امریکہ کے دورے سے واپسی پر صدر ایردوان کی پریس بریفنگ

ترک صدر نے امریکہ میں سر انجام پانے والے اپنے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہی کرائی

امریکہ کے دورے سے واپسی پر صدر ایردوان کی پریس بریفنگ

امریکہ میں اپنی مصروفیات مکمل  کرنے و الے صدر رجب طیب ایردوان نےاس  دورے میں   ان کی ہمراہی کرنے والے صحافیوں  کو بریفنگ دی۔

انہوں نے  شمالی عراق کی کرد انتظامیہ کی  موجودہ پالیسیوں پر رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ  اس غلطی   کے مرتکب  ہونے سے باز آجاؤ۔

صدر ِ ترکی نے کہا کہ یہ سر زمین محض کردوں کی نہیں ہے۔ وہاں پر صرف     ایک قوم کے موجود ہونے  کی طرح حرکت کرنا   ایک انتہائی غلط فعل ہے، جب ہم اس معاملے کا   تاریخی اعتبار سے جائزہ لیتے ہیں تو پھر  حالات کچھ اور بن جاتے ہیں۔ بعض حلقے غلط راہ پر چل نکلے ہیں۔ شمالی عراق کی انتظامیہ کو  بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے چاہییں۔  ویسے بھی عراقی آئین اس عمل کی نفی کر چکا ہے، لیکن یہ لوگ ابھی بھی    بضد ہیں۔ ہمارے خیال کے مطابق امریکہ  کے اس معاملے پر نظریات ہمارے جیسے ہی ہیں۔

جناب ایردوان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  کے اجلاس کے  دائرہ کار میں انہوں نے   20 کے قریب دو طرفہ مذاکرات سر انجام دیے ہیں، جس دوران عراق اور شام کے معاملات  پیش پیش رہے ہیں۔

جناب صدر نے امریکی صدر  ٹرمپ کے ساتھ ملاقات    کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ  اس دوران بھی زیادہ تر شام اور عراق کے معاملات  زیر بحث آئے ہیں، علاوہ  ازیں  دہشت گرد تنظیم فیتو کا معاملہ  بھی زیر غور آیا ۔  جس  میں ترکی کی جانب سے فراہم کردہ ہزاروں کی تعداد میں دلائل اور دستاویز     کو  مد نظر رکھتے ہوئے  فیتو کے سرغنہ فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی  پر بات چیت ہوئی۔  امریکہ اگر چاہے تو ہمارے اس مطالبے کو  با آسانی عملی جامہ پہنا سکتا ہے، کیونکہ اس شخص کے خلاف  اس ملک میں کوئی مقدمہ  اسوقت     نہیں چل رہا۔  لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ اس چیز سے  گریز کرتا چلا آرہا ہے۔

صدر سے ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایس۔ 400 میزائل کا معاملہ زیر  غورآنے یا نہ آنے کے حوالے سے دریافت کیا گیا جس پر انہوں نے بتایا کہ"صدر ٹرمپ نے  اس معاملے کو چھیڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، جو کہ ہمارے پر عزم  مؤقف کی اہمیت کا مظہر ہے۔ اگر امریکہ اس سے ملتے جلتے اسلحہ کو ہمارے سامنے پیش کرنے کا معاملہ  ایجنڈے میں نہیں لاتا تو  پھر یہ ہمیں اس  معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے المیہ کے سامنے دنیا نے تا حال چپ سادھی ہوئی ہے۔

 

 

 



متعللقہ خبریں