تجزیہ 02 (یمن کی مروہ)

انقرہ  یلدرم بیاضت یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا جائزہ

تجزیہ 02 (یمن کی مروہ)

ہم بعض اوقات چھوٹی موٹی   چیزوں اور مسائل کو ایسے بڑھا چڑھا کربیان کرتے  ہیں کہ محض انہی مسائل   میں الجھتے ہوئے اپنی زندگیوں، ارد گرد کے لوگوں،  اور حتی ملک  کو  ناقابل ِ برداشت  تصور کرنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں مسائل سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ، اپنے قیام کردہ ملک کا باہر سے جائزہ لینا  کہیں زیادہ ذی فہم  جائزے لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس  دائرہ کار میں مندرجہ ذیل حقیقی کہانی کو   میں ترکی  کی جانب سے اظہار کرنے کی خواہش ہونے والے مفہوم کو سمجھ سکنے  کے لیے پیش خدمت  کر رہا ہوں۔

ترکی ، در پیش  غیر معمولی حالات  کے باوجود   اب  سرعت سے   تعلیم و تربیت کے مرکز کی حیثیت اختیار کرتا چلا  آرہا ہے۔ میرے طالبعلمی کے دور میں ترکی  مستقبل کی تلاش کیے جا سکنے والے  ممالک کی صف میں شامل نہیں تھا اور اب تقریباً ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی طلبا و طالبات ترکی بھر کی یونیورسٹیوں  میں زیرِ تعلیم ہیں۔  جب ہم ان اعداد  کا ذکر کرتے ہیں تو  یہ اپنے پیچھے چھپی الف لیلولی کہانیوں کا لبادہ اوڑھی کسی  چادر  کا تاثر  دیتے ہیں۔ در حقیقت ہر طالب علم کی زندگی ، دل کو چھونے والے قصے کہانیوں، محنت و مشقت ، ہیجان ، امید و جستجو  پر مبنی  ہوتی ہے۔ ترکی کے ان نوجوانوں کے لیے کس قسم کے ہیجان، امید کی کرن  ہونے  کو بیان کرنے  کے لیے  ہم یمنی مروہ کی کہانی کو گوش گزار کر رہے ہیں، جو کہ ترکی میں زیر تعلیم ہزاروں غیر ملکی طلباء میں  شامل ہے۔

 انقرہ  یلدرم بیاضت یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ۔۔۔۔۔۔

"اے ماں یہ دیار یمن ہے جہاں  دکھوں کے پہاڑ دفن ہیں"

یمن۔۔ بحرِ احمر، خلیجِ عدن، بحیرہ  عمان  کے کنارے پر ، سٹریٹیجک  حیثیت کی بنا پر تاریخ کے تقریباً ہر دور میں  کرب و مصائب جھیلنے والا ایک ملک ہے۔ ہمارے  لیے  یہ مقام مکہ و مدینہ  کے دفاع کے اس مقام سے شروع ہونے کی باعث  اس کے تحفظ کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔ چناق قلعے   کے  ہمراہ یہ   شاید  سینے میں گہرے گاؤ  لگانے والا اور قوم کو سب سے زیادہ  خون کے آنسو رلانے والا ایک مقام ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جس نے  15 سال کی ہی عمر میں ہماری نوجوان بچیوں کو آنسو  بہانے پر مجبور کیا تھا۔  ہمارے بہادری کے قصے کہانیوں  سمیت سب سے زیادہ دکھ و  درد کا موجب بننے  والی اور بلند سطح پر شہدا  کے خون   سے رنگی مٹی اسی سر زمین پر  ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ جب بھی چناق قلعے اور یمن کا ذکر آتا ہے تو ہمارے سینوں میں درد سے اٹھ جاتا ہے۔

امیدوں کا سفر ۔۔۔

مروہ  اسی  ملک یعنی یمن کے دارلحکومت صناء سے تعلق رکھتی ہے۔  ہر نوجوان کی طرح اپنے مستقبل  کی تلاش میں ہونے کے وقت سن 2014  کی خانہ جنگی نے اس کے ملک کے مستقبل کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ جب ملک میں بغاوت ہوتی ہے تو پھر صرف اور صرف اسلحہ کا ہی راج قائم ہو جاتا ہے اور انسانیت کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔  نہ تو نوجوانوں   پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل  پر۔۔

سن 2015  میں  کسی ڈراؤنے خواب  کی طرح سر  پر پڑنے والی اس افراتفری کے ماحول میں جب  مستقبل تاریک بن  گیا تو اسی دوران مردہ کے لیے ایک روشنی کی کرن نمو دار ہوئی۔ ادارہ برائے بیرون ملک میں ترک و اقرباء     کی جانب  سے اس لڑکی کو ترکی میں  اعلی تعلیم  حاصل کرنے کا موقع  دینے کی اطلاع دی گئی ۔ امریکی فُل برائٹ، جرمن داد ،  برطانوی چیونگ  وظیفہ پروگراموں کے یمن کی خانہ جنگی کی بنا پر روکے جانے کے ایام میں  ترکی وظائف مروہ سمیت ڈیڑھ سو یمنی طلباء کے  لیے تابناک مستقبل  کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے۔ ان لوگوں  میں ترکی کے خواب کے ساتھ اس ملک میں تعلیم کے زیور سے منور ہوتے ہوئے اپنے ملک کی نشاطِ  نو میں ہاتھ بٹانے کا ہیجان  سرایت  کر گیا۔

ایک جانب امیدوں  نے جنم لیا تھا تو دوسری جانب زندگی کے تلخ حقائق ان  کے سامنے تھے۔ ملک میں  خانہ جنگی  کے باعث صنا میں غیرملکی سفارتخانے بند پڑے تھے ، زیادہ تر جدہ منتقل کر دیے گئے تھے۔ سیکورٹی اسباب کی بنا پرپروازیں بھی بند تھیں۔ ترکی آنے کے لیے انہیں ویزے لینا لازمی تھا۔ اس کا واحد  راستہ خشکی کے راستے جدہ منتقل ہونے والے ترک سفارتخانے تک رسائی کرنا تھا۔ تا ہم مختلف   مسلح گروہوں کے زیرِ نگرانی ہونے والی ان گزرگاہوں  پر بمباری، جھڑپوں، حملوں اور چیک پوسٹوں  سے گزرتے ہوئے سعود سرحدی چوکی تک پہنچنا  نا ممکن دکھائی دے رہا تھا۔ سعودی سرحدی چوکی تک پہنچنے کے بعد  بھی سعودی  سر زمین میں داخلے کی اجازت ملنے کی کوئی ضمانت  نہیں تھی۔

اس لاچارگی کے ماحول میں کوئی حل چارہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہونے والے  نوجوانوں نے صناء میں  کئی بار ملاقات کرتے ہوئے سو چ و بیچار کی اور انہوں نے جدہ میں سرگرم عمل ترک سفارتخانے سے رابطہ قائم کیا۔  حصولِ ویزہ کے  لیے پاسپورٹو ں کو جدہ  لیجانے  کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں تھا۔ آخر کار ایک نوجوان نے تمام تر پاسپورٹوں کو جدہ پہنچانے کا بیڑہ اٹھانے  کی رضا مندی ظاہر کر دی۔ متلعقہ نوجوانوں نے  بڑی امیدیں باندھتے ہوئے وظیفہ ملنے والے تمام تر طالب علموں کے پاسپورٹوں کو یکجا کرنا شروع کر دیا۔  تا ہم ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھرگیا جب  رضا کار نوجوان  بمباری  اور حملوں کے خوف کی وجہ سے ڈر  گیا اور   اپنے وعدے سے منکر ہو گیا۔

تمام تر امیدوں کے ختم ہونے والے اس لمحے  پر مروہ نامی دوشیزہ نے  یہ کام اپنے سر لینے کا اعلان کر دیا، جس پر اس کے والدین کو گہری تشویش ہوئی انہوں نے اسے  باز رکھنے کی کوشش کی اور کہا  کہ اگر تم نے  جانے کی ٹھان ہی لی ہے تو  پھر  کم خطرہ اپنے سر پر لو اور صرف اپنا ذاتی پاسپورٹ ہی لیکر جاؤ۔  مگر مروہ جانتی تھی کہ وظیفہ  عطا کیے جانے والے تمام تر طالب علموں کا مستقبل اس کے ہاتھ میں ہے لہذا وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہی۔  نوجوانوں اور ان کے کنبوں سے وقت ضائع کیے بغیر 90 پاسپورٹ جمع کر لیے کیونکہ بعض تک رسائی  نہ ہوپائی اور بعض نے مروہ کے اس مشن میں کامیاب نہ ہو سکنے کی سوچ کے ساتھ پاسپورٹ دینے کی جسارت نہ دکھائی۔

ترک سفیر  فاضلی چورمان کو مروہ کے اس عزم پر دلی مسرت ہوئی، لیکن انہوں نے اس کام کے خطرات کے حوالے سے اس نوجوان دوشیزہ کو بار ہا آگاہی کرائی۔  انہوں نے  مروہ کو "ترکی اسکالرشپ حاصل کرنے اور حصولِ ویزہ کے لیے  دیگر طلباء کے پاسپورٹوں کے ساتھ جدہ کا سفر کرنے " پرمبنی ایک  دعوت نامہ فراہم کر سکنے کا عندیہ دیا۔

مروہ نے اپنے اہل خانہ ، دیگر طلباء اور ان کے خاندانوں کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رختِ سفر باندھا جو کہ دو دن تک جاری رہا۔ شاید یہ سب کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اس کے سفر بھر کے دوران راستے میں بمباری، حملے اور جھڑپیں نہ ہوئیں۔ کئی چیک پوسٹوں پر یمنی ثقافت کے تقاضے کے مطابق اس کی جسمانی طور پر تلاشی نہ لی گئی۔ صبح دس بجے کے قریب یہ یمن کی کسٹم چوکی کو پہنچی، جہاں پر لوگوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔  لیکن اس نے وقت ضائع کیے بغیر یمنی حکام کو آمادہ کرتے ہوئے  جلد ہی سرحد پار کر لی۔  بیک پیک میں 90 طلباء کے مستقبل یعنی پاسپورٹوں کے ساتھ یہ سعود کسٹم چوکی کی جانب  بڑھتی گئی۔

"بلا محرم"  آپ نہیں جا سکتیں۔۔۔

سعود چوکی پر امور بالکل آسان کام نہیں تھا، وہاں کے کارکنان نے مروہ کی باتوں  پر اعتبار نہ کیا۔ اس پر خفتگی کا اظہار کرتے ہوئے اس دن کوئی  ایکشن نہ لے سکنے اور آئندہ کے روز  آنے کا کہتے ہوئے اسے واپس لوٹا دیا۔ ریگستان کے بیچ ایک نوجوان دوشیزہ کیا کر سکتی تھی؟  اس نے دوبارہ ترک سفارتخانے سے رابطہ قائم کیا، جس پر سفارتخانے اس معاملے پر روشنی ڈالنے والا ایک فیکس پیغام بھیجا۔  اب کی بار  سعودی  کارکنان نے اب کی بار بلا محرم  کے سعودی عرب میں داخل نہ ہو سکنے کا جواز پیش کر دیا۔ مروہ نہ حج یا عمرے کے لیے نہ آنے اور تین دن سے زیادہ قیام نہ کرتے ہوئے  ویزے کے حصول کے بعد فوراً اپنے ملک لوٹنے  کا بار ہا عندیہ دیا۔ وہ لوگ آمادہ  تو نہ ہوئے  تاہم  ایک سرکاری کاغذ پر کسی مرد کا فرضی نام لکھتے ہوئے  نو گھنٹوں کی مشقت اور جدوجہد کے  نتیجے میں مروہ  کو ملک میں داخلے کی اجازت دے ہی دی۔ 

ترک سفارتخانے کے کارکنان نے دلی مسرت اور جوش و خروش سے مروہ کا خیر مقدم کیا اور تین روز کے اندر تمام تر پاسپورٹوں پر  ویزے جاری کر دیے۔

لیکن  مروہ کی مشکلات ابھی ختم نہ ہوئی تھیں کیونکہ واپسی کا راستہ  بھی آنے کی حد تک خطروں سے بھر پور تھا۔ واپسی پر اسکی بس ایک پُل پر بمباری کے وقت صرف چند منٹوں کے فرق سے تباہ ہونے سے بچ گئی۔ یہ بس  ریگستان  کے  اندر متبادل راستوں سے ایک طویل سفر کے بعد صنا ء پہنچے میں کامیاب ہو ہی گئی۔

مروہ اسوقت یلدرم بیاضت یونیورسٹی میں میری طالبہ ہیں۔ دیگر یمنی طلباء بھی اپنے ملک کی خدمت کے لیے ترکی میں اپنی تعلیم کو کامیابی سے مکمل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

میں اس کہانی کو ، ہم پر نکتہ چینی کرنے والوں، حتیٰ حقارت سے کام لینے والوں،  بے ادبی کی بنا پر کہیں زیادہ سخت جواب کے مستحق ہونے  کے باوجود ، ان پر چھوٹی موٹی تنقید کے وقت  'اب اس ملک میں زندگی نہیں بسر کی جا سکتی، ہم جا رہے ہیں' کہنے والوں کے  نام کرتا ہوں۔



متعللقہ خبریں