آقار نے    اس تفتیش کو محض واقع کے ذمہ داروں تک ہی  محدود نہ رکھنے   بلکہ  وسیع پیمانے  پر کرائے جانے  کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب نارویجین  وزیر دفاع  فرینک باکے جنسن نے نیٹو کی ناروے میں  مشقوں کے دوران   رونما ہونے والے اس اسکینڈل  کے باعث ترکی سے معافی مانگی ہے۔

انہوں نے  وزارت کی ویب سائٹ پر   لکھا ہے کہ صدر ایردوان کے حوالے سے ٹویٹر پیغام کو جاری کرنے والے ناوریجین شہری کو اس کے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا ہے اور اس واقع کی وسیع پیمانے پر چھان بین کے بعد لازمی اقدامات اٹھائے جائینگے۔

دوسری جانب  کینیڈا میں     ہالی فیکس فورم میں شرکت کی غرض سے موجود ترک وزیر برائے یورپی یونین امور اور مذاکرات کار  عمر چیلک سے  بھی ملاقات کرنے والے اسٹولٹن برگ نے  ایک بار پھر معذرت کا اظہار کیا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ہالی فیکس فورم  سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو  اس واقع  کی اطلاع ملتے ہی ذمہ دار اشخاص کو  نیٹو سے  خارج کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے فوری طور پر ایک تحریری اعلامیہ  جاری  کرتے ہوئے  ترکی سے اظہارِ معذرت کیا گیا ہے۔

ترکی کی سرحدوں کے نیٹو کی سرحدیں ہونے کا ذکر کرنے والے سیکرٹری جنرل نے  بتایا کہ ترکی داعش  مخالف  جنگ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی اثناء انقرہ  جمہوریت اٹارنی جنرل کے دفتر نے نیٹو اسکینڈل کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

 

 



متعللقہ خبریں