عالمی نقطہ نظر51

کیا یورپ ٹوٹ رہا ہے ؟

عالمی نقطہ نظر51

 

Küresel Perspektif  / 51

                             AB Dağılırsa

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

حالیہ  عرصے میں  برطانیہ کے یورپی یونین کو خیر باد کہنے ،اٹلی اور بعض یورپی ممالک  میں  احتجاج،بڑھتی نسل پرستی  اور نفرت آمیز بیانات  کے ساتھ ساتھ  زرد صدرتی تحریک  کا اٹھنا یورپی یونین کے مستقبل پر انگلی اٹھاتے ہیں۔

یورپی یونین  درحقیقت دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنی  اجارہ داری ختم کرنے والے ممالک      کی طرف سے قائم ایک  اتحاد ہے  جو کہ آپسی  حملوں  سے خوف زدہ تھے ۔ یورپی یونین کے بانی ممالک    نے  اب یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ   پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد تیسری جنگ   کا امکان نہ ہی پیدا ہو تو بہتر ہوگا۔

 یورپی یونین کے  تحت    حاصل کر دہ  اقتصادی ترقی   دراصل   باہمی تعاون،استحکام اور مشترکہ اقدار  کا نتیجہ   رہی ۔

  ہیبرو یونیورسٹی میں تاریخ کے  پروفیسر یووال نوح حراری  نے گزشتہ ہفتے ترک  اخبار حریت میں  لکھا تھا کہ   یورپی یونین کی کامیابی کا راز   خطے میں امن سے  وابستہ ہے  اور اگر  یورپ ٹوٹ گیا تو یہ علاقہ میدان جنگ میں بدل سکتا ہے لہذا یورپی یونین کا  قائم رہنا  ہر لحاظ سے اہم ہے۔

 وسطی  دور  میں  یورپ ایک  باغیانہ  طرز عمل رکھتا تھا  جہاں برداشت کے مادے کی کمی تھی ۔16 ویں صدی میں پیرس میں کیتھولیک آباد تھے جہاں کسی پروٹسٹنٹ  کی آمد اس کے قتل کی وجہ بنتی تھی۔ یہی صورت حال لندن کی بھی تھی  کہ جہاں کے پروٹسٹنٹ   کسی کیتھولیک  کو زندہ نہیں چھوڑتے تھے ۔ اسی دور میں یہودیوں   کو نفرت کا سامنا کرنا پڑا اور مسلمانوں کی آمد  کو ناگوار سمجھا جاتا تھا  جس کے بر عکس   استنبول میں  تمام  مذاہب کے لوگ آپس میں اتحاد  و اخوت کے  جذے تلے  رہتے تھے ۔

 یورپی اقدار     کے معنی   جمہوری،انسانی،قانونی،مساوی ،آزادی و رواداری ،تعاون اور یک جہتی   کے اصولوں کی   حوصلہ افزائی کرنا  ہے ۔ مگر افسوس آج کے یورپ    میں ان  نظریات کی کمی   پائی جاتی ہے۔ پروفیسر حراری     کا کہنا ہے کہ یہ اقدار  اسلام   کی بہترین مثال ہیں  جنہیں یورپ نے   حال    ہی  میں اپنایا ہے  ۔ان اقدار  کو   اپنے معاشرے کا حصہ بنانے  سے یورپی یونین ایک خوشحال اور  پر امن  خطہ بن گیا  تھا ۔

 کل کی دھوپ آج کے کپڑے خشک نہیں کر سکتی  کیونکہ آج کی یورپی یونین  پرانی روایات کھو چکی ہے اور اب یہ نفرت،    نسل اور قوم پرستی  اور حقوق انسانی         کی پامالی کی اعلی مثال بن چکی ہے ۔

 اقتصادی  خدشات اور  فاشسٹ جماعتوں  کا بڑھتا اثر اس وقت یورپی یونین کے ٹکڑے کرنے  کا سبب بن  سکتا ہے جس میں غیر اصولی  اور دوہری سیاسی چالوں کا بھی عمل دخل ہے ۔ یہ نہیں بھولنا  چاہیئے کہ  مغربی  سامراجیت     کا انتہائی ظالمانہ دور یورپی یونین کے قیام کے بعد   سامنے آیا ہے  ۔

یورپی  یونین اگر ٹوٹ گئی تو کیا  یورپی ممالک   اپنی اخلاقی حدود پار کرتےہوئے غیر منصفانہ  مقابلے بازی       کی دوڑ میں سر پٹ دوڑے جائیں گے۔ یہ باور رہے کہ آج کا یورپ  روس اور امریکہ کی دھینگا مشتی میں جکڑا ہوا ہے  جو کہ چین کی اقتصادی ترقی کے بر خلاف  اپنی ناکام پالیسیوں کا رونا رو رہا ہے۔

 دور حاضر میں  یورپ میں    اعلی اقدار    کی برف مسلسل پگھل رہی ہے  جس کی جگہ نازی ازم ،نسل پرستی اور نیو فاسشٹ تحریکوں  نے  لے  لی ہے ۔جرمن چانسلر انگیلا مرکل   برد بار اور  قابل اعتبار سیاست دان  کے طور پر نظر آتی ہیں  مگر خیال رہے کہ  اگر یورپ بکھر گیا تو وہاں بسے مسلمان اور دیگر غیر  یورپی برادری  کا جینا  دوبھر  اور یورپ میں خانہ جنگی  کا ماحول برپا  ہو سکتا ہے۔

 یورپی یونین   کے ٹوٹنے سے  جمہوری   و حقوق انسانی  کی روایات  ختم ہونے سمیت  معاشرے میں انتشار  پیدا  ہو سکتا ہے  ۔

یورپ بالخصوص ،برطانیہ، فرانس ،اسپین اور اٹلی جیسے ممالک میں یورپی یونین ٹوٹنے کے بعد  علیحدگی پسند تحریکیں  زور پکڑ سکتی ہیں    جن کا نتیجہ خانہ جنگی  بن سکتا ہے۔

 لہذا  اگر یورپی یونین کا شیرازہ بکھرا  تو اس سے نسل پرستی اور نفرت آمیز   طرز عمل  کو فروغ ملے گا۔

 

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں   انقرہ کی  یلدرم با یزید یونورسٹی کے   شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل  کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں