ترکی میں 15 جولائی کےاقدام کے بعد سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے

ترکی اور امریکہ کے درمیان ویزے کے مسئلے کو  قلیل مدت کے اندر حل کیا جانا  دونوں ملکوں کے باہمی اقتصادی تعلقات  میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا

ترکی میں 15 جولائی کےاقدام کے بعد سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے

بغاوت کی کوشش کے  باجود ترکی میں سرمایہ کاری میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزارت عظمی  ترکی سرمایہ کاری ڈیسک و تعارفی  ایجنسی کے صدر آردا ایرمُت کا کہنا ہے کہ  ترکی اور امریکہ کے درمیان ویزے کے مسئلے کو  قلیل مدت کے اندر حل کیا جانا  دونوں ملکوں کے باہمی اقتصادی تعلقات  میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

ایرمُت نے بعض مذاکرات کے لیے دورہ امریکہ  کے دوران  انادولو ایجنسی کے  سوالات کا جواب دیا اور وزیر اعظم بن علی یلدرم   کے آئندہ ہفتے   دورہ امریکہ کے حوالے سے اپنے جائزے پیش کیے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم امریکہ میں  اپنی مصروفیات کے دائرہ کار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز  پر یکجا ہوں گے ، جس کی تیاریاں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم فیتو کی گزشتہ برس بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترکی  کو صحیح طریقے سے سمجھنے   اور  ترکی کے حقائق سےبراہ راست   طور پر   آگاہی کرانے کے زیر مقصد ان کی ایجنسی  نے اپنے امور کو وسعت دی ہے۔

اس ضمن میں  بغاوت کی کوشش کے فوراً بعد ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والی امریکی فرموں کے ڈائریکٹر جنرلز اور اعلی سطحی منتظمین  سے  ملاقاتیں کرنے کا ذکر کرنے والے ایرمُت نے بتایا کہ  ان شخصیات نے امریکی عوام، کریڈٹ ریٹنگ تنظیموں ، مشاورتی فرموں، میڈیا  اور دیگر سرمایہ کاروں کو ترکی کے حقائق سے  آگاہی کرانے میں معاونت فراہم کی ہے۔

اور گزشتہ برس  ترکی میں ہونے والی سرمایہ کاری کا 57 فیصد 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کے بعد سر انجام پایا ہے۔



متعللقہ خبریں