15 جولائی، قومی اسمبلی کے سامنے صدر ترکی کا تاریخی خطاب

15 جولائی کو انقرہ اور استنبول سمیت ملک بھر میں ترک ملت باغیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی، بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے پر میں ملت کے ہر فرد کا تہہ دل سے مشکور ہوں: صدر رجب طیب ایردوان

15 جولائی، قومی اسمبلی کے سامنے صدر ترکی کا تاریخی خطاب

معزز  اسپیکر ِ اسمبلی،    جناب   وزیر اعظم،

سیاسی جماعتوں کے محترم   رہنماؤں

ہمارے شہدا کی امانت   پیارے بھائی بہنوں ،  عزیز غازیوں،

15 جولائی   بغاوت کی کوشش  کی پہلی  سالانہ یاد کے  موقع پر ترکی کے   گوشے گوشے میں ایک بار پھر  میدانوں  اور چوکوں میں جمع   عزیز  ہم وطنوں،

انقرہ کے مکینوں،   آپ سب کو دلی جذبات  و محبت کے ساتھ سلامِ خلوص پیش کرتا ہوں۔

۔ترکی میں  تاریخِ قریب میں   عظیم ترین خیانت ، قبضے اور بغاوت کی کوشش یعنی سانحہ 15 جولائی کی پہلی سالانہ یاد کی مناسبت سے  رات گئے  آپ  کے ساتھ یہاں پر یکجا ہوئے ہیں۔

۔  میں  اولین  طور پر 15 جولائی کی شب شہید ہونے والے تمام تر بھائی بہنوں  کی مغفرت کی دُعا اور ان کے لواحقین و ترک قوم سے اظہار ِ تعزیت  کرتا ہوں۔

۔اُسی شب  زخمی ہوتے ہوئے غازی کے اعزاز سے  سرفراز ہونے والے تمام تر ہم وطنوں کی صحتیابی کا دعاگو ہوں۔

۔انقرہ اور استنبول س میت ترکی کے ہر مقام پر باغیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے  ہوتے ہوئے ، اس بڑی ترین غداری کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والی ترک قوم کے ہر فرد کا دلی مشکور ہوں۔

۔ترک قوم نے 15 جولائی کی شب ، ایک معمولی سطح کے معاشرے نہیں بلکہ صحیح معنوں میں  ایک کیسی  قوم  ہونے    کا دنیا بھر کے سامنے مظاہرہ کیا  ہے۔

۔اپنے  قیام  کردہ  ملک،  مسنوب ہونے والی ملت اور خاصکر نوجوانوں کے معاملے میں نا اُمیدی  کے  شکار بعض حلقے پائے جاتے تھے۔

۔ 15 جولائی کی رات ہم نے مل  کر مشاہدہ  کیا کہ راکھ  کے ڈھیر کے نیچے   ابھی بھی سُلگتے ہوئے  کوئلے موجود ہیں۔

۔وقت آنے پر وہی  سُلگنے والے  کوئلے  ہماری آزادی و مستقبل کی جانب ہاتھ بڑھانے والوں  کو جلا کر خاکستر کرنے والی آگ کے شعلے بن جاتے ہیں۔

۔ایک صدی قبل 7 طاقتور ریاستوں کے  پوری طاقت کے ساتھ آبنائے چناق قلعے  پر حملے کے خلاف ہم نے فتح حاصل کرتے ہوئے سب کو ششدر کر دیا تھا۔

۔15 جولائی کو بھی ہم نے 7 طاقتور ریاستوں کی پشت پناہی حاصل ہونے والے غدار ٹولے کے 40 سالہ منصوبے کو 20 گھنٹوں کے اندر ناکام بناتے ہوئے  دوبارہ  تاریخ رقم کی ہے۔

۔جنگیں،  فوجوں کے درمیان  لڑی جاتی ہیں۔

۔ترک  قوم نے 15 جولائی کو فوج کی شکل میں منظم ہونے والے باغی ٹولے کے خلاف ایمان کی طاقت اور نہتے ہاتھوں  جنگ کی۔

۔ جس کی  دنیا  بھر میں  کوئی نظیر نہیں ملتی۔

۔گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہونے والی کوئی دوسری قوم   موجود نہیں۔

۔ٹینک کو مکُے  کے ساتھ روکنے والی  کسی دوسری   قوم کا بھی  وجود نہیں ملتا۔

۔جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں کو گرفت میں لینے کی  کاروائی کرنے والی دوسری  قوم  نہیں ہے۔

۔موت کو بلا خوف گلے لگانے والی  قوم شاید ہی کہیں   اور ہو۔

۔جان کی  سودا بازی کے عین وسط میں ظالم  و مظلوم کے درمیان  تفریق کرنے کے معاملے میں، دنیا کے  ہر گوشے  میں انصاف کی علامت  کے طور پر استعمال کردہ بند آنکھوں والے میتھالوجی مجسموں کو بھی  شرمندہ کرنے  کی حد تک حساسیت کا مظاہرہ کرنے والی کوئی دوسری ملت موجود  نہیں۔

۔میں اس قوم  کا حصہ اور   اس وطن کی اولاد ہونے پر  اللہ تعالی کا ہمیشہ شکر ادا کرتا ہوں۔

بقول شاعر:

" اے  پورے جہان پر حاوی ترکی  والے،

تیری لڑی گئی جنگوں کا وجود نہیں ملتا تھا پہلے،

تاریخ ایک ایسا دریا ہے کہ جس میں طغیانی ہی رہتی ہے،

تم  اس  کے لیے  عمان کی طرح ہو۔

۔  ایک جانب سے  بڑے زور و شور سے بہتے رہے ہو تم

تو دوسری جانب  گزارے ہیں بڑے  کٹھن دن  تم نے 

مگر جس حد تک بھی  تمھیں   مسلا گیا  ہے کل

کانسی سے بنی  ڈھال کی مانند ہو آج۔"

جی ہاں۔۔ قوم و ملت کی حیثیت سے  اب  ہم   دوبارہ  کانسی  کی ڈھال کی طرح اپنے اہداف کی  جانب رواں دواں ہیں۔

پیاری بہنوں و بھائیو۔۔

۔15جولائی  کو ،  محض ایک بغاوت کی سعی سے   ہٹ کر خیانت اور غداری کی شکل میں بیان کرنے  کی ایک وجہ ہے۔

۔اسوقت  ہمارے سامنے موجود تر ک قومی اسمبلی ہماری خود مختاری اور ڈیموکریسی کی علامت ہے۔

اس اسمبلی نے پہلی   جنگ نجات کی   بذات خود کمان سنبھالی تھی۔

۔پولاتلے تک پہنچ آنے والے دشمن  کے ساتھ ہونےو الی جنگ   سے توپ کے گولوں  کی آوازیں  سنائی دے رہی تھیں تو ہماری اسمبلی نے اپنے امور  کو جاری رکھا تھا۔

۔جمہوریہ ترکی کی تاریخ کے بھر کے دوران  کئی ایک بحرانوں   کا سامنا کرنے کے باوجود ،   کسی نے بھی  اس مقدس   مقام  کی جانب ہاتھ بڑھانے  کا سوچا تک نہیں تھا۔

۔محض  15 جولائی کو  وطن کے ساتھ غداری کرنے والوں  نے اس چیز کی جرات کی ہے۔

۔کیونکہ انہوں نے ملکی انتظامیہ پر قبضہ کرنے کے بجائے  کسی اور  ارادے سے یہ غدارانہ کاروائی کی تھی۔

۔ان کا مقصد  ہمارے وطن و قوم کو  اسیربناتے ہوئے ہماری ریاست اور تہذیب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔

۔یہی وجہ ہے کہ ترک قومی اسمبلی  کو اولین طور پر ہدف بنایا گیا اور  اس پر سب سے زیادہ بم برسائے گئے۔

۔باغیوں نے  یہ سوچ رکھا تھا کہ  ہمارے عوام خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ جائیگی اور ممبران اسمبلی قومی اسمبلی کو ترک  کرتے ہوئے  راہ فرار اختیار کر جائیں گے۔

۔ ترک قوم نے گلی کوچوں اور میدانوں میں نکل آتے ہوئے  اپنے وطن کا تحفظ کیا  تو انقرہ میں موجود اسپیکر اسمبلی اور ممبران نے  رات ساڑھے گیارہ بجے سے  لیکر قومی اسمبلی میں یکجا ہونا شروع کر دیا۔

۔جب رات کا ڈیڑھ بجا تو قومی اسمبلی تک  رسائی میں کامیابی حاصل کرنے والے  106 ارکان نے جنرل  کمیٹی  کا اجلاس لگاتے ہوئے اپنے امور کو شروع کر دیا۔

۔اس دوران  باری باری تقریریں کرنے والے  گروپ  قائم مقام  صدور، وزرا اور ممبران اسمبلی نے  بغاوت  کے خلاف  اپنے مؤقف کا  اظہار کیا۔

۔"15 جولائی محض تھیٹر کا ایک کھیل تھا" کہنے والے اس شب یہاں پر پیش آنے والے واقعات، مختلف سیاسی جماعتوں کے  ارکان اسمبلی کی جانب سے بیان کردہ اور قومی اسمبلی کی جانب سے  شائع کردہ "غازی اسمبلی میں اس رات" نامی کتاب   سے   تمام تر تفصیلات سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

 

میرے عزیز بھائی بہنوں۔۔۔

۔ترک قومی اسمبلی، 23 اپریل سن 1920 کو ممبران اسمبلی اور قوم کے ہمراہی میں دعاؤں ، درود شریف اور تکبیر کے ساتھ کھولی گئی تھی۔

۔اس واقع کے بعد 96 سال گزرنے کے بعد 15 جولائی 2016 کو  قومی اسمبلی کا ایک بار پھر ممبران  اسمبلی اور قوم کی  جانب سے اسی طرح دعاوں اور تکبیروں کے ساتھ  دفاع کیا گیا۔

۔ہماری قوم  میدانوں اور  گلی کوچوں  میں  باغیوں کے  سامنے ڈٹ کر کھڑی تھی تو ارکان اسمبلی قومی اسمبلی   میں جمع  ہوئے ۔

۔اس شب ہمارے پارلیمانی نمائندوں نے جنرل کمیٹی کی نشست لگاتے ہوئے باغیوں کو چیلنج کیا۔

۔ڈائس سے   پورے ترکی اور دنیا کی آنکھوں کے سامنے باغیوں کو "تم لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے"  کی چیخ و پکار کرنے والے   ممبران اسمبلی  نے ہمارے عوام  کی جانب سے اپنی ناموس کو امانت کے طور پر پیش کردہ  ، آزادی و ڈیموکریسی کی علامت قومی اسمبلی  کا تحفظ کیا۔

۔میں  یہاں پر قومی اسمبلی  سے وابستہ تمام تر افراد ، خاصکر  اس رات کو جنرل کمیٹی میں  شامل ہونے کا موقع حاصل کرنے والے 106ارکان اسمبلی کا فرداً فرداً شکریہ  ادا کرتا ہوں۔

۔باغیوں نے قومی اسمبلی پر بمباری کرتے ہوئے جس حد تک کمینگی کی تھی ارکان اسمبلی نے اس کے برخلاف قومی اسمبلی کی چھت تلے ہماری آزادی اورمستقبل  کا پرچم بلند کرتے ہوئے عظمت کا مظاہرہ کیا۔

۔اس عظیم قوم کو ایسی ہی پارلیمنٹ زیب دیتی  ہے۔

۔دوسری بار غازی کا اعزاز حاصل کرنےو الی ہماری قومی اسمبلی  کا ہمارے دل و ماغ میں مقام اب  کچھ اور ہی ہے۔

۔قومی ارادے  اور وطن عزیز کی علامت اس اسمبلی کی جانب دوبارہ  کسی کے ہاتھ نہ بڑھانے کے لیے ہم مزید بر سرپیکار ہوں گے۔

بقول شاعر:

"انسانی اوصاف کا مالک کیا وطن کا سودا کرتا ہے؟

تم نے اس کی روٹی کھائی  پانی پیا

کیا دنیا میں وطن سے زیادہ عزیز کوئی چیز ہے؟

تم لوگوں نے اس وطن کو کیسے بیچ دیا؟ 

۔۔۔

ایک  دن آئیگا یہ چرخہ صحیح جانب گھومے گا،

ایک دن آئیگا جب تمھیں حساب چکانا ہو گا،

ایک دن آئیگا تم سے سوال کیا جائیگا،

تم لوگوں نے اس وطن کو کیسے بیچ دیا؟

جی ہاں دوستو۔۔ بغاوت کا حساب و کتاب کرنے والوں نے، اللہ تعالی سے بڑھ کوئی دوسری ہستی نہ ہونے کو فراموش کرنے    کی وجہ سے اپنا سر دیوار سے نہیں بلکہ ہماری قوم کے ارادے  کو جا مارا۔

۔15 جولائی کی شب "اس وطن کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے اب کچہریوں میں اس غداری کا حساب دے رہے ہیں۔

۔رزق  کو  حاصل کردہ   وطن کو  پنسلووینیا   میں  ڈھیرے جمانے والے  مکاری  کے حکم سے ایک ڈالر  کے عوض بیچنے والے زندانوں میں مر کھپ جائیں گے  تو بھی یہ اسمبلی قوم  کی خدمت کرتی رہے گی۔

۔ کیونکہ ہم نے  قوم کو عندیہ دے رکھا ہے۔

۔ہم ایوان صدارت، قومی اسمبلی ، حکومت،  تمام تر سرکاری  اور نجی ارادوں کے  ساتھ مل کر اپنے ملک کو اعلی تہذیبی سطح   سے ہمکنار کرنے والے سن 2023 کے اہداف تک ضرور پہنچیں  گے۔

۔اس وعدے کو نبھانے تک نہ ہم، نہ ہی قومی اسمبلی، نہ  حکومت ترکی اور نہ ہی ہماری قوم  رُکے گی اور نہ ہی   سستی کرے گی۔

۔۔۔

میرے بھائی بہنوں۔۔۔

15 جولائی کی شب ایک ایسی رات ہے کہ نہ تو اسے لفظوں سے بیان کیا  جا سکتا ہے اور نہ ہی ہماری سانسیں  اسے بیان کرنے میں کافی ہیں۔

۔ڈیموکریسی اور قومی یکجہتی   کے دن کے طور پر اعلان کردہ اس  یوم کے معنی کو اس شب کو سہنے والے ہی کر سکتے ہیں۔

۔یہاں پر، پارلیمنٹ کے سامنے،  ہمارے عین سامنے واقع مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کے ارد گرد،  کزلائے اسکوائر ،  صدارتی کلیہ کے اطراف ، انقرہ  سیکورٹی  ڈائریکٹریٹ  کے سامنے، قزان  میں ُمرتد فوجی اڈے  کے سامنے  اور دیگر مقامات پر  رونما ہونے والے مذموم واقعات میں بیسیوں، سینکڑوں  افراد شہید ہوئے۔

۔ہمارے ہر شہید  کی داستان کی  مختلف اداروں کی جانب سے کتابی  اور دستاویزی شکل میں اشاعت و نشریات کی گئی ہے۔

۔جب بھی ہم اس دن کے غازیوں سے ملتے ہیں تو ان  کے سر پڑنے والے واقعات   کی تفصیلات جانتے ہوئے ہمارادل پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔

  ۔ابھی زندگی کی بہار کو بھی نہ دیکھنے والی  ،  14 سال کی عمر میں غازی کا عنوان  حاصل کرنے والی ہماری ایک دختر ، ان باغیوں  سے  کچھ اس طرح صدا بند ہوتی ہے"تم لوگ صرف  ایک 14 سالہ بچی کے سامنے   کھڑے نہیں ہو سکے تو  کس طرح اس مملکت کوتوڑنے، اس قوم کو اپنے قبضے میں لینے   میں کامیاب بن سکتے ہو؟

۔ ہمارے ایک دوسرے غازی  کا کہنا ہے کہ اس کے وجود میں سرایت کردہ 14 شرلے،    آخرت میں اس کی سب سے  بڑی دلیل  ہوں گے۔

۔اپنے والد، خود اورفرزند  کے ہمراہ   تین نسلوں کے طور پر پہلی بار  ٹینک  پر چڑھنے والے،  ایسا کہ جیسے اس نے سالوں سے تربیت حاصل کر رکھی ہو ، بڑی مہارت سے   ٹینک کو ناکارہ بنانے کی کوشش  کے وقت  گولی سے زخمی ہونے   والے ہمارے ایک دوسرے غازی کا کہنا ہے کہ اس کو اس بات کا افسوس ہے کہ اس  کی نصیب میں شہادت کا شربت کیوں نہیں آیا۔

۔اس رات انقرہ   سیکیورٹی ڈائریکٹریٹ  کی حفاظت کے  وقت باغیوں کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے والے   ایک پولیس  کا  افسر کا کہنا ہے کہ "اگر بعض حلقے ان کی مدد نہ کرتے  تو  یہ کوئی بھی کھائی پار  نہیں کرسکتے تھے۔"

15 جولائی شہدا پُل  پر گولی لگنے سے  پاوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ہمارے ایک دوسرے بھائی  نے آئندہ کی صبح اسپتال میں آنکھیں کھولنے پر بغاوت کو دبائے جانے  سے جانکاری حاصل کرنے  پر یہ الفاظ کہے"ہم نے دوستوں کو اعتماد دلایا ہے تو دشمن کو خوفزدہ  کیا ہے۔"

۔ہمارے ایک دوسرے غازی نے کھوئے ضائع ہونے والے عضو کی پراہ کیے بغیر کہا کہ"اگر یہ بغاوت کامیاب ہو جاتی تو ہم  اپنے بچوں ، پوتے پوتیوں کو  کس طریقے سے اس کی وضاحت کرتے؟"

۔جی  بھائیو۔۔اذان، پرچم اور وطن سے محبت سے  حلیم ترین شخص کو بھی کسی میتھالوجی ہیرو   میں بدلنے والی اس  روح،  ہیجان اور  جسارت  کے موجود ہونے تک ،  انشااللہ تعالی ٰ اس مملکت کے کوئی بھی ٹکڑے نہیں کر سکتا، اس قوم کو اسیر نہیں بنا سکتا۔

۔۔۔۔

بقول شاعر

 آج ہر جوان،بوڑھا ، عورت اور بچے

 سبھی کسی سائبان کے  تلے

کسی ساز کی  لپہ پر

سب جمع ہو جائیں ایک پرچم تلے

 ہمیں غلامی کی زنجیروں   سے بے آزاد

جانباز وطن موت  کی آغوش میں سدا مسکراتے ہوئے

قوم کی زندگی پر مٹتے ہوئے

روند نہ پائے کوئی غدار ِوطن ہماری  عزت و آبرو  کو اپنے پاوں  تلے

۔یاد ر کھیں  کہ 80 ملین     فرزندان ملت اپنے شہدا کی آن  پر  کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

۔باغی  نیچ  اور ان کو ہم پر مسلط کرنے والے اب کے بعد  چین سے نہ  بیٹھ سکیں گے

۔  ترک قوم   مزاحمت کرنا خوب جانتی ہے۔

۔    کیونکہ   یہ    واقف ہے کہ    آزادی  کےلیے  بھاری قیمت چکانا  ضروری ہے ۔

۔ جن کو یہ گماں ہے کہ وہ ترک قوم کی عظمت کو للکارتے ہوئے کسی لومڑی کی چال چلیں گے وہ یہ نوشتہ دیوار پڑھ لیں کہ  یہ وہ قوم ہے جو جان دے  سکتی ہے مگر  اپنے دفاع وطن  پر حرف نہیں آنے دے گی    اور ان بزدل   دشمنوں کو اپنے کیفر کردار تک ضرور پہنچا کر رہے گی ۔

آبا و اجداد   کے بقول:"  جو کرے گا وہ بھرے گا "لہذا  قوم مطمئن رہے ان کا حساب جلد ہوگا۔

۔۔۔

اے  عزیز ہم وطنوں۔۔۔  15 جولائی بغاوت کی کوشش   نے  ہمیں  دوست اور دشمن دونوں کا  ایک بار پھر اندازہ کرا دیا ہے۔

۔بغاوت کی اس کوشش کے ابتدائی لمحات  میں  جمہوریت اور حق بجانب انتظامیہ  کی حمایت کے بجائے   جمہوریہ ترکی  اور میری ذاتیات پر انگلی اٹھانے میں غیر ملی ذرائع ابلاغ بھی پیش پیش رہے۔

۔ہمیں  یہ بھی معلوم ہوا کہ   قوم نے جب اس بغاوت کا سر کچلا تو انہی  عالمی ٹھیکیداروں نے اپنی  ناکامی چھپانے کےلیے  فوراً پینترا بدلا اور غیر ملکی تجزیہ نگاروں نے  مختلف قسم کے  بیانات اپنی خفگی چھپانےکےلیے دینا شروع کر دیئے۔

۔اس کے جواب میں دنیا کے بیشتر ممالک میں  ہمارے سچے دوستوں نے  ترک شہریوں کے ہمراہ گلی سڑکوں میں نکلتے ہوئے  باغیوں کو چیلنج کیا۔

۔ہمارے کسی شہری کے بھی موجود نہ ہونے والے مقامات پر بھی، ترک  سفارت خانوں اور ترکی سے رابطہ ہونے والے کسی بھی ادارے کے سامنے یکجا ہوتے ہوئے  ہماری  حمایت  کا کھل کر مظاہرہ کیا ۔

۔بغاوت کی رات  جنگی طیاروں  کی گھن گرج میں دوست سربراہوں نے ٹیلیفون کرتےہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا اور اس مذموم کوشش کی  سخت مخالفت کی ۔

15 جولائی کی رات  ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے  کہ ہمیں ماضی کے مقابلے میں   ایک قوم بن کر  زیادہ مضبوط بننے کی ضرورت ہے ۔

۔اگر ہم مضبوط نہیں ہونگے تو یہ جان لیں کہ  ہمارے دشمن موقع غنیمت جان کر  ہمارے درمیان نفاق کی ایسی دیوار کھڑی کر دیں گے کہ  اسے گرانا  مشکل ہو جائے گا اور  یہ ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر لےگا۔

۔یہاں کسی کا نام لینا مناسب نہیں مگر جانتے ہیں کہ یہ لوگ کون  ہیں۔

۔انہیں میرا یہ پیغام     پھر دینا ہوگا جو کہ 15 جولائی 2016 کی رات کو میں نے  دیا تھا ۔

۔ان کو کہنا ہے کہ وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔

یہ پرچم ہمیشہ اونچا رہے گا ،

قوم   کا شیرازہ  بکھیرنے کی اجازت نہیں دیں گے،

وطن کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے،

جمہوریہ ترکی  تا ابد قائم رہے گا ،

اذان محمدی کی صدائیں کبھی  خاموش نہیں ہونگی،

یہ وطن کبھی بیرونی طاقتوں کے آگے نہیں جھکے گا،

 اور ہماری قوم کا سر نیچا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ہمیں ہماری منزل سے ہٹانا کسی کے بس کی بات نہیں ۔

۔۔۔

۔ہاں  ہم دوست اور دشمن میں  امتیاز کا سلیقہ رکھتے ہیں۔

اس سے بھی زیادیہ اہم یہ  کہ ہمیں اس بات کا علم ہے   کہ ہم کہاں سے آئے اور کس سمت جا رہے ہیں اور ہمارا تشخص کیا ہے۔

۔ترک قوم اس عظمت کی نشانہ ہے جس نے بھیڑیوں کے غولوں سے بھرے  خطے میں  اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا اور  قبیلوں کو ایک قوم کا روپ دیا ۔

 ہمارا  ماننا ہے کہ ہم ایک ہیں ،۔۔۔۔زندہ دل  ہیں،۔۔۔۔ بھائی چارے کی زنجیروں میں مقید ہیں، ۔۔۔عظیم تر ہیں ،،،اور  قوی ہیں۔

 اس لیے  اللہ پر توکل  باقی سب  فضول کہنا ممکن ہے۔

 ہم وطنوں۔۔۔   ہر جنگ کی طرح 15 جولائی کی رات قوم کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

۔بلقانی جنگ  کے بعد ہمیں اس پاک سر زمین  پر  20  لاکھ ہم وطنوں کی جانوں کا بوجھ برداشت کرنا  پڑا۔

۔جنگ چانق قلعہ میں  60 ہزار  افراد  شہید  اور اڑھائی لاکھ ہلاک ہوئے۔

۔جنگ عظیم اول  کے دوران تمام محاذوں پر ہمیں  ڈیڑھ ملین جوانوں کو گنوانا پڑا ۔ جن میں 4 لاکھ شہید شامل تھے۔

۔جنگ آزادی میں جنگی میدان میں ہم نے  دس  ہزار شہیدوں اور 35 ہزارزخمیوں کو چھوڑا۔

۔ دہشت گردی کے خلاف  میں  یہ تعداد   دو سالہ عرصے میں  دو ہزار کے لگ بھگ ہے ۔

۔ان تمام  قیمتی جانوں کا ضیاں بھولنا کسی طور ممکن نہیں ،

جن کے اہل خانہ پر غم و صدمے کے جو پہاڑ ٹوٹے وہ کسی آفت سے کم نہیں۔

۔کیا ممکن ہے کہ اس کا نقصان کسی کو نہ ہوا ہو؟

۔اس بنا پر ہم سب شہدا کے لواحقین ہیں،  ہم سب غازی ہیں۔

۔ہر دکھ گہرا ہوتا ہے لیکن ماوں کا دکھ نا قابل بیان ہے۔

لہذا  میں ان تمام ماوں کے نام یہ شعر عرض کرتا ہوں کہ :

 ماوں کے صدمات کا بدل ان کے سوگ  کی آگ

دشمن کے خون سے بجھے گی

 وطن  کی سرحدوں کا  نیا نقشہ

اس قوم نے  آتش و خون   سے  سینچا ہے

   آسمانوں  کی گر گراہٹ بھی کم پڑ جائے ایک ایسا وطن

مائیں جس پر کریں ناز اور نہ اشکبا رہوں  اپنے پیاروں کی قربانی پر

 لے آئے ہم وطن  کے دشمنوں کو  انہی کے گھٹنوں کے بل پر

۔۔۔۔۔

 ہاں  ہمارا اپنی ماوں سے وعدہ ہے کہ وہ  پر سکون رہیں  کہ ان کی اولادوں کا خون رائیگاں نہیں گیا

 اس کا ثبوت 15 جولائی کی رات ہے     اور اگر پھر  ایسی رات آئی تو یہ وعدہ ہے کہ ایسا دوبارہ ہوگا۔

۔ مہمت عاکف  نے کہا تھا کہ  اللہ ہماری قوم کو پھر سے  آزادی کا نغمہ لکھنے سے محفوظ رکھے 

۔  اور آج ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیں 15 جولائی کی بھیانک رات  اور دشمنوں کے شر سے  دور رکھے۔

ان الفاظ کے بعد تمام شہدائے ملت  کےلیے  رب العزت سے   مغفرت  ،غازیوں  کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے  عزیز قوم کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔۔



متعللقہ خبریں