امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں نے ترکی کو مایوس کیا ہے

شام میں در پیش  تکالیف کے مقابل امریکہ نے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے علاقے میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK اور اس کی شاخ PYD   کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دی۔ میولود چاوش اولو

امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں نے ترکی کو مایوس کیا ہے

ترکی۔امریکہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

20 جنوری کو کرسی صدارت سنبھالنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے  لئے گرمجوش  پیغامات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم  ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے  کی کوشش کریں گے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے روز نامہ واشنگٹن پوسٹ کے لئے اپنے مقالے میں امریکہ سے ترکی اور ترک ملت کی توقعات کا اظہار کیا ہے۔

مقالے میں چاوش اولو نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی  اس وقت تک کی پالیسیوں نے ترکی کو مایوس کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نئے دور میں دونوں اتحادی ممالک کے درمیان باہمی اتحاد اور دو طرفہ اعتماد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

چاوش اولو نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی ملک  نے اتنی کوشش نہیں کی جتنی ترکی نے کی ہے خاص طور پر داعش کے  خلاف بھی موئثر ترین جدوجہد ترکی  ہی کر رہا ہے۔

ترکی۔ امریکہ تعلقات کے سنجیدہ سطح پر ایک کشیدہ دور سے گزرنے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے میولود چاوش اولو نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وائٹ ہاوس انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اقدامات اس کشیدگی کا سبب بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام میں در پیش  تکالیف کے مقابل امریکہ نے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے علاقے میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK اور اس کی شاخ PYD   کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دی۔

وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے مزید کہا کہ امریکہ کا، 15 جولائی کو ترکی میں حملے کے اقدام میں ملوث دہشت گرد تنظیم فیتو کے اراکین کو پناہ دینا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو فیتو کے سرغنہ  اور دیگر دہشت گردوں کے بارے میں تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے باوجود یہ دہشت گرد ابھی تک امریکہ میں اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔



متعللقہ خبریں