عالمی نقطہ نظر 46

یورپ اور روش خیال مسلمان

عالمی نقطہ نظر 46

عالمی نقطہ نظر 46

 

Küresel Perspektif  / 46

            Avrupa Müslüman Aydınlar Kongresi

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 

 

 اسلام سے وابستگی   کے حوالے  سے گزشتہ پروگرام میں ہم نے  یورپ  کے بعض  مصنفین  اور ممالک  کا اس بارے میں موقف بیان کیا تھا   جنہوں نے  بعض  قوانین کو اپنے لیے  ایک مسئلہ قرار دیا اور اس پر بحث شروع کر رکھی ہے۔  دراصل اس طرح کی قانون سازی  کو بعض مسلمانوں کی طرف سے   قبول بھی  کیا گیا ہے  اگر ایسا ہے تو  امید کی  جا سکتی ہے کہ  مسلمان  اپنے مسائل پر توجہ دیتےہوئے  اپنی آواز کو بلند کر سکتے ہیں۔

 بلا شبہ  مغرب  میں آباد  مسلمان  وہاں درپیش مسائل پر پوری طرح آگاہ ہیں  جن میں  ایک روشن خیال  مسلم کانگریس  کا قیام  قابل ذکر ہے ۔

  تبدیلیوں کے اس  عالمی دور میں  سامراجیت  کی ہوس میں   شامی جیسے ممالک کی صورت حال ابتر کر  دی گئی  جہاں سے دنیا کو مہاجرین  کی آباد کاری کا مسئلہ در پیش ہو گیا ہے۔  یہ صورت حال  پُر تشویش ، خوف  اور رد عمل کا باعث بنی ہے     لہذا امید ہے کہ    اس طرح    کی کانگریس ان بے آسرا مہاجرین  کی آواز سننے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔

 اس کے تحت یورپ میں بسے   روشن خیال مسلمانوں نے ایک پلیٹ فارم   تشکیل دیتےہوئے سالانہ  سطح پر  کانگریس منعقد کرنے کا  راستہ  اپنایا ہے  جو کہ  پیرس،لندن،برلن اور برسلز جیسے شہروں میں منعقد ہوگی ۔

 اس کانگریس  کے قیام سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ مسلمانوں کو درپیش مسائل  پر بھی غور  کرنے میں مدد ملے گی  جن میں  دہشتگردی ،نسل پرستی ، آزادی اظہار   ،تعلیم،خاندانی امور،نوجوانوں کے مسائل اور منشیات  وغیرہ  شامل ہونگے۔

 اس کانگریس میں روشن خیالوں کے علاوہ     منعقدہ شہر   کے  ناظمین، ملکی صدر،وزیراعظم  اور دیگر اعلی  سرکاری حکام    کو بھی مدعو  کیا جائے گا جس سے ان مسائل کو بہتر نتیجہ  ملنے   کی امید پیدا ہوگی ۔

 

 کانگریس کے سالانہ قیام کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیاجائے   گا تاکہ   مسائل کے حل  کو ایک آواز کی شکل  میں دنیا کے سامنے پیش کرتےہوئے ان کا فوری حل تلاش  کیا جا  سکے ۔

 بلا شبہ  اس طرح کی  کانگریس کا انعقاد دینی شخصیات، سماجی تنظیموں  کے نمائندوں  ،کاروباری ،ثقافتی اور سیاسی  شخصیات  کی شرکت سے بھی  ممکن ہو سکتا ہے ۔ دوسری جانب سے  اس طرح   کی کانفرنسوں میں  مدعو مقررین  دینی، سماجی،  نفسیاتی ،سیاسی ،اقتصادی اور ثقافتی  موضوعات پر   روشنی ڈال سکیں گے  جس سے فائدہ ملنے کی بھرپور توقع ہے ۔

 یورپ میں بسے    روشن خیال مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ انہیں ایک پلیٹ فارم  پر یکجا کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے  جو کہ بعض  نجی محافل یا تقریبات میں   علاقائی ،ملکی یا دینی مسائل  پر بحث کرتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے مسائل   کا حل  صرف     آباد ممالک اور اس سے وابستہ  تنظیموںک ے ذریعے  تلاش کرنے کی  کوشش کی ۔ امید ہے کہ یہ کانگریس اب مسلمانوں کے تمام مسائل    کا احاطہ کرتےہوئے بروقت نتائج میں معاون ثابت ہوگی ۔

  اس وقت  کا مسلمان   نظریاتی ،نسلی،مذہبی جماعتوں میں خود کو بانٹےہوئے ہے جو کہ  مسائل کے خاتمے کے بجائے  ان میں مزید  پیچیدگی پیدا کر رہا ہے۔

 دیگر جانب سے  اس طرح کی کانگریس      مسلمانوں کی معرفت سے   بعض اہم شخصیات کو سامنے   آنے کا موقع دے گی  جبکہ دوسری جانب  سے  یہ روشن خیال مسلمانوں کو اپنے مسائل سے واقفیت پیدا کرنے   میں  مدد دے سکے گی ۔

 جن ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے  انہیں خود کو در پیش مسائل  اور اس کے حل  کی کوششوں کو بعض طاقتیں  ناکام بنانے میں مصروف نظر آتی ہیں جس کے سد باب کےلیے ایسی کانگریس کا انعقاد وقت کی ضرورت بن چکا ہے    اور جن میں  مقامی  انتظامیہ کا بھی بھرپور تعاون حاصل ہونے کا امکان  نظر آتا ہے۔

  یہ درست ہے کہ ماضی  میں   اہل مغرب  دیگر معاشروں کے ساتھ   یکجا  رہنے   سے ناواقف  رہے ہیں  جس کی وجہ سے وہاں آباد ہونے  والے دیگر نسلی و مذہبی گروہوں     سے انہیں ہمیشہ   ایک بلا وجہ کا خوف  اور   خدشات لاحق رہے  لہذا یہ کانگریس ان  خدشات اور وسوسوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر ےیگ ۔

 اس طرح کی کانگریسوں کا انعقاد  یورپ تک محدود نہیں  بلکہ  ایسے خطوں میں بھی  ہونا چاہیئے کہ جہاں غیر ملکی  مسلمان بستا ہے ۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم با یزید یونیورسٹی کے  شعبہ  سیاسی علوم سے وابستہ   پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 



متعللقہ خبریں