ترکی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر سکنے والے اب نئی چالوں پر عمل پیرا ہیں، صدرِ ترکی

ان چالوں میں  سے بعض کے ذریعے  ترکی کی توجہ اور توانائی کو خطے میں رونما ہونے والی کلیدی پیش رفت  سے  دور رکھنے  کی کوشش کی جا رہی ہے

ترکی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر سکنے والے اب نئی چالوں پر عمل پیرا ہیں، صدرِ ترکی

صدر رجب طیب ایردوا  ن  کا کہنا ہے کہ  ترکی کو دہشت گرد تنظیموں فیتو اور PKK کے ذریعے  مشکلات سے دو چار کرنے کے درپے ہونے والے   اس   کھیل میں ناکام رہنے کے بعد اب  براہ راست  جنگ کے میدان  میں  اترنے  لگے ہیں۔

صدر اور آک پارٹی کے رہنما  جناب ایردوا ن نے اپنی سیاسی جماعت کے مرکزی دفتر میں ضلعی  چیئرمینوں کے   اجلاس میں  ایجنڈے  میں شامل معاملات پر اپنے جائزے پیش کیے۔

 ترکی کی ترقی کے حق میں نہ ہونے والے حلقوں  کی جانب سے ہر روز ایک نئےحربے  اور چال کا سامنا کرنے پر زور دینے والے  صدر ایردوان نے بتایا کہ  ہم نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ  ان چالوں میں  سے بعض کے ذریعے  ترکی کی توجہ اور توانائی کو خطے میں رونما ہونے والی کلیدی پیش رفت  سے  دور رکھنے  کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ترکی  کو سیاسی ، سماجی، سفارتی، عسکری، اقتصادی سمیت تمام تر  شعبوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور  نہ کر سکنے والے   روزانہ نت نئی  چالوں کے ساتھ  ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ تا ہم ، اب  محض  مزاحمت  دفاع کرنے پر اکتفا نہیں کررہے بلکہ اپنے منصوبوں پر قدم بہ قدم عمل پیرا ہو رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم اپنے دفاع کو تقویت دیتے ہوئے   حملے کرنے  سے بھی گریز نہیں کر رہے۔"

انہوں نے بتایا کہ "کئی ایک پلیٹ فارموں پر مل  جل کر کام کی جانے والی بعض مملکتوں کے ہمارے  ملک کے ساتھ  دوہرے معیار پر مبنی  مؤقف پر  ہم  گہری  بے چینی محسوس  کرتے ہیں،   آمنے سامنے ہونے کے وقت ، ہمیں ہر طرح کا وعدہ اور ضمانت دینے والوں کی ہماری پیٹھ پیچھے چلی جانے والی چالوں  کا گھناؤنا چہرہ   اب  چھپا نہیں رہ سکتا، یعنی   اب  یہ  خنجر    بوری  میں  پورا نہیں  آتا۔"

جناب ایردوان نے مزید کہا کہ سالہا سال سے ترکی پر  دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ممکنہ حد تک جدوجہد  نہ کرنے  کی الزام تراشی  کرنے والے  اب  انہی  دہشت گرد تنظیموں کے  ہمراہ   علاقے کو اپنے زیر تسلط  لینے کی  کوششوں میں ہیں ،  دنیا بھر میں  انسداد دہشت گردی کے معاملے میں  داعش کو سب  سے بڑے ہدف کے طور پر پیش کرنے والے اسوقت داعش کے خلاف ایک    دوسری دہشت گرد  تنظیم  PKK  کی شام میں شاخ  پی وائے جی   کے ساتھ جنگ میں  مصروف ہیں۔

 



متعللقہ خبریں