عالمی نقطہ نظر48

شرق شناسی کا قیام 2

عالمی نقطہ نظر48

عالمی نقطہ نظر48

Küresel Perspektif  / 48

                   Yerlileşen Oryantalizm 2

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 گزشتہ ہفتے ہم نے  شرق شناسی  کے مفہوم کو تبدیل کرنے    کے  نتیجے میں   غیر مغربی محققین کی طرف سے  ان ممالک  میں آباد ہو کر  ایشیائی ثقافت کو روشناس کروانے میں مددگار بننے کا  خیال ظاہر کیا تھا ۔

 واضح رہے کہ  اپنے آبائی  ملک      کے مفاد  میں کسی قسم   کی  مثبت تحقیق کیے بغیر وقت ضائع کرنے کا مسئلہ تقریباً دو صدیوں سے جاری ہے۔

اس صورت  حال پر یہ بھی   دیکھنے میں آیا ہے کہ ان محققین پر خرچ کی جانے والی رقم بھی  ضائع  ہو جاتی ہے۔

  مسئلہ تو یہ ہے مغربی ممالک جاکر تحقیق کرنے والے ماہرین وطن واپسی پر ان ممالک کے ہی گن گاتے نظر آتے ہیں۔

 ترکی پر اگر نگاہ ڈالی جائے  تو   2 صدیوں سے  ہمارے  روشن خیال مفکرین مغرب کی  تعریفوں  کے پل باندھتے نظر آتےہین کیونکہ ترقی پذیر ممالک سے مغرب کی جانب  جانا اور پھر وہاں سے  فارغ التحصیل ہونا   انفرادیت     میں شمار کیا جاتا رہا ہے  اور ان محققین کی اہمیت بھی  بڑھ جاتی ہے  یہی وجہ ہے کہ ان   ماہرین    کا معاشرے پر ڈالا برا اثر  اس  کا خمیازہ بھیانک ہوتا ہے۔

1 صدی قبل  عثمانی صدر اعظم  سعودی حلیم پاشا کا کہنا تھا کہ   دولت عثمانیہ میں دو قسم کے  مفکرین  موجود ہیں  ایک وہ جو  مغرب  سے نابلد ہیں اور دوسرے وہ جو کہ  اپنے ہی معاشرے میں بیگانے ہیں جن میں سے نقصان دہ وہ ہیں    جو  مغرب  سے آشنا ہوتے ہوئے بھی  اس معاملے میں جہالت   کا مظاہرہ  کرتے ہیں۔

 بیرونی ممالک میں طویل عرصے قیام  کے بعد ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو کہ اپنے آبائی  وطن واپسی پر اپنے معاشرے اور لوگوں   کو   نفرت آمیز نظروں سے دیکھتا ہے اور گھلنے ملنے  میں  ہمیشہ ایک فاصلہ رکھتا ہے۔

 سرکاری اداروں   سے بھی جو افراد غیر ممالک میں  اعلی تعلیم کے لیے جاتے ہیں  وہ بھی وطن واپسی پر  اگر   اپنے معاشرے کے خلاف نفرت روا رکھتے ہیں  تو یہ ان کے تعلیمی پیشے  ،معاشرے، اور  آنے والی نسلوں     کےلیے خطرناک ثابت ہوتا ہے ۔مغربی ممالک  میں سماجی علوم   کے حوالے سے نصابی تعلیم  کافی با معنی ہوتی ہے  جو کہ دیگر ممالک کے لیے بھی سود مند بن سکتی ہے لیکن  بعض ماہرین  اس تعلیم کا مفہوم غلط لیتےہوئے اسے اپنے آبائی معاشرے   کےلیے غیر موزوں قرار دے دیتے ہیں کیونکہ   مغربی  سائنسی   تعلیم میں  غیر مغربی معلومات     کو جگہ نہیں دی جاتی  ۔

بلا شبہ   بیرونی ممالک   میں حصول تعلیم کے دوران  اپنے  ملک کے مفاد میں   تحقیق کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔سرکاری ادارے ہوں  خواہ یونیورسٹی دونوں کی  طرف سے   تعلیم حاصل کرنے والوں کو  کسی طرح سے محدود کرنا  بہتر نہ ہوگا۔

  بیرونی ممالک میں تحقیق کے لیے جانے والوں کو   وہاں کی مقامی زبان   پر عبور حاصل کرنا  کافی ضروری   ہے کیونکہ  تعلیمی حلقے اس سلسلے میں واقف ہوتےہیں۔

آسٹریا  میں ایک طالب علم     ترکی سے متعلق یورپی یونین امور  اور   جرمنی میں  اق پارٹی  کے ایک رکن  ڈاکٹریٹ کر رہے تھے  جنہوں نے   تعلیم  حاصل کرنے کے بعد ترکی واپس جانے کی  خواہش کی  جن سے پوچھنے کے بعد  ان کا کہنا تھا کہ  ترکی میں     عام لوگوں کو  ماہرین کی زیادہ ضرورت   ہے   لہذا ہم اپنی تعلیمی قابلیت اور تجربات کو     ترکی کے مفاد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔سن 2017 میں امریکہ میں  میری ملاقات دو ڈاکٹروں سے ہوئی  جو کہ      صوفی  ازم    کے "کرد تحریک  پر اثرات"  اور  ترکی میں" اسلامی تحاریک"  جیسے موضوعات پر  تحقیق  کر رہے تھے   ،میں نے اُن سے کہا کہ  ان موضوعات پر   ترکی  واپسی پر   ملک کو  فائدہ نہیں پہنچ سکتا  اس کے بدلے اگر آپ امریکہ میں دین و ریاست کا تعلق اور ایوانگلیزم   جیسے موضوعات پر  اگر تحقیق  کی ہوتی تو اس کا فائدہ  ترک طلبہ  کو ضرور ہوتا ۔

  بلا شبہ  بعض  حالات میں   ترکی    سے وابستہ امور    کی تحقیق کےلیے  حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے   ،متعدد ممالک  میں  عثمانی تاریخ  اور ترک ورثے کو باقی دنیا   تک پہنچانا    ہمارے  اساتذہ کا  فرض ہے  ۔ اس کے علاوہ دیگر شعبوں کا جہاں تک سوال ہے تو  اس  میں بھی  ہمیں یہ 200 سو سالہ روایات ختم کرنا ہوگی اور  ترکی سے منسلک امور پر  تحقیق متعدد مسائل میں  معاون ثابت ہو سکے گی  بصورت دیگر  ہم مغربی کی اندھی تقلید میں اپنا تشخص کھو بیٹھیں گے۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم با یزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں