ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 52

صدر رجب طیب ایردوان کے دولتِ ترک کے نظریے اور اس کے پرچار کے خطے پر اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 52

 ترک خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں اہم سطح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور اس میدان میں اہم فاصلہ طے کیا گیا ہے۔  اس سلسلے کے معمار جمہوریہ ترکی کے صدر ایردوان کا   اس معاملے میں اہم حوالوں  میں  سے ایک مملکت ِ ترک کا فلسفہ  ثابت ہوا۔ مملکت ِ ترک  فلسفے اور اس  کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین  الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔۔

ترک خارجہ پالیسی کا باہر سے جائزہ لینے والی  آنکیں گزشتہ چند برسوں سے اہم سطح کی تبدیلیوں اور پیش قدمی کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ بلا شبہہ اس تغیر و پیش رفت کے پیچھے قیمتی منصوبے کار فرما ہیں۔ جمہوریہ ترکی کے  صدر رجب طیب ایردوان کے اس معاملے میں اہم ریفرنسز  میں سے ایک مملکت ِ ترک کا فلسفہ ہے۔

ترکوں کے کسی دوسری قوم سے موازنہ نہ کر سکنے کی حد تک ایک وسیع جغرافیہ میں حکومت کرنے، مختلف ادوار میں سپر پاور بننے، اتار چڑھاؤ پر مبنی تاریخ اور موجودہ صورتحال  ترکوں کے مملکت کے فلسفے  پر تحقیقات نا گزیر بنتی جا رہی ہیں۔ ریاست کے قیام کو انسانوں کے ایک ساتھ زندگی بسر کرنے  کے لیے  لازمی بعض شرائط میں سے ایک کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ لوگ طبقوں کی حالت میں رہتے ہیں اور مثبت و منفی ہر طرح کی انسانی پیش رفت و امکانات کو معاشرے کے اندر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلا شبہہ مملکت کا فلسفہ قوم کے ذہن میں پوشیدہ ہوتا ہے، اس نظریے کا کسی غیر ملکی کی جانب سے سمجھ سکنا ناممکن ہے۔ویسے انسانی ذہنیت کو بھی سمجھنا ایک آسان کام نہیں، اس کے  اندر زبان کے مفہوم، جغرافیہ اور مذہبی و  رسم و رواج  بھی شامل ہو تے  ہیں۔

جب ہم ماضی پر نظر دوڑاتے ہیں تو ترکوں کے مملکت کے مفہوم میں استعمال کردہ پہلا لفظ اِل یعنی  "ضلع" ہے  یہ لفظ مملکت، ملک،  اور ریاستی نظام جیسے مختلف معنوں کا حامل ہے۔ کاشغری محمود کی لغت  میں   اس کا مفہوم امن ہے۔

قدیم ترکوں کے استعمال کردہ   ضلع لفظ کی جگہ ترکوں کے قبول اسلام کے  بعد دولت   لفظ نے لے لی۔ عربی  زبان میں دولت کے معنی ؛"تبدیلی،  ایک حالت سے دوسری حالت میں ڈھلنا؛ گھومنا پھرنا؛ حاوی ہونا اور فتح سے ہمکنار  ہونا"   ہیں۔  مغربی زبانوں میں مملکت  کا مفہوم رُکنا، قیام کرنا جبکہ لاطینی زبان میں  "اسٹیٹس"  لفظ سے ماخوذ اسٹیٹ   لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لاطینی نژاد لوگ مستقل رہائش اختیار نہ کرنے والے معاشروں کے لیے ؛  جبکہ ترک۔ اسلام  نژاد لوگ غیر متحرک، امور کو نہ چلا سکنے والے میکانزم کو دولت  کے نام سے منسوب نہ کیے  جا سکنے کا اظہار کرتے ہیں۔  مثال کے طور پر قدیم یونانی زبان میں  ایک آئیڈیل  ملک کسی قبیلے  کے کھیتی باڑی  کرنے والے مقامات   پر محیط  ہوتا تھا۔ اسی دور میں  ترکوں نے "سورج ہمارا پرچم ہو  جبکہ آسمان ہماری چھت"  کی مفاہمت کو جاری رکھا۔  تاریخ کے نظریے کو زندگیوں کے استاد  قبول کیے جانے والے رومی  باشندے  اپنی مملکتوں کی روما آکتیرنا/ یعنی ابدی روم   کے نام سے صنف بندی کرتے تھے تو ترک لوگ اپنی مملکتوں کو روز ِ آخر تک قائم و دائم رکھنے  کے عقیدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دولت ِ ابدی کے نام سےبیان کیا کرتے تھے۔

دولت بن سکنے کے لیے اولین طور پر دو چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے، ان میں سے پہلی جسمانی طاقت اور دوسری جائز حیثیت۔ ان دونوں کے بیچ   جائز حیثیت   کا نظریہ کہیں زیادہ اہم ہے۔  آئینی نظام طاقت کو کس طریقے سے بروئے کار لانے  کی توضیح کرتا ہے۔  جس کا حصول مختلف طریقوں سے ممکن ہے۔ ان میں سے  ایک عصرِ حاضر میں تا حال کسی کوڈ کے طور پر اپنے وجود کو جاری  رکھنے والا  خوشی و  رسم و رواج کا نظریہ ہے۔ دین ِ اسلام سے قبل  ترک معاشرے کی نمایاں ترین  خصوصیت اپنے  رسم و رواج سے بھر پور  طریقے سے وابستگی تھی۔  ترکوں کے رسم و رواج  مملکتی نظریے سے بھی پیش پیش ہیں اور  یہ مملکت کی طاقت کی حدود کا تعین  کرتے ہیں۔ حاکمیت کی حد بندی کرنے والی اور  آئینی نظام کو پیمائش  کا آلہ بنانے والی   رسم و وراج کی  یہ مفاہمت قوانین سے وابستگی کے شعور کی روح  ہے۔  خوشی و رسم و رواج کو ریاستی نظام  چلانے والوں اور قوم کے درمیان ایک سماجی  معاہدے کی نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ملت   رسم و رواج کی ریت پر چلنے والے  اقتدار کو ہی جائز حیثیت دیتی ہے اور اس کی بیت و اطاعت  کرتی ہے۔ خوش قسمتی خدا کی جانب سے صدرِ مملکت کو عطا کردہ  ملکی باگ ڈور سنبھالنے کے اختیارات  حتی فریضے پر مبنی ہوتی ہے۔ ترکوں کے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ہی  رسم و رواج سے وابستگی  نے قوانین سے وابستگی کی ماہیت اختیار  کر لی۔  دولتِ ترک کے فلسفے  کے اہم  ترین سنگ بنیاد میں سے  ایک   عالمی مملکت کی مفاہمت ہے۔ جس کی رو سے  جس طرح کرہ ارض کائنات کے مرکز میں واقع ہے اسی طرح  ترک مملکت بھی فزیکل اعتبار سے کرہ ارض کے مرکز میں واقع ہے۔

دولتِ ترکیہ کے فلسفے کا تجزیہ کرنےو الے بنیادی متنوں میں سے ایک  کوتادگو بیلیگ  میں  حکمرانوں کی نمایاں  خصوصیت کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ جب ہم  اس متن کے مطابق   حکمرانوں کے فرائض کا خلاصہ  پیش کرتے ہیں تو  اس کے فرائض میں قوانین  جاری کرتے ہوئے ملک و قوم کے نظام  کو احسن طریقے سے بروئے کار لانا شامل ہے کہہ سکتے ہیں۔ مختصراً دولت ترک کے فلسفے میں حاکمیت کا منبع الہی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار  سے  دنیاوی ہے۔ حاکمیت  خوش قسمتی و خوشنودی کے حامل  صدر ِ مملکت  کے ہاتھ میں ہوتی ہے تا ہم اس حاکمیت کو رسم و رواج کے مطابق محدود سطح  تک ہی وسعت دیا جانا ممکن  ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل کو بالائے طاق رکھتے  ہوئے یہ کہنا ممکن  ہے کہ دولت تر ک کا تصور  ایک آئیڈیل مملکت  پر مبنی ہے۔

ایک ملت کے  مملکت و ریاست کے فلسفے کا تجزیہ کرتے  وقت ایک اہم نظریے پر بات کرنا بھی لازمی ہے   یہ نظریہ "اجنبیت " پر مبنی ہے ۔مختلف طبقوں میں  غیرے  کو اجنبی  کے طور پر دیکھنے کی سوچ حاوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ روم سے تعلق نہیں رکھتے تو  پھر آپ کو "باربیرین" عرب نہیں ہیں تو "عجمی "  کہا جاتا ہے۔ ترکوں میں اس طرز  کی نسلی بنیادوں میں "اجنبیت" کا عنصر دکھائی نہیں دیتا۔ ترک نام کا ایک دوسرا مفہوم "رسم و رواج پر پابند"   ہوتا ہے۔  اس مفہوم میں ترک  ہونے کی شرط  ان کی رسومات   سے ہم آہنگی  ہے، جن کا پابند ترک کہلا سکتا ہے۔

اس حوالے سے صدر ایردوان کی خارجہ پالیسی پر عمل  درآمد کا اگر جائزہ لیا جائے تو  اس میں اپنے نچوڑ اور رسم و رواج کی جانب واپسی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی  رسم و رواج کی گہرائی ماضی ہے اور اس پر پابند رہنا  مستقبل کا اشارہ دیتا ہے۔ اس بنا پر جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان  کی خارجہ پالیسی  دولت ترک  فلسفے کے  عین مطابق ہے اور اس نظریے کو پختگی دلانے کا پیشہ خیمہ ہے۔



متعللقہ خبریں