ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 51

تیزی سے بدلتی دنیا میں صدر رجب طیب ایردوان کا کردار

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 51

حالیہ برسوں میں علاقائی وعالمی سطح  پراہم سطح کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ہم آج کی اس قسط میں ان تبدیلیوں اور ان کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلشنز  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔۔

گزشتہ چند برسوں سے  علاقائی و عالمی سطح پر قابلِ توجہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ان تبدیلیوں کے بعد قابل ِدوام ڈھانچہ کیا ہو گا یا پھر اسے کیسا ہونا چاہیے؟ کونسا نظام علاقائی و عالمی سطح پر لاگو ہو گا؟ دراصل چین کا منصوبہ ون روڈ۔ون بیلٹ، روس کی مشرق وسطی اور مشرقی یورپ میں پالیسیاں، یورپی یونین منصوبہ اور امریکی قیادت میں لیبرل دنیا کا نظام مندرجہ بالا سوالات کا جواب تلاش  کرنے کی کوششوں کے زمرے میں آتا ہے۔

چین اور روس خشکی پر انحصار کرنے والے اور غیر جمہوری سامراجی روایات کا ورثہ ہیں۔ان کی وسعت حاصل کرنے کی کوششیں آئیڈیالوجی کے بجائے جغرافیے پر مبنی ہیں۔امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور دیگر اتحادیوں کے ہمراہ آزاد دنیا کے نظریے کو اپنایا۔ جس کا مقصددو عالمی جنگوں کا موجب بننے حالات کے دوبارہ جنم لینے کا سد باب کرنا تھا۔ اس مقصد کے تحت جمہوری ممالک کسی آزاد عالمی نظام کے قیام میں  سرگرمِ عمل ہوئے ۔ ان عوامل کو دنیا بھر میں لاگو کرنا اور اس میں شراکت ہر کس کی  رضامندی  کی شکل میں سر انجام پانی تھی۔ امن کے قیام، اقتصادی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کا قیام عمل میں لایا جانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ لیبرل دنیا  کے نظریے نے سرد جنگ کےخاتمے کے بعد سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے ساتھ ہی کہیں زیادہ طاقتوراور مضبوط تاثر دیا۔ تا ہم آج ہم جس مرحلے میں داخل ہوئے ہیں وہاں پر اس نظام کا مستقبل غیر یقنی بنتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس  نظام کو  اس سے پیشتر کبھی نہ دیکھے جانے کی سطح پر  کئی ایک چیلنجز کا سامنا ہے۔

ہماری دنیا کے بارے میں یکسانیت کے ساتھ ذکر کرنا ہر گزرتے دن مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی فریم کی تشکیل کی جدوجہد حزیمت سے دو چار ہو رہی  ہے۔ذاتی تحفط کا معاملہ بامِ عروج پر ہے، عالمی تجارت پر تازہ  مذاکرات غیر نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔سائبر کے استعمال کے حوالے  سے بہت کم اصول وضع کیے گئے ہیں، جن کا  علاقائی نظام یا پھر عدم نظام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تعین کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کی بہترین مثال  آج شام میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ جمہوریہ ترکی نے فرات ڈھال اور شاخِ زیتون کاروائیوں کے ساتھ خطے میں اپنے فرق کا واضح طور پر مظاہرہ کیا ہے۔ ترکی طویل المدت  دورانیہ میں شام میں اسد انتظامیہ، روس، امریکہ اور ایران سے کہیں زیادہ بہتر حیثیت کا مالک ہے۔ اسد انتظامیہ ایک اقلیتی نسل و مذہبی ڈکٹیٹرشپ ہے، ایران ایک غیر ملکی شیعہ قابض قوت ہے، روس، اسد اور ایران  کی حمایت  کی بنا پر علاقے میں فضائی میدان میں اپنے فوجی وجود کے علاوہ کچھ نہیں ، جبکہ امریکہ علیحدگی پسند تنظیم کی شام میں شاخ  سے تعاون کرنے کی بنا پر  علاقے میں اپنے  وجود پر سوالات سے دوچار ہے۔

دوسری جانب سے ترکی اسد مخالف  مختلف گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔ عرب اور ترک قوم ایک مشترکہ ماضی اور دینی رسم و رواج کی مالک  ہیں۔ یہ صورتحال اسد انتظامیہ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ ترکی کے مفاد میں ہو گی۔ اگر  روس اور ایران  سے موازانہ کیا جائے تو شام میں  طاقت کا استعمال کرنے کے لیے  فوجی سازو سامان کی ترسیل   کے جغرافیائی اعتبار سے  ترکی کے لیے آسان ہونے کا  کہنا بھی ممکن ہے۔ جمہوریہ ترکی اسوقت تمام تر بیرونی دباو کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں ایک آزاد پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس موقف اور پوزیشن کے معمار بلا شبہہ ترکی کے لیڈر صدر رجب طیب ایردوان ہیں۔

کوئی بھی انسان کسی دوسرے کی ہو بہو نقل نہیں ہو سکتا، لیڈر حضرات میں ایک دوسرے جیسے نہیں ہوتے۔  خاصکر عالمی تغیرات کا سامنا ہونے والی اس دنیا  کے لیے خدمات ادا کرنے کی خواہش رکھنے والے ذمہ دار سربراہان کے درمیان ان کی ذہانت، سخاوت،  صداقت  اور جسارت  کو مد نظر رکھتے ہوئے تفریق کی جاتی ہے۔ اس  مفہوم میں جمہوریہ ترکی کے صدر  رجب طیب ایردوان ایک پر کشش اور ذاتی وجاہت کے حامل  لیڈر کی حیثیت سے خطے اور پوری دنیا میں پیش پیش ہیں۔

کاریزمیٹک  کا نظریہ ماضی میں "صلاحیت" کا مفہوم رکھنے والےقدیم یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے۔  اس لفظ کو "الہی ہدیہ"  سے بھی منسوب کیا جاتا تھا۔ بعد میں اس  کو خدا کی جانب سے  بہتری لانے اور غیر معمولی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کے  لیے عطا کردہ  خوبیوں سے تعبیر کیا جاتا رہا۔ کاریزمیٹک لیڈر ، رہنما، الہام اور اعتماددلانے والا، قابل احترام، مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ  کی جانب مائل کرنے والا ، دوسرے لوگوں کی زندگیوں  میں بہتری لانے  پر توجہ دینے والا ، کسی نصب العین سے سرشار موقف کا مظاہرہ کرنے والا ایک لیڈر ہوتا ہے۔

لیڈرشپ محض کسی سیاسی جماعت کا صدر بننا نہیں ہوتا، حتی وزیر اعظم یا پھر صدر مملکت بننا بھی نہیں ہوتا۔ ایک سچا لیڈر عوام کے قریب ہونے والا اور ان کی زبان  کو اچھی طرح سمجھنے والا، ان کے مسائل پر کان دھرنے والا ایک  شخص ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کی بدولت رجب طیب ایردوان آج نہ صرف ترکی بلکہ عالمِ ترک  و اسلام  کے طاقتور ترین لیڈر ہیں۔

اسوقت ہمارا خطہ اور دنیا جیسا کہ ہم نے اوپر بھی بیان کیا ہے تبدیلی کے ایک دور سے گزر رہا  ہے۔ سستے ڈراون طیاروں، سائبر جنگ، تھری ڈائمشن والے پرنٹرز اور دیگر ایجادوں کو کسی ایک جگہ پر یکجا کرنا،  طاقت کے چند ہاتھوں  میں رہنے کے بجائے  کئی ایک حکومتوں اور غیر حکومتی اداکاروں کے درمیان تقسیم ہونے کا موجب بن رہا ہے اور بنتا رہے گا۔ آج ہم جس  مرحلے پر پہنچے ہیں اس میں لیبرل ڈیموکریسی  میں انسانوں کے سیاسی پیش رفت میں آخری نظریے کے مالک نہ ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ دنیا  میں قطعی طور پر  کامیابی سے ہمکنار ہونے والا نظام  شہریوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہونے والا اور انہیں حق بجانب عزت و احترام دینے والا ایک نظام ہو گا۔ ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ نہ نظام صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکی  میں پروان چڑھ رہا ہے۔



متعللقہ خبریں