حالات کے آئینے میں ۔ 47

حالات کے آئینے میں ۔ 47

حالات کے آئینے میں ۔ 47

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ گذشتہ دنوں ترک اسٹریم گیس پائپ لائن کے زیر سمندر حصے کی تکمیل  کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان   اور  روس کے صدر ولادی میر پوتن کی شرکت سے استنبول میں  افتتاحی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب سے خطاب میں دونوں رہنماوں نے دونوں ممالک کے درمیان فروغ پاتے باہمی تعاون  پر زور دیا۔ ترک اسٹریم منصوبہ  ترکی کے توانائی کا مرکز بننے  کے منصوبوں کی طرف ایک اہم قدم دکھائی دے رہا ہے۔   آذربائیجان کی گیس کو بھی TANAP گیس پائپ لائن کی مدد سے پہلے ترکی  اور یہاں سے یورپ پہنچایا جائے گا۔ اسی طرح عراق کے پیٹرول کو بھی عالمی منڈیوں میں پہنچانے والی  جیہان پائپ لائن  کے ساتھ انرجی پالیسیوں کے حوالے سے ترکی اٹھائے گئے ہر قدم کے ساتھ اپنی حیثیت کو مضبوط بنا رہا ہے  اور اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے امکانات  میں تنوع پیدا کر رہا ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ  کے پیشِ خدمت ہے۔

دسمبر 2014 میں  روس کے صدر ولادی میر پوتن کی تجویز پر ترک اسٹریم منصوبے کا آغاز ہوا ۔ترک اسٹریم روس کے شہر آناپا سے شروع ہوتی ہے اور 930 کلو میٹر زیر سمندر حصے سے گزر کر استنبول کے مغربی علاقے کھی کھوئے تک پہنچتی ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے دئیے گئے نام ترک اسٹریم   کے ساتھ یہ پائپ لائن کُل 1100 کلو میٹرطویل ہے۔ پائپ لائن ایک دوسرے کے متوازی دو مختلف پائپ لائنوں پر مشتمل ہے۔ پہلی لائن  سالانہ 15.75 بلین مکعب میٹر قدرتی گیس کی ترسیل   کرے گی جس سے ترکی کی ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے گا جبکہ دوسری پائپ لائن کو یورپ کی طرف بڑھانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یوں ترک اسٹریم کے ذریعے کُل 31.5  بلین مکعب میٹر قدرتی گیس  کی ترسیل متوقع ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بعض یورپی ممالک ترک اسٹریم میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں لہٰذا یہ پائپ لائن 5  ذیلی شاخوں کے ساتھ 5 مختلف ممالک میں پہنچ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سربیا کے وزیر توانائی آنتِچ نے جاری کردہ بیانات میں کہا ہے کہ ترک اسٹریم  کے سربیا پہنچنے کی صورت میں ہم یورپ کی توانائی کی سلامتی کی ضمانت  دیں گے۔ آنتچ نے کہا کہ 10 سے 15 بلین مکعب میٹر روسی گیس کے براستہ ترکی بلغاریہ، سربیا، ہنگری اور آسٹریا   پہنچنے کا احتمال  توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ  یہ منصوبہ گیس پر منحصر اقتصادیات  کو ترقی  کے امکانات فراہم کر رہا ہے۔ مذکورہ ممالک ترک اسٹریم سے منسلک ہو کر گیس ٹرانزٹ کے ذریعے اہم پیمانے پر منافع بھی حاصل کریں گے۔

دوسری طرف یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ ترکی کے بعد ترک اسٹریم کون سی گزرگاہ سے  یورپ پہنچے گی۔ خاص طور پر یونان اور بلغاریہ کے درمیان اس موضوع پر رقابت پائی جاتی ہے۔ یونان کے وزیر اعظم الیکسز چپراس نے ترک اسٹریم کے یونان  سے گزرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ترک اسٹریم کے یونان سے گزرنے کے لئے ہم برسلز میں ایک فعال کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں"۔

ترک اسٹریم اگر ایک طرف ترکی کو توانائی کا مرکز بننے کے ہدف کی طرف آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری طرف روس کو اپنی گیس براہ راست بالقانی ممالک کے ہاتھ فروخت کرنے کا بھی امکان پیدا  کر رہی ہے۔ گذشتہ دنوں میں متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں پیش رفت ہوئی۔ صدر رجب طیب ایردوان نے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کی حیثیت سے ہم اپنے تجارتی حجم کو 100 بلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی ذرائع ابلاغ نے بھی ایردوان اور پوتن کے درمیان مذاکراتی ٹریفک کی طرف توجہ  مبذول کرواتے ہوئے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا تھا۔

اگرچہ توانائی کے حوالے سے ترکی اور روس کے باہمی تعلقات تقویت پا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مسائل بھی  موجود ہیں۔ روس کا کریمیا کا الحاق کرنا، یوکرائن میں جاری جنگ، کرِم تاتاروں کے لئے روس کی پالیسیاں اور شام میں اس کی مختلف پوزیشنیں  دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے ایسے موضوعات ہیں کہ جن کا حل ہونا ضروری ہے۔ خاص طور پر شام میں  دونوں ممالک آستانہ  مذاکرات اور سوچی  معاہدے کے ذریعے خواہ کیسے ہی مل کر حرکت کرنے کی کوشش کیوں نہ کر رہے ہوں بعض بنیادی فکری اختلافات مسائل پیدا کر رہے ہیں۔



متعللقہ خبریں