انقرہ میں جناح  ینگ  رائٹرز ایوارڈ کی تقریب

اس ایوارڈ کا اجراءسفارت خانہ پاکستان نے پاکستانی کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے شروع کررکھا ہے جس کے لیے ترکی کی وزارتِ تعلیم  تعاون فراہم کرتی ہے۔  اس مقابلہ مضمون نگاری کا اس سال کو  موضوع تھا پاکستان ترکی کےبرادرانہ تعلقات اورحالیہ پیش رفت

انقرہ میں جناح  ینگ  رائٹرز ایوارڈ کی تقریب

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں  کل دوسری جناح ایوارڈ  تقریب  کے دائرہ کار میں  " جناح  ینگ  رائٹرز ایوارڈ"  مقابلہ مضمون نگاری منعقد ہو  ا۔ اس تقریب میں ترکی کے  قومی وزیر تعلیم   ڈاکٹر  عصمت   یلماز نے مہمان خصوصی  کی حیثیت سے شرکت کی۔

اس ایوارڈ کا اجراءسفارت خانہ پاکستان  نے پاکستانی کے بانی   قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے   شروع کررکھا ہے جس کے لیے ترکی کی وزارتِ تعلیم  تعاون فراہم کرتی ہے۔  اس مقابلہ مضمون نگاری کا اس سال کو  موضوع تھا "  پاکستان ترکی  کے برادرانہ تعلقات اور   حالیہ  پیش رفت" ۔

اس موقع پر ترکی کے قومی وزیر تعلیم   ڈاکٹر عصمت یلماز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ترکی اور پاکستان کے تعلقات  بڑے گہرے اور تاریخ سے چلے آرہے ہیں اور دنیا میں ان تعلقات کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی  جناح  اور غازی مصطفےٰ کمال جیسے رہنماؤں نے دونوں  ممالک کے عوام کی قسمت تبدیل کرکے  رکھ دی ہے۔  اسی طرح پاکستان کے عظیم قومی شاعر علامہ  محمد اقبال   اور ترکی کے قومی ترانے کے خالق  مہمت عاکف  ایرسوئے   نے دونوں اقوام  کو مشکلات  میں نئی امیدوں کا پیغام دیا   اور قوم کو بیدار کیا۔  انہوں نے کہا کہ جب تاریخ  پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ     ترکی اور پاکستان نے ہمیشہ ہی ایک دوسرے  کی مدد کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام   کبھی بھی  پاکستان کے عوام کی جانب سے ترکی کی جنگ نجات کے دوران کی جانے والی امدا دکو فراموش نہیں  کرسکتے ہیں ۔  انہوں نے دونوں ممالک  کے درمیان تعلیم کے شعبے میں ہونے والے تعاون میں فروغ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  اس وقت ایک ہزار دو سو طلبا ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس موقع پر سفیر پاکستان  سہیل محمود نے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  " جناح ینگ  رائٹرز ایوارڈ"  کی تقریب  ہماری سفارتکاری  کے ایک اہم حصے کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔  انہوں نے اس موقع پر   مقابلہ مضمون نگاری میں  حصہ لینے والے اور مختلف پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا اور طالبات کو مبارک با د دیتے ہوئے  مقابلے  کے مضامین میں دونوں ممالک  کے  مختلف موضوعات کا اجاگر کرنے پر اپنی دلی خوشی کا بھی اظہار کیا۔  انہوں نے کہا کہ اس ایوارڈ کے اجرا کا مقصد   نئی نسل کو ہمارے آباو اجداد کی  جانب  سے  دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے  کی جانے والی  انتھک  جدو جہد سے نئی نسل  کو آگاہ کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال مقابلہ مضمون نگاری  اس لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے  کہ امسال ترکی اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات ے قیام  کی 70 ویں سالگرہ  منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ  دونوں ممالک 14 اگست کو  مہہمت عاکف اور محمد اقبال  کے نام سے    الگ الگ یادگاری ٹکٹ بھی جاری کریں گے۔

اس سے قبل   وزارتِ تعلیم کی ڈر ایکٹر جنرل فوندا     کوجہ بییک  نے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  مقابلہ مضمون نگاری میں ترکی کے تمام اسکول کے بچوں نے حصہ لیا ہے اور 69 مضامین کو   اس مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا  جن میں سے پہلی، دوسری ، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے طبا اور طالبات میں  انعامات تقسیم  کیے گئے ہیں ۔

اس  مقابلہ مضمون نگاری میں فاطمہ  یلدرم   کو  پہلی، ایلف قیومجو  کو دوسری،  براق   چتین  کو تیسری،  عائشہ   بیضہ  کو  چوتھی ،  حقان  کمال، دل آرا آلبائراک   نے باالترتیب پانچویں اور چھٹی پوزیشن  حاصل کی۔

اس سے قبل  ترکی اور پاکستان کے تعلقات  کے بارے میں دستاویزی  فلم پیش کی گی۔تقریب میں  بڑی تعداد میں   ترکی اور پاکستان کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

 

 



متعللقہ خبریں