پاکستان ڈائری - 05

پاکستان کے مقامی درختوں کے حوالے سے آگاہی اور ان کی افادیت کے بارے میں جان لینا بہت ضروری ہے

پاکستان ڈائری - 05

پاکستان ڈائری - 05

شجرکاری کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال کرنا چاہیے کہ ہم مقامی درختوں کو ترجیح دیں۔اکثر شہری حکومت ، ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نئ سوسائٹیز جلد ہریالی کے چکر میں باہر کے ممالک سے لاکر درخت لگا لیتے ہیں جو کہ خطے کی آب و ہوا کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔غیر ملکی درخت جلدی تو بڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے جن میں سہر فہرست اسلام آباد میں لگا پیپر ملبری کا درخت ہے۔اس درخت کو مقامی طور پر جنگلی توت کہا جاتا ہے اور یہ پولن الرجی کا باعث ہے جس سے اسلام ٓاباد کے شہریوں کی بڑی تعداد سانس اور دمہ کی بیماری میں مبتلا ہے۔اس لیے پاکستان کے مقامی درختوں کے حوالے سے آگاہی اور ان کی افادیت کے بارے میں جان لینا بہت ضروری ہے۔

پاکستان میں بہت سے دیسی درختوں کے ساتھ مختلف جھوٹی کہانیاں منسوب کردی گی ہیں کہ ان پر چڑیلوں بھوتوں کا بسیرا ہوتا ہے یہ سب صرف باتیں ہی پاکستان کے دیسی درخت ہر لحاظ سے بہت مفید ہیں۔ہمارے ملک میں ۲۵ فیصد رقبے پر جنگلات ہی ماحولیاتی ٓالودگی کو کم کرسکتے ہیں۔اس لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرکے درختوں کی تعداد کو بڑھنا ہوگا ۔موسم بہار شجرکاری کے لیے موزوں ترین ہے اس میں جتنے درخت لگاسکیں اتنا مفید ہے۔

شیریں 

شیریں یا سرس سنہری پھولوں والا درخت ہے ۔یہ درخت گھنا ہوتا ہے اس سے مویشیوں کا چارہ حاصل ہوتا ہے اور دیگر کاموں کے لیے لکڑی حاصل کی جاتی ہے۔طب یونانی میں شیریں کے درخت سے ادویات بھی بنایی جاتی ہیں۔شیریں کا درخت بہت جلد بڑا ہوتا ہے۔شیریں کا درخت لگایے جانا بہت موزوں ہے۔

بیری

بیری درخت جس کے بارے میں عام طور پر بہت افواہیں گردش کرتی ہیں کہ اس پر جن بھوتوں کا قبضہ رہتا ہے.بیری کو لے کر بہت سے محاورے بھی مشہور ہیں اور کہانیاں بھی جبکہ بیری درخت بہت مفید ہے مویشی اس کے پتے شاخیں بہت شوق سے کھاتے ہیں۔موسم بہار میں اس پر پھل لگتا ہے۔یہ سختی برداشت کرنے والا درخت ہے۔ایسی زمین جہاں فصلیں کاشت کرنا ناممکن ہو وہاں پر بھی یہ درخت آسانی سے اگ جاتا ہے۔

ٓآم 

ٓآم پھلوں کا بادشاہ ہے اور اسکو پاکستان میں قومی پھل مانا جاتا ہے۔پاکستان کے اس مزیدار پھل کو بڑے پیمانے پر وسطی سندھ اور جنوبی وسطی پنجاب میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس کا درخت گھر میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔اس درخت کے پھل سے اچار ،چٹنی، مربہ، امچور اور مخلتف اقسام کے مشروبات بنایےجاتے ہیں۔اس کی مخلتف اقسام پاکستان میں کاشت ہوتی ہیں جن میں انور رٹول ، دسہرا،سندھڑی،لال پری ، لنگڑا،چونسا، سرولی اہم ہیں۔آم سدا بہار درخت ہے ۔اس کے درخت پر جب بور لگتا ہے اسکے ۱۲۰ دن کے بعد اس درخت پر پھل آتا ہے۔

املتاس

املتاس سدا بہار درخت ہے۔اس پر بہار کے موسم میں پیلے پھول کھلتے ہیں جو دیکھنے میں بہت خوبصورت لگتے ہیں۔اسکے درخت کا قد چالیس سے پنتالیس فٹ ہوتا ہے۔موسم گرما میں اس پر پھلی لگتی ہے جو ادویات میں کام آتی ہے۔اس کی لکڑی سے خوبصورت فرنچر بنتا ہے اور یہ ایندھن کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔املتاس کے پھل سے گل قند بنایا جاتا ہے۔املتاس کو امید کا پھول بھی کہا جاتا ہے۔

نیم 

پاکستان کا سنہری اور بہت مفید درخت نیم ہے۔اس کے پتے بہت سی بیماریوں کے لیے بہت مفید ہیں۔جلدی امراض میں اسکا استعمال کیا جاتا ہے۔نیم کا بیج ، تیل ، پھل ،جڑ اور چھال ہر حصہ ہی مفید ہے۔یہ درخت مٹی زمین کے کٹاو کو روکتا ہے۔

جامن 

جامن پھل دار درخت ہے۔یہ کاشتکاری اور گھر دونوں میں لگایا جاسکتا ہے۔جامن صحت کے لیے بہت مفید پھل ہے۔جامن کو سیم اور سیلابی علاقوں میں لگایے جانا موزوں ہے۔جامن کی چھال، پتے، پھل ،جڑ اور تنا ہر چیز ہی قابل استعمال ہیں۔جامن جولایی اور اگست میں پھل دیتا ہے۔

کچنار

کچنار پاکستان کا ایسا درخت ہے جس کی پھلیاں بہت شوق سے کھایی جاتی ہیں۔پنساری کچنار کی چھال کو مختلف ادویات میں استعمال کرتے ہیں۔کچنار سدا بہار درخت  ہے۔یہ درمیانے قد کا درخت ہے

۔اس پر نومبر دسمبر میں خوش رنگ گلابی جامنی پھول لگتے ہیں۔کچنار کو گوشت ، قیمہ میں بہت شوق سے ڈال کر پکایا جاتا ہے ساتھ اسکا اچار بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔

سہانجنا 

سہانجنا ایک کرشماتی درخت ہے اس کے پتوں کا پاوڈر ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہے ۔اسکی پھلی لوگ گوشت کے ساتھ پکا کر کھاتے ہیں اور اسکا اچارچٹنی بھی بنایا جاتا ہے۔اس کے تازہ پتے جوکہ سلاد میں استعمال ہوتے ہیں ان میں دودھ سے دو گنا زیادہ کیلشم پایا جاتا ہے۔مورنگا ، سہانجنا ایک مکمل فوڈ سپلیمنٹ ہے۔مورنگا کے بیج سے تیل بھی نکالا جاتا ہے۔اسکے پتوں کی چایے بھی پی جاتی ہے۔مورنگا کی نئ کونپلیں فروری مارچ میں نمودار ہوتی ہیں اور پھلیاں جون تک تیار ہوتی ہیں۔

 

درخت لگانے کا طریقہ 

درخت موسم بہار اور موسم برسات میں لگایا جایے۔باہرگلی یا میدان میں درخت ایک قطار میں لگے گئیں اور ان کا فاصلہ دس سے پندرہ فٹ ہونا چاہیے۔گھر میں لگاتے وقت دیوار سے دور لگائیں ۔ نرسری سے پودا خریدیں زمین میں پودے کی جڑ جتنا گہرا گڑھا کھودیں۔ اورگینک ریت مٹی سے بنی بھل لائیں اور پودے کے مٹی میں مکس کریں ۔پودا اگر کمزور ہے اس کے ساتھ ایک چھڑی باندھ دیں ۔پودا ہمیشہ صبح کے وقت لگائیں یا شام میں لگائیں دوپہرکو پودا لگانے سے پودا سوکھ  جاتا ہے۔پودا لگانے کے بعد اس کو پانی دیں ۔گڑھا نیچا رکھیں تاکہ اس میں پانی کچھ دیر جمع رہے ۔ہر ایک دن بعد چھوڑ کرپودے کو پانی دیں ۔سردی میں کم پانی دیں اور گرمی میں زیادہ۔  پودے کے گرد کوئی جڑی بوٹی نظر آئے تو اسکو کھرپے سے نکال دیں۔اگر پودا مرجھانے لگے تو گھر کی بنی ہوئی کھاد یا یوریا فاسفورس والی کھاد اس میں ڈالیں لیکن بہت زیادہ کھاد نہیں ڈالنی کھاد اس سے بھی پودا مرجھا سکتا ہے ۔درخت سالوں میں بڑے ہوتے ہیں اور صدیوں ماحول کوصاف رکھتے ہیں.اس لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کے لیے اور گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوگے۔

جویریہ صدیق صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول 2015 میں شائع ہوئی ۔انکا ٹویٹر اکاونٹ 

javerias@ ہے۔

 



متعللقہ خبریں