پاکستان ڈائری - 06

پاکستان ڈائری  میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں  گے میڈیا آئیکون شہاب زبیری سے ، جو بزنس ریکارڈر گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں  جس کے تحت وہ آج ٹی وی ، آج انٹرینمینٹ اور بزنس ریکارڈر اخبار کے انتظامی امور کے نگران ہیں

پاکستان ڈائری - 06

پاکستان ڈائری - 06

 

پاکستان ڈائری  میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں  گے میڈیا آئیکون شہاب زبیری سے ، جو بزنس ریکارڈر گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں  جس کے تحت وہ آج ٹی وی ، آج انٹرینمینٹ اور بزنس ریکارڈر اخبار کے انتظامی امور کے نگران ہیں۔وہ ڈیجیٹل پبلیشر ایسویسی ایشن کے صدر بھی ہیں ۔مارکیٹنگ اور میڈیا مینجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں وہ پاکستان کے پہلے پرائیویٹ چینل این ٹی ایم کے ریجنل ڈائریکٹر بھی رہےہیں  ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی ویک اینڈ ورلڈ مارکیٹنگ کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر  رہے ہیں اور اُس سے پہلے انٹر فلُو کمیونیکیشن  کے ریجنل ڈایریکٹر بھی رہے۔ان کا تعلق پاکستان کے معروف زبیری خاندان سے ہے۔حال ہی میں انکا نام پاکستان کے سوبہترین سی ای اوز کی لسٹ میں شامل کیا گیا۔ادب، فنون لطیفہ، تاریخ سے خاص شغف اور حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔میڈیا کی کہکشاں پر بہت سے ستارے متعارف کروانے کا اعزاز بھی ان کے سر ہے ۔ 

انکی اہلیہ ناصرہ زبیری بھی میڈیا سے تعلق رکھتی ہیں اور ملک کی معروف شاعرہ ہیں۔شہاب زبیری کراچی میں پیدا ہوئے اور ابتدایی تعلیم حیدر آباد کے کانونٹ سینٹ بونےوینچر سے حاصل کی۔ایف سی کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد پوسٹ گریجویشن کی ڈگری 

سسٹم اینالسٹ اور کمپیوٹر ساینسز میں حاصل کر چُکے ہیں ۔ 

شہاب زبیری نے ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوۓ  اپنے بچپن کے بارے میں کہا کہ وہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بہت زیادہ تو حصہ نہیں لیتے تھے  لیکن کھیلوں کے شوقین تھے ۔کرکٹ، ہاکی بھی کھیلتے رہے مگر کتب بینی کا زیادہ شوق تھا اور کئی سو کتابیں جمع بھی کر رکھی تھیں  ۔سکول میں کوئز میں بھی حصہ لیا اور انعامات جیتے۔   ہسٹری ،ادب اور فکشن کا زیادہ شوق تھا۔اگر کہا جائے تو زیادہ رحجان کتاب بینی کی طرف تھا۔ 

اپنے کرئیر کا آغاز مارکیٹنگاور ایڈورٹائیزنگ سے کیا ۔اس سلسلے میاں پاکستان کی نامور شخصیت عمر قریشی کو اپنا پہلا اُستاد مانتے ہیں ۔پاکستان کے بڑے بڑے اکاونٹس جن میں ملٹی نیشنل کمپنیاں، حکومتی ادارے ، پی آئی اے وغیرہ بھی شامل ہیں. مارکیٹنگ کی انٹرنیشنل ایڈورٹائیزنگ  ایجنسی ، ساچی اینڈ ساچی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ عالمی طور پر گورنمنٹ آف پاکستان کی انٹرنیشنل ریلیشننگ کا تجربہ بھی حاصل رہا ۔اانٹرنیشل کمپئینز کے ساتھ تجربہ حاصل کرنے کے بعدبراڈ کاسٹنگ انڈسٹری سے منسلک ہو گۓ۔

شہاب زبیری پاکستان کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے پہلے نجی چینل  این ٹی ایم میں کام کیا وہ ریجنل ڈائریکٹر رہے ۔شہاب زبیری کہتے ہیں کہ ہم این ٹی ایم پر اپنے پروگرام چلاتے تھے اور مارکیٹ کرتے تھے۔اس وقت مناپلی تھی پرائیویٹ سیکٹر میں ایک چینل تھا ہم نے بہت سے نئے تجربے کیے ۔چینل پر بڑے لوگ آئے اور نئے چہرے بھی متعارف کروائے گئے۔مشہور ڈرامے نشر ہوئے اور ایوارڈز کا انعقاد بھی کیا گیا۔              

انہی دنوں پی ٹی وی ورلڈ نے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کیا تو طاہر اے خان صاحب کے ساتھ مل کر ایک نئی کمپنی ویک اینڈ ورلڈ کی بنیاد رکھی اس کے لیے پروگرام بناۓ اور مارکیٹگ کی ۔پھر ایک وقت آیا کہ پاکستان میں نجی چینلز کو لائنس مل گئے تو بزنس ریکارڈز گروپ کا حصہ بن کر پاکستان کا پہلا پرائیویٹ نیوز چینل آج ٹی وی لانچ کیا کیونکہ پہلے والے چینل بیرونِ ممالک سے آن ائیر تھے تو ہمارا چینل پاکستان سے شروع ہونے والا پہلا چینل تھا ۔ اس طرح آج ٹی وی کی بنیاد پاکستان میں رکھی گئ اور جب سے آج تک چینل کامیابی سے چل رہا ہے

۔شہاب زبیری گروپ سی او او کی حیثیت سے اس وقت تین اداروں کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جن میں بزنس ریکارڈر ، آج ٹی وی اور آج انٹرٹینمنٹ شامل ہیں ۔ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے شہاب زبیری نے بتایا کہ ان ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھے اندرون اور بیرون ممالک سفر کرنے کا بہت موقع ملتا ہے۔آج ٹی وی وہ واحد چینل ہے جو تین عالمی نشریاتی اداروں  بی بی سی ،وائس آف امریکہ اور ڈی ڈبلیو کے خصوصی پروگرام نشر کرتا ہے ۔یہ پروگرام اردو میں چلتے ہیں ۔اس وجہ سے دنیا بھر کے میڈیا پروفیشنلز سے ملاقات رہتی ہے اور مخلتف ممالک دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اب دن رات میڈیا کے معاملات میں گزرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں انکی بیگم ناصرہ زبیری ان کی بہت معاونت کرتی ہیں اور اپنی والدہ کی دعاوں سے آج وہ اس مقام پر موجود ہیں ۔انکے تین بچے ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں ۔انکی بیگم ناصرہ زبیری صحافی اور شاعرہ ہیں انکے تین شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس لئے ادبی حلقوں کے ساتھ بھی شہاب زبیری کی خاص انسیت ہے۔ان کے گھر کا دسترخوان اور میزبانی بہت مشہور ہے اکثر میڈیا کے لوگ، سیاست دانوں کے ساتھ نشست اور ادبی محفلوں کا انعقاد ان کے گھر پر کیا جاتا ہے ۔فراغت کے لمحات میں وہ گھر پر رہنا پسند کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے ہاں ناشتہ اہتمام سے ہوتا ہے ۔ ان کی خواہش ہے کہ کھانا بہت اچھا بنا ہو تمام خاندان ساتھ ہو۔دعوتیں کرنے کا بھی شوق ہے ، دل کرتا ہے سب مل کر بیٹھ کر کھائیں اور باتیں کریں ۔چھٹی کے روز کتابیں پڑھتے ہیں اور اگر ڈپریشن محسوس ہو تو مزاحیہ فلمیں دیکھتے ہیں  ۔ مارننگ واک سے بہت اچھا محسوس کرتے ہیں وہ کہتے ہیں مجھے ذاتی  تشہیر پسند نہیں ، میں بہت کم انٹرویو دیتا ہوں ، میرا کام لوگوں کو پروموٹ کرنا ہے انہیں اسکرین پر لانا ہے۔

 شہاب زبیری کہتے ہیں کہ میڈیا کا مستقبل بہت روشن ہے میں تیس سال سے اسکا حصہ ہو ں حالیہ بحران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ مشکل پیش آئی کہ دنیا میں مین اسٹریم چینلز 5 سے 6 ہوتے ہیں اور باقی ریجنل ہوتے ہیں ۔پاکستان میں چینلز کی تعداد بہت زیادہ ہوگئ ہے۔جس کی وجہ سے میڈیا کو مشکلات کا سامناکرنا  پڑرہا ہے اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے ۔ سوشل میڈیا کسی کی قید میں نہیں اور اسکے اثرات مین اسٹریم میڈیا پر آگئے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا مقابلہ شروع ہوگیاہے ,ہر چیزکے اپنے اصول ہوتے ہیں ٹی وی کے اپنے اصول ، اخبار کے اپنے قواعد اور سوشل میڈیا کے اپنے ضوابط ہیں۔ ٹی وی سب مل کر ساتھ دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا انفرادی طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس لئے ٹی وی پر بہت خیال کرنا ہوگا خاص طور صحافی محتاط ہوکر کام کریں ۔ 

میڈیا کی نئی نسل کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں بہت پڑھنا چاہیے اور صحافت میں ایک خاص شعبے پر کام کرنا چاہیے۔کھیل ، فیشن، سیاست الگ الگ حصے ہیں اب تو کورٹ رپورٹنگ بہت اہم بیٹ ہے۔صحافت کے اندر بہت سے شعبے آگئے ہیں اس لئے صحافت کے طالب علم اور صحافی کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اس نے کون سا شعبہ منتخب کرنا ہے۔آل راؤنڈر اتنا نہ بن جائیں کہ آپ کھانا بنانے  بھی خود کھڑے ہوجائیں، مذہب پر بھی بات کریں اور کھیلوں پر بھی ۔۔۔ایک شعبہ منتخب کریں ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نئ نسل سے بہت رہنمائی لیتا ہوں اور ان سے بہت کچھ سیکھ رہا ہوں

 اگر آپ تمام فیلڈز پر گفتگو کریں گے تو آپ کی سنجیدگی کم ہوجائے گی۔کسی بھی صحافی کے ساتھ اس کے ادارے کا نام ہوتا ہے کوئی بھی صحافی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا صحافی معتبر ہوتا ہے اور معتبر صحافی ہی اصل صحافی ہوتا ہے۔ہیجان نہیں پھیلانا چاہیے اگر آپ کے محلے میں کوئی چھوٹا سا بھی مثبت کام ہوا ہے تو اسکو بھی اجاگر کرنا چاہئے ۔ کوئی ڈاکٹر مفت علاج کررہا ہے تو اس پر رپورٹ کرنا چاہیے کوئی استاد چالیس سال بعد ریٹائر ہورہا ہے اسکی زندگی پر بات کریں ۔ہر وقت عیب جوئی مناسب نہیں ۔ہیجان نہیں پیدا کرنا چاہیے پاکستان کو سکون کی طرف لے کر جانا چاہیے ۔اس ملک کا مستقبل میڈیا سے وابستہ ہے



متعللقہ خبریں