ترکی کے جدید دفاعی منصوبے 11

ترک دفاعی صنعت تیزی سے ترقیوں کی منازل طے کرتی جا رہی ہے

ترکی کے جدید دفاعی منصوبے 11

ترکی  کی دفاعی صنعت   میں اوپر تلے پیش رفت اور ترقی کا سلسلہ جاری ہے اور تقریباً  تمام ہی   مہینوں میں  نئے سے نئے منصوبوں  کو کامیابی سے ہمکنار کیا جاتا ہے  جبکہ  متعدد  کا افتتاح کیا جاتا ہے۔ ماہ  نومبر  کے پہلے دس روز  بڑی تعداد میں  نئے منصوبے پیش کیے گئے۔  یکم نومبر 2018  کو صدر رجب طیب ایردوان  کی قیادت میں  ترکی کی  علمی اور تحقیقاتی ادارے TÜBİTAK- SAGE  کے تحت  ریلوئے  لائن HABRAS کا تجربہ  پولات تبا کن سسٹم  کا تجربہ   اور لیزر  پراجیکٹ  کا  کامیاب تجربہ کیا گیا ۔  صدر رجب طیب ایردوان   نے ان تجربات کے حامل   مل گیم پراجیکٹ  کی افتتاحی تقریب   کے موقع پر خوشخبری  دیتے ہوئے  کہا کہ  چار نومبر  2018  کو مل گیم   پراجیکٹ کے تحت تیار کردہ   تیسرا  بحری جہاز برگاز  آدہ میں  ترک بحریہ کے حوالے کردیا گیا جبکہ  8 نومبر  2018 کو دفاعی صنعتی ادارے  ایس ایس بی   نے ملک کے لیے قومی  سطح پر طیارے کے انجن کو تیار کرنے   کےکام کا آغاز کردیا ہے۔  9 نومبر 2018  کو اٹھارہ ماہ بعد مکمل کیے جانے والے   50 عدد  ملی ٹینک  آلتائے   کی پیداوار سے متعلق سمجھوتے پر دستخط کردیے گئے ہیں ۔ نہایت ہی کم  عرصے میں   تیارکیے جانے والے ان  منصوبوں سے   ترکی کے دفاعی صنعت  کی   پرفارمنس  کہاں سے کہاں تک پہنچنے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

ترک حربی  امور یونین کے ٹریننگ ڈائریکٹر   طارقان زنگین  کا ترکی کے جدید دفاعی منصوبوں  سے متعلق جائزہ۔ ۔۔۔

ہابراس، پولات لیزر پراجیکٹ

 

 

 

 

 

 

صدر رجب طیب ایردوان نے قومی  ٹکنولوجی  کے انفراسٹریکچر پروگرام کو فروغ دینے  کے دائرہ کار  میں کئی ایکم منصوبوں کے پایہ تکمیل تک پہنچانے اور کئی ایک  کی افتتاحی تقریب میں شرکت  کرتے ہوئے  اہم پیغام بھی جاری کیا ہے۔ صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  " آج یہاں پر ایک دوسرے سے بڑے اہم  منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد ان کے تجربات  کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ان منصوبوں میں مقامی ٹکنولوجی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہابراس کے کام  شروع کرنے سے  دفاعی صنعت  میں   محدود پیمانے پر ہی سہی  اپنے وسائل  کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس قومی  پراجیکٹ کے ذریعے   پولات  موثر    تحفظاتی سسٹم  کو بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ اس نئے سسٹم کے تحت ترک مسلح افواج   کو نئے تیار شدہ ٹینک  دے دیے جائیں گے جو ترکی کے دفاع میں برا اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ  دفاعی صنعت میں لیزر کے استعمال  کو بھی بڑی اہمیت دی جا رہی ہےاور اس سلسلے مِں کیے جانے والے تمام ہی تجربات  بڑے کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور مستقبل میں اس  سسٹم کو   فضائیہ اور  ب بحری جہازوں  میں استعمال کیا جائے گا۔  صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں   ترکی میں   دور مار میزائلوں کی  مقامی سطح پر تیاری سے متعلق بھی خوشخبری پیش کی۔ اس نئے سسٹم   کو جس کو SİPER کا نام دیا گیا ہے  کا پہلا تجربہ  2021 میں کیا جائے گا۔

میلگم  منصوبے کے تحت  ترکی کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز  استنبول ڈاک یارڈ میں  تیار کیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

اس سلسلے کا تیسرا جہاز  بورغاز ادا  ایف 513  صدر رجب طیب ایردوان کے ہاتھوں  4 نومبر 2018 کو سمندر میں اتارا گیا۔ یہ جہاز 99٫5 میٹر  طویل 14٫4 میٹر  وسیع اور 2400 ٹن وزنی ہے    جو کہ مجموعی طور پر  6485  کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے ۔ اس جہاز کی خصوصیات میں  جنگی  سازو سامان  لے جانا  اور بحری دفاع کو مضبوط بنانا  شامل ہے ۔

 بورغاز ادا نامی یہ  بے آواز جہاز     اپنے  ایندھن سے بھرے ٹینک کی بدولت  بغیر لنگر انداز ہوئے امریکہ تک جا سکتا ہے ۔

 

 

 

 

 

مقامی طور پر   ترکی کی دفاعی صنعت دن بدن   ترقی کر رہی ہے  جس میں   قومی طیارے   کی تیاری بھی شامل ہے ۔ اس طیارے کی تیاری کےلیے دفاعی صنعت تن دہی سے مصروف ہے جسے 2030 میں بیڑے میں  شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ طیارے کا انجن تیار کرنے کےلیے  8 نومبر 2018 کو   ایک معاہدہ بھی طے کیا گیا    جس کے تحت غیر ملکی انحصار کو ختم  کرنے میں مدد ملےگی۔

 ترک بری  فوج    کے بیڑے میں  قومی ٹینک  کو  شامل کرنے کےلیے 9 نومبر 2018 کو   ایک معاہدہ طے  ہوا   جس کے تحت 250 آلتائے  ٹینکوں  کی تیاری شروع کی جائے گی  جبکہ پہلا ٹینک 18 ماہ بعد  ترک بری فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

 

 

 

 

 

 

التائے ٹینک  کی خصوصیات منفرد ہیں  جو کہ  اپنے اہداف پر ٹھیک نشانہ لگانے کا اہل ہونے سمیت  تیزی سے حرکت بھی کر سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں   یہ ٹینک کیمیائی ،زہر آلود،تابکاری اور جوہری مواد  کے خلاف بھی  مدافعت کا حامل ہے ۔        



متعللقہ خبریں