حالات کے آئینے میں ۔ 48

حالات کے آئینے میں ۔ 48

حالات کے آئینے میں ۔ 48

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ جون 2016 میں برطانیہ کے عوام نے ریفرینڈم کے ذریعے ملک کی  یورپی یونین سے علیحدگی کے موضوع پر  اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یورپی یونین  سے علیحدگی کے نتیجے میں منعقدہ انتخابات کے بعد برطانیہ کی حکومت  نے یورپی یونین اور  اس کے دیگر 27 رکن ممالک کے ساتھ مذاکرات کئے۔ اس مرحلے کے دوران  برطانیہ کے متعدد  وزراء مستعفی ہو گئے اور مرحلے کے آخر میں برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان 600 صفحات  کا ایک علیحدگی سمجھوتہ طے پایا۔ سمجھوتے کو 25 نومبر کو طرفین کی طرف سے قبول کیا گیا جس کے متن کا 11 دسمبر کو برطانوی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں متعدد اسمبلی ممبران نے سمجھوتے کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کی منظوری نہیں دیں گے۔ نتیجتاً سمجھوتے کے لئے اکثریت  کا حصول خطرے میں پڑ  گیا ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون کا موضوع سے متعلق جائزہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی  کی تاریخ تک اگر فریقین کے درمیان سمجھوتے پر دستخط  ہو کر اس کی منظوری نہیں ہوتی تو اس صورت میں برطانیہ یورپی یونین سے سخت خروج کرے گا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے برطانیہ کی مے انتظامیہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے متن کے ذریعے  ایک  اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک نے برطانیہ سے علیحدگی  کی وجہ سے افسردگی کا اظہار کرنے کی بجائے سمجھوتہ طے پا جانے پر اطمینان کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر برطانیہ کی یونین سے علیحدگی کے بعد دیگر ممالک کی بھی علیحدگی کے سدباب کے لئے یورپی یونین  کی فراہم کردہ  سہولیات  کے ایک اہم حصے سے برطانیہ کے یک طرفہ طور پر محروم رہنے پر  توجہ دی گئی۔

یورپی یونین کے رکن ممالک میں سے جس ملک نے ایک طویل عرصے تک  بریگزٹ  سمجھوتے  کی مخالفت کی وہ اسپین ہے۔ اسپین کے جنوبی  علاقے جبل الطارق کی حیثیت  کی وجہ سے خطرہ تھا کہ اسپین کی حکومت بریگزٹ سمجھوتے کو ویٹو کر دے گی۔ اگرچہ جبل الطارق 1713 سے برطانیہ سے منسلک ہے لیکن اس کے باوجود اسپین کی حکومت علاقے پر اپنی حاکمیت  کے دعوے پر قائم ہے۔ بریگزٹ سمجھوتے  کی شقوں میں سرحدی داخلے و خروج  کے تعین کی شق جبل الطارق کے پہلو پر اسپین کو متاثر کر رہی تھی جس کی وجہ سے اسپین کے حکومت نے اپنے اعتراضات یورپی یونین کے نمائندوں تک پہنچائے اور جبل الطارق کے لئے اپنی مطلوبہ ضمانتوں کو حاصل کرنے کے بعد ویٹو  کا حق استعمال کرنے سے باز آ گیا۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی  سے پیدا ہونے والی ایک اور برّی سرحد آئرلینڈ  اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان ہے۔ دونوں علاقوں کے درمیان قطعی سرحد کے خواہش مند   نہ ہونے کی وجہ سے فریقین نے 2020 تک عبوری مرحلے کے اطلاق اور آئرلینڈ کے لئے خصوصی حل کی تلاش  کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے  عبوری دورانیے میں برطانیہ یورپی یونین  کی کسٹم یونین میں شامل ہو گا لیکن اسے یورپی یونین میں اظہار خیال کا حق حاصل نہیں ہو گا۔

برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ سمجھوتے کو  خواہ برطانوی پارلیمنٹ جیسی ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہو تو بھی عام معنوں میں یہ سمجھوتہ ایک اوّلین مثال  بن رہا ہے۔ بریگزٹ سمجھوتہ صرف برطانیہ کی یورپی یونین کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین میں داخل  یا اس سے باہر دیگر ممالک کے لئے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

اس حوالے سے ترکی اور بالقانی ممالک کے یورپی یونین  کی رکنیت کے مذاکرات  میں انجماد پیدا ہونے کی صورت میں بریگزٹ سمجھوتہ ایک مثال بن سکتا ہے اور ایک مختلف اتحاد تشکیل پا سکتا ہے۔

دوسری طرف برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدہ ہونا  متعدد جیواسٹریٹجک حوالوں سے اثر ات مرتب کرے  گا۔ مثلاً مشرقی یورپ میں روس کی  طرف سے یورپی یونین کے خلاف جاری اثر و رسوخ کی جدوجہد میں برطانیہ جیسے اہم ملک سے محروم ہونے کے بعد یورپی یونین   ماضی کے مقابلے میں زیادہ کمزور حیثیت پر آ جائے گی۔ علاوہ ازیں ایک ایسے دور میں کہ جب یورپی یونین کی فوج کا موضوع زیر بحث ہے برطانیہ جیسے یورپی یونین کے مضبوط ترین فوج کے مالک ملک کا یونین سے الگ ہونا یورپی فوج  کی سوچ کے بارے میں اندیشوں اور شبہات کو مضبوط کرے گا۔ دوسری طرف برطانیہ کی علیحدگی کے ساتھ یورپ میں طاقت کے توازن  اور اتحادوں  کی تبدیلی کا موضوع بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ یورپی یونین ایک طرف سے  روس ، افریقہ اور ترکی  کی ہمسایہ ہے  جبکہ دوسری  سے علیحدگی  کے بعد  شمال میں  برطانیہ اس کا ایک نیا ہمسایہ بن جائے گا۔

 



متعللقہ خبریں