عالمی نقطہ نظر 49

مظاہرے،مخالفت اور اقتدار

عالمی نقطہ نظر 49

عالمی نقطہ نظر49

 

Küresel Perspektif  / 49

                Gösteri, Muhalefet, İktidar Dili

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

اس بدلتی دنیا   میں ہماری زندگی مختلف تجربات سے دوچار ہے ۔ دور ماضی سے  طویل عرصے تک   جاری  یہ سلسلہ  اور تبدیلیاں  مختصر یادوں میں  محفوظ ہو گئی ہیں۔

 ماہر سماجیات  ڈیوڈ ہاروی کے بقول یہ صورت حال  وقت اور مقام      میں   تصادم کہلا تا ہے   کیونکہ آج کے اس دور میں    واقعات، تعلقات،تبدیلیاں    تیزی سے  رونما ہو رہی ہیں جو کہ  بنی نوع انسان  کی سوچ سے بالاتر ہیں۔ حتی   دور حاضر میں یہ تمام  واقعات ہماری طرز زندگی   کو  متاثر  بھی کر رہے ہیں۔

  قابل ذکر موضوع تو یہ ہے کہ   روایتی ادوار کے  مقابلے میں   آج کی دنیا کو  مختلف  ثقافتوں ،معاشروں ،اداروں  اور تنظیموں  کے درمیان رابطے کے فقدان کا سامنا ہے  کیونکہ  روایتی  تعلقات   کی خرابی ، طرز زندگی میں در پیش    مختلف مسائل    اس  غیر یقینی کی کیفیت کو اجاگر کر نے میں پیش پیش ہیں۔آج کی دنیا میں  عالمی سطح  پر  نفرتوں کا بازار گرم ہے  اور انسان     اپنی زبان کو قابو میں رکھنے    میں بھی عاجز نظر آتا ہے   جس کی وجہ سے مسائل  مزید پیچیدہ ہوتے  نظر آرہے ہیں۔

 انفرادی  و اجتماعی  ، معاشرتی،اور ریاستی  لحاظ سے  ہمارے د رمیان مشابہت یا    انفرادیت   کے تناظر میں  کس قسم  کا لب و لحجہ  اختیار کیاجائے   اس سوال کے جواب میں  بسا اوقات ہمیں نا مناسب رویوں   اور جملوں   کا خیال  رکھنا ہوگا۔

 ایک ایسی کانفرنس میں راقم کو شرکت کا موقع ملا جس میں  اسلامی ممالک کے  سابق وزرا ٫، ارکان  پارلیمان اور دانشور مدعو تھے ۔  یہ ایک  بند کانفرنس تھی  جس کے مقررین  انتہائی   تند و تیز الفاظ  کا استعمال کر رہے تھے    جس کے بعد ہال  نعروں سے بھی گونجتا رہتا تھا ۔ جب میری باری آئی تو  میں   نے اسلامی دنیا      کو درپیش مسائل  اور کرب آمیز  صورت حال  کا ذکر کیا  جن کے حل کےلیے      تحمل مزاجی   کو شرط کہا  جس  کےلیے میرے بیان کو  کافی کم پذیرائی حاصل ہوئی ۔

 اس کانفرنس سے مجھے  3 اقسام   کی طرز زبان    اور موضوعات کو سمجھنے کا موقع ملا  جن میں زبان کی شائستگی  اہم  تھی ، حتی بعض اوقات     عوامی   زبان کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے  لیکن اس کے لیے موقع محل کا خیال رکھنا ضروری ہے  دوسری  قسم مخالف طرز بیان   کی ہے جس میں   صاحب اقتدار اور حکومتی اراکان کی کھلم کھلا مخالفت  اور تنقید  کو فرض سمجھنا ضروری  ہے ۔

تیسری قسم میں  اقتدار کی زبان کا استعمال  ہے   جس میں      عوام کے درمیان اخوت و یگانگت  ،محبت و خلوص اور تعمیری  نظریات    کو اہمیت دینا شامل ہوتا ہے۔ اس طرح کی زبان میں  عوامی احساسات و جذبات کو  خاص توجہ دی جاتی ہے ۔

ان تینوں  طرز لسان   کے علاوہ   بعض  قومی مفادات  کی  بجا آوری کےلیے  بھی   مختلف لحجہ اپنایا  جا سکتا ہے۔

 

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت  بلبل  کے قلم سے پیش کیا گیا  ۔

 

 

 

 

 

 


ٹیگز: عالمی

متعللقہ خبریں