تجزیہ 06 (مورو: درخشاں مستقبل کی جانب رواں دواں)

مورو تاریخ کا پس منظر، پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے

تجزیہ 06 (مورو: درخشاں مستقبل کی جانب رواں دواں)

مورو  شاید انسانی  تاریخ کے طویل  ترین المیہ اور کرب و دکھوں کے پہاڑوں تلے دبتے ہوئے  بوجھ سے سب سے زیادہ  نقصان برداشت والا ایک علاقہ ہے۔ 1500 کی دہائی سے جنم پانے والا یکرب، مظالم، مصائب ،  قتل و غارت  کا یہ سلسلہ  آج کسی خاص امید کے   دور سے گزر رہا ہے۔ مورو کے بچوں  کے آنسووں کے تھمنے، تاریک ایام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ، ماں ۔ باپ   کے محروم ہوئے بغیر  مستقبل کی جانب امن و آشتی کے ماحول میں آگ بڑھنے کے لیے آسمان پر امید کی تیز کرنیں نمودار ہوئی ہیں۔

انقرہ  یلدرم بیاضت یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

مورو ، ترکی زبان بولے جانے والے  محل و وقوع میں  ، روز مرہ کی دعاؤں ، فلسطین، ایری ٹیریا اور کشمیر کی طرح کے مظلوم علاقوں کے نام سے منسوب کردہ ایک مقام ہے۔  مورو کا نام اجتماعی طور شاید زیادہ تر صالح مرزا بے اولو  کے اس مسحور کن شعر"درخشاں مستبقل کی جنگیں ۔مورو  داستان"  کے ساتھ    دنیا بھر میں سنا گیا تھا۔ تا ہم  اب ایک مختلف طرز کا مستقبل  مورو مسلمانوں  کا منتظر ہے۔

میں دراصل 21 دسمبر  کو منعقدہ ہونے  والے ریفرنڈم  کے حوالے سے آپ کو آگاہی کرانے کی کوشش میں ہوں۔

مختصر مورو تاریخ

دین اسلام کی فلپائن کے جزائر کو آمد، مشرقِ بعید  کے  دیگر علاقوں کو آمد اور اس کے مقبولِ عام ہونے سے مختلف نہیں ہے۔ مورو  کے باسی  مسلمان تاجروں کی وساطت سے دینِ اسلام سے متعارف ہوئے، جس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ مسلمان 15 ویں صدی تک اپنی اپنی ریاستوں کے ماتحت صد ہا سال سے  اپنی زندگیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مورو میں مسلمانوں اور ہسپانیوں کے درمیان جھڑپیں سن 1521 میں چھڑیں ۔ سقوطِ اندلس  کے ساتھ ہی جھڑپیں فلپائن تک پھیل گئیں اور اس دور سے آج تک  یہ تصادم مختلف طریقوں سے 500 سو سال سے چلے آرہے ہیں۔

انیس سو کی دہائی میں جنوبی فلپائن کا تقریبا سارا علاقہ  مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا تو  یکسانیت اور ڈیموگرافک ڈھانچے   میں تبدیلیوں کی کوششوں کی بنا پر مسلمان اب متعدد علاقوں میں اقلیت بن چکے ہیں۔ پہلے پہل ہسپانیوں،   بیسویں صدی کے پہلے نصف میں  علاقے پر حکومت کرنے والے امریکہ اور بعد میں  فلپائنی حکومت کی پالیسیوں کی بنا پر  مسلمانوں کا قتل  ہورہا ہے یا پھر انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ جب میں سال 2016 میں کوتا بوتو  علاقے کی سیر کو گیا تو اس دوران اپنے گھر بار سے دور ہٹائے جانے والے انسانوں کو  خشکی پر آباد ہونے کی اجازت نہ  ہونے  کی بنا پر نہروں پر  قائم کردہ تیرنے والی جھونپٹریوں میں قیام  کرنے کا مشاہدہ کیا تھا۔

مورو کے مسلمانوں نے  1960 کی دہائی میں ان کی نسل کشی  کی پالیسیوں کے خلاف ایک منظم مزاحمتی تحریک  کی داغ بیل ڈالی تھی، جسے انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف تنظیموں کی چھت تلے  جاری رکھا ہوا ہے۔ اس جدوجہد  کے حامل اسلامی نجات محاذ  کے لیڈر سلامت ہاشم  اور 2003 میں اس کی وفات کے بعد حج  مراد ابراہیم  حکومتِ فلپائن کے ساتھ مذاکراتی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 40 سال  جاری رہنے والی خانہ جنگی کہ جس دوران ایک لاکھ بیس افراد لقمہ اجل  بنے اور 20 لاکھ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے  کے خاتمے کے لیے حکومت ِ فلپائن اور مورو اسلامی نجات  محاذ  (ملف) کے  درمیان سن 2012  میں ایک فریم معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ سال 2014 میں سلسلہ امن کا بغور جائزہ لینے کے زیر مقصد"خود مختار   مشاہد وفد" کا قیام عمل میں آیا۔ فلپائن کے موجودہ صدر سن  دوترتے  نے 2014 کی انتخابی مہم کے دوران مورو میں ایک خود مختار ریاست کے قیام کا عندیہ دیا تھا۔

ریفرنڈم کے نتائج اور ان کا مفہوم

21 جنوری 2019 کو منعقدہ ریفرنڈم میں مورو  مسلمانوں کی خود مختاری   کو 80 فیصد ووٹوں کے ساتھ قبول کر لیا گیا۔ اب کے بعد 80 رکنی "بینگ سامورو عبوری انتظامیہ" تشکیل دی جائیگی، جو کہ ایک لحاظ سے سال 2022 تک  پارلیمانی  فرائض ادا کرے گی ۔

ریفرنڈم  کی منظوری کے ساتھ علاقے سےوصول کیے جانے والے ٹیکس کا 75 فیصد مقامی حکومت جبکہ 25 فیصد مرکزی حکومت کی ملکیت ہو گا۔ قدرتی وسائل  کی آمدنی کا 75 فیصد علاقائی انتظامیہ کو دیا  جائیگا  اور 25 فیصد مرکزی حکومت  وصول کرے گی۔

بینگزا مورو  کے مسلمان شہری   فلپائنی شہریوں سے ہٹ کر علاقے میں اسلامی قوانین کا اطلاق کر سکیں گے اور اپنے  بیچ اسلامی قوانین پر عمل درآمد کرنے کے اہل ہو ں گے اور مورو کے عیسائی شہری فلپائن کے سرکاری قوانین کے  ماتحت ہوں گے۔

مورو مسلمان اپنے درمیان مکمل طور پر خود مختار ، خارجہ پالیسیوں اور سیکورٹی معاملات میں مرکزی حکومت سے وابستہ ہو ں گے۔

مورو مسلمانوں  کی ضروریات

سلسلہ امن کی حمایت:  دنیا کے چاہے کسی بھی مقام پر کیوں نہ ہوں، امن کے ماحول  کو برقرار  رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔  ماضی کے تلخ واقعات ، طرفین  کے درمیان  جاری سلسلہ مذاکرات  کے دوبارہ نئے سرے سے شروع  کیے جانے  کے خطرات کو اپنے اندر پوشیدہ رکھتے ہیں۔ اس بنا پر خطے میں امن و آشتی کے ماحول کے خواہاں  حلقوں اور عالمی برادری کی  فلپائن میں اس سلسلے میں تعاون و حمایت حد درجے اہمیت کی  حامل  ہے۔ فلپائن کے صدرِ مملکت روڈری گو دوترتے  کا بینگزا مورو کے قریبی علاقے  کا باسی ہونا ، اپنے بچپن کو اس علاقے میں مورو  کے مکینوں کے ساتھ قریبی روابط کے ساتھ گزارنا سلسلہ امن  کی کامیابی کے لیے ایک اہم موقع تشکیل دیتا ہے۔ اس بنا پر سلسلے کےد وام کے لیے دوترتے کی حمایت  و حوصلہ افزائی انتہائی  اہم ہے۔ داعش  دہشت گرد تنظیم کو اس  سلسلے پر ضرب لگانے سے باز رکھنے کے  لیے بڑی احتیاط برتنی ہو گی۔

محض انسانی امداد پر اکتفا نہ کرنے  کی ضرورت:5سو سالوں سے حصول ِ آزادی کے لیے نبردِ آزما  ہونے والے اور اس راہ میں بھاری قربانیاں دینے والے  ایک معاشرے کی انسانی امداد کی ضرورت  نا گزیر ہے۔ اوپر بیان کردہ فلپائنی علاقے کی سیر کے دوران میں نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ علاقے میں 26 بین الاقوامی تنظیمیں بر سرِ پیکار ہیں  جن میں مسلم اُمہ   کی محض ایک تنظیم  شامل ہے جو کہ ترکی  کی انجمن برائے انسانی امداد ہے۔ ہمیں بلا شبہہ علاقے میں انسانی امداد ی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ جیسا کہ میں نے اس سے قبل کے تجزیوں  میں  سے ایک میں  واضح کیا تھا کہ www.yenisafak.com/hayat/filifinmoro.muslumanlari-ve-otesi-2556104

مورو  مسلمانوں کو سلسلہ خود مختاری کے قیام کےد وران  وسیع پیمانے پر  انسانی  امداد کی ضرورت لا حق ہے۔ طویل عرصے  تک اپنے پاؤں پر کھڑا رہ سکنے کے لیے زیادہ  تر جھڑپوں پر توجہ دینے والے  ایک معاشرے کو اس سلسلے میں ایک خود مختار انتظامیہ اور نظام کی تشکیل  کے لیے  ہنگامی طور پر تجربہ کار افراد کی ضرورت در پیش ہو گی۔  سیاسی نظام، پبلک فنانس،  بلدیاتی انتظامیہ، مرکزی بیوروکریسی۔ اعلی تعلیم اور عدالتوں کے لیے   متعلقہ تعلیم یافتہ افراد اور تجربات  سے استفادہ  کرنا  لازمی ہوگا۔ مورو مسلمانوں  کے غلط طریقہ کار اور نا اہل شخصیات کے باعث 5 صد سالہ  جدوجہد کو ضائع ہونے  کی اجازت نہ دینے کے  لیے  مورو کے رضاکاروں کو اس شعبے میں کافی کچھ کرنا ہو گا۔

جامعات  کی جانب سے شعبہ طب میں اور خود مختار انتظامیہ کی تشکیل میں ضرورت پڑ سکنے والے لاء،  پبلک ایڈمنسٹریشن، بلدیاتی انتظامیہ کی طرح کے شعبہ جات میں  فکلیٹیز  نہ بھی موجود ہوں تو بھی ووکیشنل کالجوں   کو کھولنا کئی ایک مسائل کے حل میں پائدار خدمات فراہم کرے گا۔

ترکی کی عالمی امن میں   خدمات کی قدرو قیمت: مورو میں امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے زیر مقصد ترکی کے بھی شامل ہونے والے ایک کمیشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔  علاوہ ازیں ایک جائزتی وفد کو بھی تشکیل  دیا گیا ہے۔ 5 رکنی اس وفد میں مورو مسلمانوں کی درخواست پر ترکی سے بھی ایک شہری تنظیم  شامل ہے۔ انجمن انسانی امداد  کے نام پر وفد میں حسین اورچ فرائض ادا کر رہے ہیں۔ وفد سلسلہ امن کے حوالے سے جائزے لے رہا ہے۔

ترکی ، چاہے اس کے شہریوں کو زیادہ آگاہی حاصل نہیں ہے تو بھی یہ اپنے ماضی، تجربات اور عالمی سطح پر وقار کی بدولت  عالمی امن وامان  کے قیام میں سب سے زیادہ خدمات فراہم کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہے۔ یہ خدمات نہ صرف حکومتی سطح پر ہیں بلکہ  فلپائن کی مثال کی طرح شہری تنظیموں اور جامعات کی وساطت سے بھی  فراہم کی جا رہی ہیں۔

مورو میں 5 صد سالہ جدوجہد  کے ذریعے حاصل کردہ پیش رفت ایک پوزیشن نہیں ۔ بلکہ ہر کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے والے جھڑپوں اور تصادم کے ماحول  کے اب ماضی بننے، ریفرنڈم کے نتائج سے مورو کے مسلمانوں، فلپائنیوں اور بنی نو انسانوں  کے لیے امن و آشتی کا ماحول پید ا کرنے، مورو  کے بچوں کے اب اپنے مستقبل کی جانب زیادہ  پر تحفظ طریقے سے  بڑھ سکنے کے لیے  اس سلسلے  کےدوام میں ہم سب کو مل جل کر خدمات فراہم  کر نی چاہییں۔

 

 

 



متعللقہ خبریں