ترک فوجیوں نے ادلیب میں آپریشن کا آغاز کر دیا

ادلیب،  ترکی کا سرحدی  ہمسایہ ہے لہٰذا  کوئی بھی ہمیں یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کیوں کہ ہم اپنی سرحد پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی حیثیت میں ہیں: رجب طیب ایردوان

ترک فوجیوں نے ادلیب میں آپریشن کا آغاز کر دیا

ترک فوجیوں نے ادلیب میں آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

صدر رجب طیب ایردان نے کہا ہے کہ ادلیب،  ترکی کا سرحدی  ہمسایہ ہے لہٰذا  کوئی بھی ہمیں یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتا کہ آپ کیا کر رہے ہیں کیوں کہ ہم اپنی سرحد پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی حیثیت میں ہیں۔

نائب وزیر اعظم بکر بوزداع نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ادلیب میں ترک فوجیوں کی موجودگی کا مقصد  سرحدوں کا تحفظ اور علاقے میں امن و امان کا قیام ہے۔

دوسری طرف  شام کے علاقے ادلیب کے  عوام نے   ترک پرچم لہرا کر، فائر بندی کی نگرانی کے لئے کنٹرول چوکیوں کے قیام کے لئے علاقے میں پہنچنے والے،    ترک  فوجیوں کا استقبال کیا۔

دارالعزت اور مارت نعمان کے اضلاع میں  بھی شامی عوام نے محبت کا اظہار کر کے ترک فوجیوں کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔

اس دوران ترک مسلح افواج نے پہلے مرحلے میں ترکی کی سرحد پر دہشتگرد تنظیم PKK/PYD کے زیر کنٹرول علاقے آفرین  کے جوار میں بعض مقامات پر  پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

شام  میں فائر بندی کے دیگر ضامن ممالک روس اور ایران کے ساتھ آستانہ میں طے پانے والے سمجھوتوں کے دائرہ کار میں فوجیوں کی یہ منتقلی ادلیب۔آفرین سرحدی لائن پر جاری رہے گی۔



متعللقہ خبریں