ترکی کی سیر و سیاحت - سومیلا مناستر

ترکی کے  مشرقی بحیرہ اسود کے علاقے میں قاراداع کے دامن میں عمودی شکل میں کھڑی  چٹانوں پر ایک عظیم الشان مناستر موجود ہے جسےسومیلا مناستر  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

ترکی کی سیر و سیاحت - سومیلا مناستر
سومیلا مناستر
سومیلا مناستر

سومیلا مناستر 

ترکی کے  مشرقی بحیرہ اسود کے علاقے میں قاراداع کے دامن میں عمودی شکل میں کھڑی  چٹانوں پر ایک عظیم الشان مناستر موجود ہے جسےسومیلا مناستر  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

 17 ہزار سال قبل تعمیر کیا جانے والا یہ مناستر دنیا کا قدیم ترین اور اہم ترین مناستر سمجھا جاتا ہے۔

 ایک روایت کے مطابق سومیلا مناستر تیسری صدی میں یعنی بازنطینی دور میں ایتھنز سے آئے ہوئے دور راہبوں کی جانب سے تعمیر کیا گیا تھا۔

 جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس مناستر کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور تیرہویں صدی میں  اس کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس میں نے حصوں کا اضافہ کردیا گیا۔

مشرقی بحیرہ اسود کے ساحلی علاقوں کے ترکوں کی حاکمیت میں چلے جانے کے بعد سلطنت عثمانیہ کے سلاطین نے کئی  ایک دیگر مناستروں  کی طرح سومیلا مناسترکو بھی اپنے تحفظ میں لے لیا اور اس   منا ستر کے لئے بھی مراعات  جاری کردیں ۔

اٹھارہویں صدی میں اس کے کئی حصوں کی از سرِنو مرمت کی گئی، متعدد دیواروں  پر نقش نگاری کی گئی۔  انیسویں صدی میں اس مناستر میں  مزید عمارتیں شامل کرتے ہوئے اسے مزید عظمت عطا کر دی گئی اور اس طرح  یہ مناستر  تمام ادوار پر اپنی عظمت کے لحاظ سے بازی لے گیا۔ سن  انیس سو سولہ میں اس علاقے پر  دو سال کے لئے روس نے قبضہ کر لیا۔ سن  1923 میں اسے مکمل طور پر خالی کروا لیا گیا۔

سومیلا مناستر کئی صدیوں تک ایک مذہبی مرکز کے طور پر خدمات فراہم کرتا رہا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہاں پرپادریوں اور راہبوں کو تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

سومیلا مناسترکے اہم حصوں میں چٹانوں والا کلیسا ، چپیل، باورچی خانہ،  طلبہ کے کمرے،  مسافرخانہ،  کتب خانہ، پالیدارشامل ہیں۔ کلیسے  اور چیپل  کی دیواروں نقش نگاری کی گئی ہے۔  یہ نقش و نگاری  زیادہ تر کتاب ِ مقدس انجیل میں پیش کردہ واقعات پر مشتمل ہے اور اس میں حضرت  عیسیٰ اور حضرت مریم کی زندگی  کی عکاسی کی گئی۔

سومیلا مناسترجسے عوام میں حضرت مریم کلیسا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ترکی کے بحر اسود کے مشہور شہر ترابزون کی  تحصیل  ماچکہ کی حدود میں واقع ہے۔  یہ مناستر  وادی سے تین سو میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔  اس مناستر  میں  سن 2010 میں فینر  یونانی پیٹرک  کی قیادت میں مذہبی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔  عیسائیوں  کی جانب سے  اسے  مقدس مقام دینے  جانے کی وجہ سے  ہر سال  ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں کی زیارت کرتے ہیں۔

سینکڑوں سالوں کے نشانات کو اپنے اندر سموئے ہوئے اس مناستر کو دیکھنے کے لئے  آپ علاقے  کا  رخ  اختیارکرسکتے ہیں۔اسی علاقے کی حدود میں واقعہ قدرتی خوبصورتی سے مالامال مشہور Uzungölü،  ترابزون  آیا صوفیہ  میوزیم اور قصر  ِاتاترک  کی بھی سیر کی جاسکتی ہے۔

 یہاں پر آپ Akçaabat کوفتے، گھی  میں تلی ہوئی مچھلی،  مکئ  کا آٹا،  مقامی  پنیر سے بنے ہوئے مقامی کھانے کھانوں سے بھی لطف اندوز ہونا بھی مت بھولیں ۔



متعللقہ خبریں